ترکیہ اور مصر نے ہم جنس پرست سیاحوں کے جہاز کو داخل ہونے سے روکدیا
یونان سے اٹلی تک خصوصی سیاحتی سفرکے لیے جانے والے امریکا کے ہم جنس پرست سیاحوں کے لگژری بحری جہاز کو ترکیہ اور مصر نے اپنی بندرگاہوں اور سمندری حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی کمپنی اٹلانٹس ایونٹس سے چارٹر کیے گئے اسکارلٹ لیڈی نامی کروز شپ پر تقریباً 1,900 مسافر سوار تھے جن میں سے 1,100 امریکی جبکہ باقی برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔
جہاز کمپنی کے صدر نے بتایا کہ جہاز کو پہلے ترکیہ کی دو بندرگاہوں پر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے بعد متبادل منزل کے طور پر مصر کا انتخاب کیا گیا لیکن انھوں نے بھی آخری لمحے میں جہاز کو اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ کمپنی کے پاس تمام ضروری اجازت نامے موجود تھے اور گزشتہ برس بھی یہی سفر بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا گیا تھا اس لیے مصر کا یہ فیصلہ غیر متوقع اور افسوسناک ہے۔
ادھر ترک حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جہاز ایسے گروپوں کے لیے مخصوص تھا جن کا طرزِ عمل ترک معاشرے کی اخلاقی اور سماجی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا اسی بنیاد پر اسے بندرگاہوں میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
دوسری جانب مصر کی جانب سے باضابطہ طور پر اس فیصلے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مصر میں اخلاقی قوانین کے تحت ایل جی بی ٹی کیو افراد کے خلاف کارروائیاں، گرفتاریاں اور ہراسانی کے واقعات ماضی سے رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
جہاز پر سوار مسافروں نے بتایا کہ وہ قاہرہ میں اہرامِ مصر سمیت تاریخی مقامات کی سیر کی تیاری کر چکے تھے مگر اچانک فیصلہ آنے کے باعث تمام دورے منسوخ کرنا پڑے۔ بعد ازاں جہاز کا رخ یونان کے جزیرے کریٹ کی جانب موڑ دیا گیا۔