کیٹی بندر پورٹ

کیٹی بندر پورٹ کی اپ گریڈیشن پاکستان اور بالخصوص سندھ کے عوام کے لیے ایک سنہری موقع ہے

یہ انتہائی خوش آیند امر ہے کہ حکومت ِ سندھ نے کیٹی بندر پورٹ کی بحالی اور جدید خطوط پر ترقی کے لیے سنجیدہ دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد سندھ اور پاکستان کو بین الاقوامی تجارتی راستوں سے موثر انداز میں منسلک کرنا ہے۔

یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کیٹی بندر پورٹ کو نہ صرف دھابیجی اسپیشل اکنامک زون اور تھر کے کوئلے کے ذخائر سے مربوط کیا جائے گا بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک نئے بحری تجارتی دروازے کے طور پر ترقی دے کر قومی معیشت کے لیے نئی راہیں ہموار کی جائیں گی۔

کیٹی بندر پورٹ کی اپ گریڈیشن پاکستان اور بالخصوص سندھ کے عوام کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ منصوبہ خصوصاً ساحلی علاقوں کی بڑی آبادی کی معاشی اور سماجی زندگی میں نمایاں تبدیلی لا سکتا ہے۔ روزگار کے نئے مواقعے، جدید انفرا اسٹرکچر، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ اور تجارتی وسعت کے ذریعے یہ منصوبہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک حقیقی گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کی تکمیل سے ساحلی علاقوں کے پسماندہ عوام کے لیے ترقی اور خوشحالی کی نئی امید پیدا ہوگی۔ کیٹی بندر پورٹ جغرافیائی اور تزویراتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ایک تاریخی بندرگاہی شہر ہے جو دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے علاقے میں واقع ہے۔

بدقسمتی سے سمندر کی سطح میں اضافے کے باعث تقریباً 114,000 ایکڑ زرعی اور ساحلی زمین سمندر برد ہو چکی ہے، جس سے مقامی آبادی، زراعت اور ماحولیات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔تاریخی اعتبار سے 1819ء میں شاہ بندر کے زوال کے بعد کیٹی بندر کی بنیاد رکھی گئی۔

ایک وقت تھا جب یہ مدراس، ممبئی، بلوچستان اور خلیج فارس کے ساتھ بین الاقوامی تجارت کا اہم مرکز تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ دریائی گزرگاہوں میں تبدیلی، ساحلی کٹاؤ اور 1945ء اور 1999ء کے شدید سمندری طوفانوں کے باعث یہ تاریخی بندرگاہ اپنی سابقہ اہمیت کھو بیٹھی۔

سابق وزیر ِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس بندرگاہ کو جدید بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے، جب کہ محترمہ بینظیر بھٹو بھی اس کی بحالی اور ترقی کی خواہاں تھیں۔ اب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی اسی وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے کیٹی بندر پورٹ کی بحالی کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں تاکہ پاکستان اور سندھ کو عالمی منڈیوں سے مزید مؤثر انداز میں جوڑا جا سکے۔

کیٹی بندر، دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے قریب واقع ہے، جو دنیا کے بڑے ڈیلٹاؤں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ تقریباً 16 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور ضلع ٹھٹھہ، بدین اور سجاول تک پھیلا ہوا ہے۔ اس خطے میں ساحلی کٹاؤ کی رفتار تقریباً 3.5 سے 4.5 ایکڑ سالانہ بتائی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں ایکڑ زمین متاثر ہو چکی ہے۔

کراچی کی تقریباً 90 کلومیٹر ساحلی پٹی سمیت ٹھٹھہ، بدین اور سجاول کی تقریباً 270 کلومیٹر ساحلی حدود بھی اسی ساحلی نظام کا حصہ ہیں،اگر کیٹی بندر کی نیوی گیشن گہرائی کا موازنہ پورٹ قاسم اور گوادر سے کیا جائے تو پورٹ قاسم کی گہرائی تقریباً 11 سے 13 میٹر جب کہ گوادر کی 13.8 سے 14.5 میٹر ہے۔

ماہرین کے مطابق مناسب ڈریجنگ اور جدید انجینئرنگ کے ذریعے کیٹی بندر میں 14 سے 18 بلکہ 20 میٹر تک گہرائی حاصل کی جا سکتی ہے، جس کے بعد یہ بندرگاہ دنیا کے بڑے بحری مراکز میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس منصوبے کو یا تو مکمل طور پر سرکاری شعبے کے ذریعے ترقی دی جا سکتی ہے، جس کے لیے جامع فزیبلٹی اسٹڈی، ماسٹر پلاننگ اور مرحلہ وار PSDP یا ADP فنڈنگ درکار ہوگی، یا پھر اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت BOT، BOOT، جوائنٹ وینچر یا کنسیشن ماڈل کے ذریعے نجی شعبے کے تعاون سے بھی کامیابی سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔

کیٹی بندر پورٹ کی بحالی سے تھر کے وسیع کوئلے کے ذخائر کو بندرگاہ تک منتقل کرنا آسان ہو جائے گا۔ تھر میں تقریباً 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں، جنھیں دنیا کے بڑے توانائی کے ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان وسائل سے آیندہ دو سے تین سو برس تک بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ کھاد سازی کی صنعت کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔

اس منصوبے کے ساتھ کراچی سے کیٹی بندر تک جدید ساحلی شاہراہ اور ریلوے لنک بھی تعمیر کیے جا سکتے ہیں، جنھیں آگے چل کر تھرپارکر اور چولستان تک توسیع دی جا سکتی ہے۔ اس سے ملکی ٹرانسپورٹ نظام مزید مؤثر ہوگا، M-6 موٹروے پر دباؤ کم ہوگا، جب کہ ساحلی علاقوں میں صنعت، سیاحت اور توانائی کے منصوبوں کو نئی رفتار ملے گی۔ تھرپارکر میں ہزاروں میگاواٹ شمسی توانائی پیدا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔

دنیا کے کئی ممالک اس شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں۔ بھارت راجستھان کے صحرا سے تقریباً 90 ہزار میگاواٹ، چین گوبی اور تکلامکان کے صحراؤں سے تقریباً 15 ہزار میگاواٹ، جب کہ سعودی عرب الشعیبہ کے علاقے میں تقریباً 26 ہزار میگاواٹ شمسی توانائی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

اسی طرح تھرپارکر بھی شمسی توانائی کے میدان میں پاکستان کے لیے ایک عظیم اثاثہ ثابت ہو سکتا ہے۔کیٹی بندر پورٹ کی جدید تعمیر سے نہ صرف پاکستان عالمی تجارتی راستوں سے مضبوط انداز میں منسلک ہوگا بلکہ سندھ میں ساحلی سیاحت کے بے شمار امکانات بھی روشن ہوں گے۔

یہ منصوبہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان، خصوصاً ٹھٹھہ، بدین، سجاول، تھرپارکر، میرپورخاص اور حیدرآباد سمیت ساحلی علاقوں کے عوام کے لیے ترقی، خوشحالی، روزگار، بہتر معیارِ زندگی، غربت میں کمی اور جدید انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کا ایک تاریخی موقع ثابت ہو سکتا ہے، اگر کیٹی بندر پورٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق بحال کیا جائے تو یہ بلاشبہ پاکستان کی معاشی ترقی اور قومی خوشحالی میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔

Load Next Story