امریکا نے اپنے دو طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب پہنچا دیے
امریکا نے یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش نامی طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب تعینات کر دیے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق اس نگرانی کا مقصد مقصد خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانا، تجارتی جہازوں کے تحفظ کو مضبوط بنانا اور ضرورت پڑنے پر ایران پر عسکری و سفارتی دباؤ بڑھانا ہے۔
بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں نے بتایا کہ دونوں امریکی کیریئر اسٹرائیک گروپس خلیجِ عمان میں پہنچ چکے ہیں جہاں سے وہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں ہونے والی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھ سکیں گے۔
یہ آبی گزرگاہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ دنیا میں سمندر کے راستے منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
اگرچہ امریکی حکام نے کسی ممکنہ فوجی کارروائی کی تصدیق نہیں کی تاہم خطے میں جنگی اثاثوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہوچکی ہے اگرچہ سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے دروازے بدستور کھلے ہیں۔
اس بیان کے بعد امریکی افواج نے خلیجی پانیوں میں آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایرانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے تھے جس میں جانی اور مالی نقصان بھی ہوا۔
جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈّوں پر میزائل حملے کیے جس کے بعد پورے خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے مختلف سمندری علاقوں میں امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز تعینات ہیں اور امریکی افواج اپنے مشن کے مطابق معمول کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جب امریکی حکام سے یہ پوچھا گیا کہ آیا بحری قوت میں یہ اضافہ ایران کے خلاف ممکنہ بحری ناکہ بندی کی تیاری ہے تو سینٹ کام نے آپریشنل معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