دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ، سندھ کی روح، اس پر جارحیت ملک پر جارحیت ہوگی، مراد علی شاہ

سندھ طاس معاہدہ کوئی سیاسی بندوبست نہیں ہے جس سے کسی بھی حکومت کی مرضی پر ختم کیا جا سکے، وزیراعلیٰ سندھ

فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون، معاہداتی ذمہ داریوں اور سرحد پار دریاؤں کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ اور سندھ کی روح ہے، اس پر جارحیت ملک پر جارحیت ہوگی۔

سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کوئی سیاسی بندوبست نہیں ہے جس سے کسی بھی حکومت کی مرضی پر ختم کیا جا سکے بلکہ یہ ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے جو جنگوں اور دہائیوں کی علاقائی کشیدگیوں کے باوجود برقرار رہا ہے۔

انہوں نے کہا بھارت کے پاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل یا منسوخ کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی اختیار نہیں ہے، پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے اور اس سے پاکستان میں امن، استحکام اور لاکھوں لوگوں کے روزگار کو خطرہ ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ اور سندھ کی روح ہے، ہزاروں سال سے، سندھو نے ہماری تہذیب، ہماری زراعت، ہماری معیشت اور ہماری شناخت کی پرورش کی ہے، سندھو کے پانی پر کوئی بھی جارحیت سندھ اور پاکستان کے عوام پر جارحیت ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) ہمیشہ پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے سب سے مضبوط آواز بن کر کھڑی رہی ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر شہید محترمہ بینظیر بھٹو تک اور صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پی پی پی نے وفاق اور سندھ کے عوام کے حقوق پر اثرانداز ہونے والے معاملات پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے طاقت ور نعرے مرسوں مرسوں، سندھو نہ ڈیسوں کے ذریعے ہر سندھی اور ہر پاکستانی کے جذبات کی ترجمانی کی ہے، یہ صرف ایک نعرہ نہیں ہے؛ یہ ایک پختہ عہد ہے کہ ہم کسی کو بھی پاکستان کو سندھو کے پانی کے جائز حصے سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سفارتی، قانونی، آئینی اور جمہوری طریقوں سے اور مکمل قومی یک جہتی کے ساتھ اپنے دریا کا دفاع کریں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وفاق کی حکومت پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت تمام دستیاب سفارتی اور قانونی راستے اختیار کرے اور بھارت کے ان اقدامات کو متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے۔

انہوں نے عالمی برادری سے بھی گزارش کی کہ وہ معاہداتی ذمہ داریوں کے احترام کو یقینی بنائے اور پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے عوام دریائے سندھ اور پاکستان کے آبی حقوق کے دفاع میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کے پیچھے متحد کھڑے ہیں، پی پی پی ملک کی آبی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کے خلاف مزاحمت کرتی رہے گی، سندھو ہماری تاریخ، ہمارا ورثہ اور ہمارا مستقبل ہے، ہم غیرمتزلزل عزم کے ساتھ اس کی حفاظت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ صوبے کے آبی مفادات کی نگرانی جاری رکھے گی اور سندھ طاس معاہدے کے تحت ملک کے جائز حقوق کے دفاع میں پاکستان کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔

Load Next Story