دو شاعرات اور تین شعری مجموعے
کئی دنوں سے میں ممتاز و معتبر شاعرہ انجم عثمان کے دو شعری مجموعوں بعنوانات ’’ناشنیدہ‘‘ اور ’’العطش‘‘ کا بے حد ذوق و شوق کے ساتھ مطالعہ کر رہی ہوں اور حیرانگی کے سمندر میں غوطہ زن ہوں کہ انجم عثمان نے سمندروں سے موتی چن کر اپنی شاعری کے باطن میں سمو دیے ہیں ،رنگ برنگ چمکتے دمکتے نگینے قاری کو لفظوں کی معنویت اور حسن سے آشکار کر رہے ہیں۔
ان دو کتابوں کے ساتھ ساتھ اگر میں ایک اور شاعری کی کتاب کو اپنے دل و دماغ کی روشنی سے منور کروں تو یہ بات شاعرہ اور قارئین کو ہرگز گراں نہیں گزرے گی تو میں جس مجموعے کا تذکرہ کرنے جا رہی ہوں وہ ہے ’’ہمیشہ تم کو چاہیں گے‘‘ تخلیق کار سمن شاہ ہیں جو فرانس میں مقیم ہیں۔
گزرے سالوں کی بات ہے جب کیفے گلرنگ کے سامنے کچھ باہر سے آئی ہوئی شعر و ادب سے تعلق رکھنے والی خواتین کرسیوں پر براجمان تھیں اور ہم بھی اتفاق سے ان سے علم و ادب کے حوالے سے گفتگو کرنے میں محو تھے، تو بہت پیاری اور خوش مزاج و خوش لباس، خوش لحن شاعرہ سمن شاہ نے بہت محبت کے ساتھ کتاب کا تحفہ دیا تھا، پھر ڈھیروں مصروفیت کے باعث مذکورہ کتاب کتابوں کے ڈھیر میں دب گئی اور یہ بہت مدت بعد اس وقت ملی ہے جب ہم اپنی ہزاروں کی تعداد میں کتب کو مختلف لائبریریوں اور قدردانوں کی خدمت میں بے لوث و بے غرض پیش کر رہے تھے تاکہ یہ ضایع ہونے کی بجائے پڑھی جائیں۔
تو بس کتابوں کی چھانٹی کے دوران سمن شاہ کا دوسرا شعری مجموعہ ’’ہمیشہ تم کو چاہیں گے‘‘ ہمارے ہاتھ لگ گیا اور ہم نے ایک بار پھر پڑھ ڈالا اور اب ان کی شاعری یہ تقاضا کر رہی ہے ،دیر سویر ہو ہی جاتی ہے اس پر ضرور لکھا جائے کہ یہ اس قابل ہے توانا اور دلکش اشعار سے مزین۔
’’العطش‘‘ انجم عثمان کی پہلی کتاب ہے لیکن عمر بھر کی ریاضت، تجربات کا نچوڑ، بہار کی خوشبو اور خزاں کے رنگوں سے رنگی ہوئی شاعری متاثر کن بھی اورحیرانی کا باعث بھی کہ انجم عثمان نے کائنات کا حسن اور جلوۂ زندگی کی رعنائیوں اور کٹھنائیوں کے احساس کو الفاظ کی سحر انگیزی میں ڈھالا ہے ،ان کے یہاں دکھ سکھ کی دھوپ اور چھاؤں کا اثر اتنا دل آویز ہے کہ قارئین کو مایوسی کی بجائے نسیم سحر کی تازگی بخشتا ہے۔
الفاظ ’’باز آید‘‘ کو انھوں نے کس قدر خوبصورتی اور اپنی دلی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کیا ہے۔
موسم نو بہار باز آید
حسرتِ دل فگار آید
گریہ و ماتم و فغاں می کنم
فرصت یاد یار باز آید
تخلیق کار حساس اور درد دل رکھتا ہے، اس کے اپنے غم تو ہوتے ہی ہیں ساتھ میں وہ دوسروں کے دکھوں کا احساس بھی اپنے قلب کی اتھاہ گہرائیوں میں شدت سے محسوس کرتا ہے۔ ان کی غزل کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے ،جو مسیحائی کا حق ادا کر رہا ہے۔
نہ سن خموشی سے دوراں کا گریہ و ماتم
جو ہو سکے تو کسی گریہ خواں کے آنسو پونچھ
انجم عثمان کی شاعری میں نغمیت بھی رچی بسی ہے شعر پڑھ کر گنگنانے کا جی مچلنے لگتا ہے ،اگر صاحب ذوق ہو تو۔
دل کی تم سے کبھی کہی ہی نہیں
کیا کریں تم سے دوستی ہی نہیں
میں تجھے حرف حرف لکھتی رہی
تُو نے وہ داستاں سنی ہی نہیں
