عبدالستارایدھی کی انسان دوستی

ہر پانچ سو کلومیٹر پر مفت اسپتال قائم کرنا ایدھی صاحب کا خواب تھا

تہذیب یافتہ معاشروں میں بے سہارا لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا عمل باعث فخر سمجھا جاتا ہے، جب کہ ہمارے معاشرے میں ہر چیز کو سرمائے کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

یہاں بہت سے لوگ انسانیت دوست کاوشوں کی تعریف تو فخر سے کرتے ہیں، لیکن خود آگے بڑھ کر عملی اقدام اٹھانے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں، اگر پاکستان پر نظر ڈالی جائے تو یہاں ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں، جن میں برصغیر کی تقسیم سے قبل کے دور کی شخصیات بھی شامل ہیں، جنہوں نے نہ صرف دوسروں کی مالی معاونت کی بلکہ عوامی مفاد کے لیے مختلف ادارے بھی قائم کیے۔

انھوں نے عوام کی بہبود کا خیال رکھا اور اسکول، کالج اور اسپتال قائم کیے۔ غریبوں اور یتیموں کے لیے تعمیر کیے گئے آشرموں اور پناہ گاہوں پر غور کرنے اور ان مثالی اداروں کو یاد کرنے پر انسان ماضی پر فخر، حال پر افسوس اور مستقبل کے حوالے سے مایوسی کے احساس کے سوا کچھ محسوس نہیں کر پاتا۔

ملک میں اس وقت جو صورت حال ہے، خاص طور پر معاشرے میں فرد کا جو کردار ہوتا ہے، وہ ایسا لگتا ہے جیسے غائب ہو گیا ہے۔ ایسے ماحول میں ہمیں اُس شخصیت کی یاد بار بار آتی ہے، جس کا نام عبدالستار ایدھی ہے۔جولائی کے مہینے میں اس عظیم شخصیت کی برسی آتی ہے۔

ایدھی صاحب 1928 میں جوناگڑھ کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور ان کے والد کپڑے بیچنے کا کام کرتے تھے۔ جب ایدھی گیارہ برس کے تھے تو ذیابیطس (شوگر) کے باعث ان کی والدہ کو فالج کا دورہ پڑا۔

اس دوران انھوں نے خود کو اپنی والدہ کی دیکھ بھال کے لیے وقف کر دیا۔ایدھی صاحب کا گاؤں بانٹوا گجرات میں جوناگڑھ کے قریب واقع تھا،اس وقت وہاں کی آبادی میمن برادری سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ دھوبی واڑہ (دھوبیوں کے محلے) میں رہائش پذیر تھے۔ جب وہ سات برس کے ہوئے تو ان کا خاندان دھوبی واڑہ چھوڑ کر دوسرے محلے میں منتقل ہو گیا۔

عبدالستار ایدھی کو تعلیم میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی اور وہ زیادہ تر وقت کھیل کود میں گزارتے تھے۔ تاہم، جب ان کے کلاس ٹیچر نے انھیں مانیٹر مقرر کیا تو ان میں قیادت اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ چونکہ ان کے والد کاروبار کے سلسلے میں اکثر گھر سے باہر رہتے تھے، اس لیے ان کی پرورش زیادہ تر ان کی والدہ نے کی۔

چوتھی جماعت کے بعد انھوں نے اسکول چھوڑ دیا۔ گیارہ سال کی عمر میں انھوں نے حاجی عبداللہ نامی کپڑے کے تاجر کی دکان پر پانچ روپے ماہانہ تنخواہ پر کام شروع کیا۔ وہ کپڑے کی گٹھڑیاں اپنی پیٹھ پر اٹھا کر گھر گھر فروخت کرتے اور دکان کا انتظام بھی سنبھالتے تھے۔

کچھ عرصے بعد ان میں دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوئی اور انھوں نے اسکول میں دوبارہ داخلہ لے لیا۔ انھوں نے پندرہ سال کی عمر میں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ کم عمری ہی سے وہ گجراتی اخبارات پڑھتے تھے۔

