قبضہ مافیا: ریاست کے اندر ایک اور ریاست
کراچی ایک شہر نہیں، پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ یہ وہ شہر ہے جو ملک کی معیشت کو سانس دیتا ہے، بندرگاہوں کو حرکت دیتا ہے، صنعتوں کو طاقت دیتا ہے اور کروڑوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے، مگر افسوس، آج یہی شہر ایک ایسے بحران کی گرفت میں ہے جہاں صرف زمینوں پر نہیں، قانون، انصاف اور ریاستی اختیار پر بھی قبضہ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ قبضے کیوں ہو رہے ہیں؟
اصل سوال یہ ہے کہ آخر ایک ایسا منظم نظام کیسے وجود میں آیا، جہاں ایک عام شہری اپنے ہی گھر، اپنی ہی زمین، حتیٰ کہ اپنی شناخت کے تحفظ سے محروم ہو گیا؟
کراچی میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران غیر قانونی آبادیوں، تجاوزات اور زمینوں پر قبضے کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق شہر میں ہزاروں ایکڑ سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیرات قائم ہو چکی ہیں، جب کہ لینڈ ریکارڈ کے تنازعات عدالتوں پر ایک مستقل بوجھ بن چکے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں زمینوں کے تنازعات مجموعی عدالتی مقدمات کا تقریباً 50 فیصد تک حصہ بناتے ہیں۔یہ صرف قانونی مسئلہ نہیں، بلکہ معاشی اور سماجی بحران بھی ہے۔ماہر ِ معیشت کے مطابق ’’جب کسی ملک میں جائیداد کا تحفظ کمزور ہو جائے تو سرمایہ کاری، شہری اعتماد اور حکمرانی تینوں کمزور پڑ جاتے ہیں۔‘‘کراچی میں یہی ہو رہا ہے۔
قبضہ مافیا آخر اتنا طاقتور کیوں ہے؟
یہ مسئلہ صرف چند جرائم پیشہ افراد کا نہیں۔
یہ ایک ’’سسٹم فیلئیر‘‘ہے۔قبضہ مافیا وہاں طاقتور ہوتا ہے جہاں،کمزور لینڈ ریکارڈ سسٹم،جعلی فائلیں اور ڈبل الاٹمنٹ،سیاسی سرپرستی ،کارروائی میں رکاوٹ، کرپشن،غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ،سست عدالتی نظام،متاثرین کی مایوسی،غربت اور ہاؤسنگ بحران،غیر قانونی بستیوں میں اضافہ۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بڑے شہروں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور رہائشی بحران نے غیر قانونی قبضوں اور کچی آبادیوں کو فروغ دیا ہے۔
جب ریاست شہریوں کو بنیادی رہائش فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ’’غیر رسمی نظام‘‘جنم لیتے ہیں اور یہی خلا مافیا بھر دیتا ہے۔
ایک شہری کی کہانی… جو صرف اس کی نہیں،گلشن اقبال کے ایک بزرگ شہری نے بتایا’’میں نے اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی لگا کر پلاٹ لیا تھا۔ ایک دن معلوم ہوا کہ میری فائل کسی اور کے نام منتقل ہو چکی ہے۔ میں عدالتوں کے چکر لگا رہا ہوں اور قابض وہاں رہ رہا ہے۔‘‘
یہ صرف ایک فرد کا المیہ نہیں۔یہ اس ریاستی کمزوری کی علامت ہے جہاں اصل مالک ثبوت ڈھونڈتا رہ جاتا ہے اور قبضہ کرنے والا اثر و رسوخ۔
ریاستی خاموشی یا ادارہ جاتی کمزوری؟یہاں سوال کسی ایک ادارے کا نہیں۔یہ پورے حکومتی ڈھانچے کی ناکامی کا سوال ہے۔
جب ایک عام شہری پولیس اسٹیشن جاتا ہے تو اس سے ’’درخواست‘‘لی جاتی ہے،جب کہ قبضہ مافیا آتا ہے تو اسے ’’راستہ‘ ‘ دیا جاتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں عوام کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔سیاسیات کے ماہرین کہتے ہیں۔’’ریاست صرف سرحدوں سے نہیں، انصاف کے نفاذ سے مضبوط ہوتی ہے۔‘‘
اگر قانون کمزور ہو جائے تو معاشرہ طاقتور اور کمزور طبقات میں تقسیم ہو جاتا ہے، اور پھر انصاف نہیں، اثر و رسوخ فیصلے کرتا ہے۔
اس تناظر میں اسلامی تعلیمات کیا کہتی ہیں؟اسلام میں کسی کی زمین یا حق پر ناجائز قبضہ انتہائی سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔’’جو شخص کسی کی زمین کا ایک بالشت بھی ظلم سے لے گا، قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔‘‘(صحیح بخاری)
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے۔
’’اور ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔‘‘(سورۃ البقرہ: 188)
یہ صرف مذہبی احکامات نہیں، بلکہ ایک مکمل سماجی انصاف کا نظام ہے،مگر افسوس، آج زمین صرف خریدی نہیں جا رہی… نگلی جا رہی ہے۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟قبضہ صرف زمین پر نہیں ہوتا۔
قبضہ اس وقت خطرناک بنتا ہے جب:قانون پر اثر و رسوخ حاوی ہو جائے،ادارے سیاسی دباؤ میں آ جائیں،انصاف سست اور مہنگا ہو جائے،شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے اور خاموشی معمول بن جائے۔
اصل مسئلہ ’’قبضہ مافیا‘‘نہیں…اصل مسئلہ وہ خلا ہے جہاں ریاست کمزور اور غیر رسمی طاقتیں مضبوط ہو جاتی ہیں۔
حل کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق اس بحران سے نکلنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
1۔ ڈیجیٹل اور شفاف لینڈ ریکارڈ سسٹم
2۔ قبضہ مافیا کے خلاف غیر سیاسی اور بلاامتیاز کارروائی
3۔عدالتی اصلاحات اور فوری فیصلے
4۔ شہری منصوبہ بندی اور سستی رہائش کی فراہمی
5۔ پولیس اور بلدیاتی اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرنا
دنیا کے کئی ممالک نے جدید لینڈ مینجمنٹ، GIS ٹیکنالوجی اور شفاف رجسٹریشن سسٹمز کے ذریعے ایسے مسائل پر قابو پایا۔ پاکستان بھی اگر سنجیدگی دکھائے تو یہ ناممکن نہیں۔
ایک آخری سوال۔
جب ایک شہری اپنے ہی گھر کے کاغذات ہاتھ میں لیے دربدر پھرے۔
جب عدالتوں میں سالہا سال انصاف نہ ملے۔
جب مافیا طاقتور اور قانون کمزور دکھائی دے۔
تو سوال صرف زمین کا نہیں رہتا۔
پھر سوال یہ بنتا ہے۔
’’کیا یہ صرف زمینوں پر قبضہ ہے یا ریاست کی کمزور ہوتی ہوئی رِٹ پر؟‘‘
کیونکہ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ ریاستیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب ان کی زمین چھینی جائے،بلکہ اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب عوام کا اعتماد چھین لیا جائے۔