’’العطش‘‘ میں انجم عثمان کا تحریر کردہ مضمون ان کے روز و شب کے حوالے سے شامل ہے۔ انھوں نے بے حد دانائی اور علمیت و آگہی کے رنگوں سے مزین اپنے ماضی و حال کو تحریری سانچے میں ڈھال کر اپنے قارئین کو معلومات فراہم کی ہے۔ اپنے والدین کی جنم بھومی والد صاحب کی تعلیم اور پیشہ اور والدین کی تعلیم و تربیت اور اپنے وطن سے محبت و عقیدت کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔
انجم عثمان کے شعری مجموعے پر شعرا و دانشوروں کی آرا ء درج ہیں، پروفیسر سحر انصاری، افتخار عارف، احمد جاوید اور ڈاکٹر عالیہ امام سب ہی ناقدین و مبصرین نے داد و تحسین سے نوازا ہے کہ یہ شاعرہ کا حق ہے۔
انجم عثمان کا دوسرا شعری مجموعہ غزلیات ناشنیدہ پر ڈاکٹر مقصود جعفری نے اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کیا ہے۔ انجم عثمان صاحبہ کی کتاب ’’ناشنیدہ‘‘ غزل کی نمایندہ اور آسمان شعر پر تاابد تابندہ رہنے والی کتاب ہے۔
’’کرونا کے تناظر میں‘‘ اس عنوان کے تحت انھوں نے حالات و واقعات کی عکاسی بے حد دردمندی اور احساس کی غمناکی کے ساتھ کی ہے۔
کیا شبستان غم کا حال کہیں شمع تنہا ہے طاقچے تنہا
رویا رویا سا ہجر کا موسم، سہمے سہمے سے رابطے تنہا
اب آتے ہیں ثمن شاہ کی شاعری کی طرف۔ دیدہ زیب سرورق اور بیک کور پر ان کی دلکش تصویر اور اشعار جوکہ انھوں نے اپنے جیون ساتھی کے لیے دل کی اتھاہ گہرائیوں کا خلوص شاعری کے پیراہن میں ملبوس کر دیا ہے۔ دیکھتے ہیں ان کے پیار کی ادا۔
بہت ہی جان لیوا ہیں، وفا کے راستے ہمدم
مگر پھر بھی نبھائیں گے، ہمیشہ تم کو چاہا ہے
ہمیشہ تم کو چاہیں گے
ڈاکٹر کوثر محمود نے ’’سمن شاہ ایک مختصر تعارف‘‘ کے عنوان سے ایک معلوماتی مضمون سپرد قلم کیا ہے۔ یہ تحریر شاعرہ کی زندگی کے اوراق کو عیاں کرتی ہے کہ جہلم ان کی جائے پیدائش ہے۔
انھوں نے کم عمری میں ہی افسانے لکھنے شروع کر دیے تھے اور پھر شاعری کی ابتدا ہوئی روز و شب کی محنت رنگ لائی، شعر و سخن کا شوق اور صلاحیت پروان چڑھی تو خوب لکھا اور یورپ کے آرٹ اور کلچر کے حوالے سے پیرس میں اردو کی ایسی شمع روشن کی جس کی روشنی دور دور تک گئی۔
رضا علی عابدی علم و ادب اور تنقید نگاری کا ایک بڑا نام ہے۔ عابدی صاحب نے سمن شاہ کے بارے میں کہا ہے کہ ’’سمن شاہ بڑی باکمال خاتون ہیں ان کا کلام پڑھ کر جو پہلی بات ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ شاعری بھی بڑے کام کی چیز ہے، کوئی اس کو قرینے سے برتے تو اس میں سو پہلو نکلتے ہیں۔‘‘ بے شک ان کے کلام میں تازگی اور دلکشی ہے جو قاری کو پڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔
کبھی ہے پاس آنے کی تمنا
کبھی ہے دور جانے کی تمنا
مری تو جان ہی لے لے گی اک دن
یوں مجھ کو آزمانے کی تمنا
سمن شاہ محبت کی شاعرہ ہیں، نفرت انھیں کرنا نہیں آتی، یہی وجہ ہے کہ ان کا زیادہ تر کلام محبت کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔
ترا ہی ذکر کرتے ہیں تجھے ہی پوچھا کرتے ہیں
تمنا کے جہاں میں گم تجھے ہی ڈھونڈا کرتے ہیں
سحر ہوتے ہی اڑتے ہیں تیری یادوں کے سب پنچھی
مگر پھر شام ہوتے ہی یہ مجھ میں اترا کرتے ہیں
خوبصورت کلام پڑھنے کے بعد بس ایک لفظ ہی کہنے پر اکتفا کروں گی، مبارکاں (دونوں شاعرات کو)