بمبئی سماچار کے ذریعے وہ مارکس اور لینن کے نظریات سے روشناس ہوئے اور ہندوستان کی تحریک ِ آزادی کا بھی مطالعہ کیا۔ میکسم گورکی کے ناول ’’ماں‘‘ (Mother) نے ان کی سوچ پر گہرا اثر ڈالا، اس کتاب نے ان کے اندر عملی اقدام کا جذبہ پیدا کیا اور ان کے فکری افق کو وسعت دی۔

1957 میں، جب کراچی میں فلوکی وبا پھیلی، جس کو ’’ایشیائی فلو‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اس کے نتیجے میں کئی لوگوں کی جانیں گئیں، تو اس واقعے نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ انھوں نے متاثرہ افراد کو پناہ دینے کے لیے شہر کے باہر خیمے لگائے اور اپنی بساط کے مطابق ان کی خدمت کی۔

جلد ہی کراچی کے مخیرحضرات نے انھیں مالی معاونت فراہم کی۔ اس کے بعد انھوں نے ایک ڈسپنسری اور ایمبولینس سروس کا آغاز کیا، اور خواتین کے لیے زچگی کا ایک مرکز بھی قائم کیا۔ عالمی ذرائع اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، ایدھی فاؤنڈیشن گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے سب سے نمایاں فلاحی اداروں میں شمار ہوتی ہے۔

یہ ادارہ ملک بھر میں ایمبولینس سروس، اسپتالوں، زچگی مراکز، یتیم خانوں، معذور افراد کے رہائشی مراکز اور قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں سمیت وسیع پیمانے پر سماجی خدمات انجام دیتا آرہا ہے۔ گنیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس تنظیم کا اعزاز رکھتی ہے،جو اس کی فلاحی خدمات کے عالمی اعتراف کا واضح ثبوت ہے۔

ایدھی صاحب اس معاشرے کے لیے ایک ایسے طبیب تھے، جن کے پاس کسی طبی درس گاہ کی کوئی سند تو نہیں تھی، مگر وہ بے شمار لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنے والے مسیحا تھے، اگرچہ ان کی مادری زبان گجراتی تھی، لیکن وہ اس ملک کی تمام زبانوں سے محبت کرتے تھے۔

انھوں نے اپنے ایک انٹرویو میں ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، ان کے بقول ایک مرتبہ کسی تقریب میں لاڑکانہ کی طرف سے جارہے تھے، ڈاکوؤں نے اس گاڑی کو روک دیا، جس میں ایدھی صاحب خود سوار تھے۔

ان ڈاکوئوں نے تمام مسافروں سے سامان اور رقم لوٹ لی، جب ان کے سربراہ کی نظر ایدھی صاحب پر پڑی تو اس نے انھیں پہچان لیا اور پوچھا،’’ کیا آپ ایدھی ہیں؟ ‘‘ایدھی صاحب کی جانب سے ’’ہاں‘‘ میں جواب دینے کے بعد ڈاکوؤں نے نہ صرف لوٹی ہوئی تمام نقدی رقم اور سامان واپس کر دیا بلکہ انھیں کچھ رقم پیش کرنے کی کوشش بھی کی۔

ایدھی صاحب نے وہ رقم لینے سے انکار کر دیا۔ اس پر ڈاکو نے کہا کہ جب بھی پولیس ڈاکوؤں کو ہلاک کرتی ہے،تو انھیں آپ دفناتے ہیں، لیکن ایدھی صاحب نے وہ رقم ان سے نہیں لی۔ یہ واقعہ ایدھی صاحب کے کردار کا منہ بولتا ثبوت تھا، جس نے سندھ کے ایک ڈاکو کو بھی ان کے احترام پر مجبور کر دیا۔

