ہمارا ڈی این اے ایک ہے؛ طالبان وزیر نے بھارت کیساتھ گٹھ جوڑ کو خود بے نقاب کردیا
بھارت اور طالبان کے گٹھ جوڑ سے کون واقف نہیں لیکن اب اس بات پر خود افغان وزیر نے مہر ثبت کردی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کی طالبان حکومت کے وزیر زراعت، آبپاشی و لائیو اسٹاک مولوی عطاء اللہ عمری وفد کے ہمراہ بھارت پہنچے ہیں۔
اپنے پہلے دورۂ بھارت میں پرتپاک استقبال پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے طالبان وزیر نے کہا کہ بھارت آکر انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنے ہی لوگوں اور اپنے ہی ملک میں موجود ہوں۔
طالبان وزیر برائے زراعت مولوی عطا اللہ نے مودی سرکار کی محبت میں ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے یہاں تک بھی کہہ دیا کہ ہمارا (بھارت اور طالبان) کا ڈی این اے بھی ایک ہے یعنی یہ دونوں ایک سکے کے دو رخ ہیں۔
مولوی عطاء اللہ عمری کے اس بیان پر پریس کانفرنس میں بیٹھے بھارتی حکام نہ صرف زیر لب مسکراتے رہے بلکہ تائید میں گردن بھی ہلاتے رہے۔
طالبان وزیر کا شاید یہ گمان ہے کہ وہ اس طرح کی باتیں کرکے بھارت سے مالی و تجارتی فوائد حاصل کرلیں گے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ بھارت نے تاحال طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
#WATCH | Delhi | Afghanistan's Minister of Agriculture, Irrigation and Livestock, Mawlawi Attaullah Omari, says, "This is my first trip to India...From the very first day I landed in India, I received a warm welcome from the Indian government, the Minister of External Affairs,… pic.twitter.com/67rxTYkYMQ
— ANI (@ANI) July 10, 2026
حالانکہ چند برسوں کے دوران بھارت اور طالبان حکومت کے درمیان سفارتی رابطوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ نئی دہلی نے کابل میں اپنا تکنیکی مشن دوبارہ فعال کیا لیکن اب تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔
بھارت اور طالبان کے درمیان بڑھتی ان قربتوں پر خطے کے ممالک نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کیوں کہ افغان سرزمین ہمسائیہ ممالک کی سلامتی کے خلاف استعمال ہورہی ہے۔
ہمسائیہ ممالک دہشت گردوں کی پشت پناہی اور انھیں پناہ دینے پر طالبان حکومت سے متعدد بار احتجاج کرتے ہوئے وہ وعدہ یاد کراچکے ہیں جس میں طالبان نے افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کی سلامتی کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
مودی سرکار کی طرح طالبان کی حکومت میں بھی اقلیتوں اور خواتین کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