2015 میں بھارتی حکومت کی جانب سے ایدھی فاؤنڈیشن کے لیے ایک کروڑ (دس ملین) بھارتی روپے کی امداد کا اعلان کیا گیا، جس کی وجہ بھارتی بچی گیتا کی وطن واپسی میں ایدھی فاؤنڈیشن کا اہم انسانی کردار تھا، تاہم، ایدھی صاحب نے یہ رقم قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ان کا موقف تھا کہ ایدھی فاؤنڈیشن حکومتی امداد قبول نہیں کرتی، بلکہ عوام کی جانب سے دیے گئے عطیات ہی اس کی فلاحی سرگرمیوں کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ اسی طرح ایدھی صاحب نے جاپانی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی امداد قبول کرنے سے بھی انکار کیا تھا۔

ایدھی صاحب اس بات پر پختہ یقین رکھتے تھے کہ دولت صرف ضرورت مندوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جانی چاہیے۔ وہ فلاحی خدمات کے دوران کھلے آسمان تلے سونے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے۔ چاہے دور دراز کے ویرانے ہوں یا بنجر صحرا، ان کا خدمت کا سفر کبھی نہیں رکا۔ہر پانچ سو کلومیٹر پر مفت اسپتال قائم کرنا ایدھی صاحب کا خواب تھا۔

امید ہے کہ ان کے پیروکار اور جانشین مل کر ان کے خواب کو پایہ تکمیل تک ضرور پہنچائیں گے،جس کی ایک مثال کراچی کے قدیم علاقے لیاری میں قائم وہ چھوٹا اسپتال ہے، جہاں پسماندہ اور غریب افراد کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

تاریخ سے واقف لوگوں کو یاد ہوگا کہ جب تشدد کا شکار ہونے والے سیاسی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں لاوارث سمجھ کر پھینک دی جاتی تھیں، تو ایدھی صاحب ہی انھیں دفناتے رہے ہیں۔انقلابی رہنما شہید نذیر عباسی کی آمرانہ دور میں تشدد سے ہلاکت ہوئی تو ان کی لاش ایدھی صاحب کے سپرد کی گئی، ایدھی صاحب نے سخی حسن میں انھیں دفنایا تھا،اگر ایدھی صاحب نہ ہوتے تو شاید ہمارے پاس نذیر عباسی شہید کی کوئی یادگار نہیں ہوتی۔

اس کے برعکس، حسن ناصرشہید کو عقوبت خانے میں قتل کیا گیا، ڈرکے مارے ان کی وارثی کرنے والا کوئی نہیں تھا، اس لیے اب صرف ان کا نام ہی باقی ہے، اگر اس وقت ایدھی صاحب لاہور میں موجود ہوتے تو بلاشبہ وہ کہتے کہ یہ ’’ میرا حسن ناصر ہے، اسے میرے حوالے کر دو۔‘‘ شاید حسن ناصر کی والدہ اپنے ملک خالی ہاتھ نہ لوٹتیں۔

ایدھی صاحب نے اپنی پوری زندگی غربت کے خاتمے، انسانیت کی خدمت اور محروم طبقات کی مدد کے لیے وقف کر دی۔ وہ مذہب، نسل یا کسی بھی امتیاز سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت پر یقین رکھتے تھے اور انتہا پسندی و جبر کے سخت مخالف تھے۔

عبدالستار ایدھی 8 جولائی 2016 کو کراچی میں انتقال کر گئے اور ان کی آخری آرام گاہ ایدھی ولیج میں ہے، اگرچہ وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کا فلسفہ خدمت اور انسان دوستی کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔ بعض لکھاریوں کے مطابق وہ سماجی انصاف کے تصورات سے بھی متاثر تھے۔ ایدھی صاحب کی زندگی انسانیت کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے،ہم ہمیشہ ایدھی صاحب کو خراج تحسین پیش کرتے رہیں گے، جب بھی ہم انسانی خدمت، ہمدردی اور بے لوث قربانی کی راہ پر گامزن ہوں گے، تو جدوجہد سے جڑا ہوا، ان کی زندگی کا یہ پیغام ہمارے لیے مشعل راہ ثابت ہوگا۔

Load Next Story