بیچ کی بات
’’حسین صاحب کے گھر میں اچانک ہن برسنا شروع ہو گیا ہے، دولت کی اتنی ریل پیل ہو گئی ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔‘‘
’’ہاں میں نے بھی دیکھا ہے، کہاںایک کھٹارا سی کار تھی اور اب تین تین گاڑیاں کھڑی ہیں۔‘‘
’’کہاں سے آ رہی ہے اتنی دولت اور اتنی اچانک؟‘‘
’’پتا نہیں، سوال کرو تو کہتے ہیں کہ باہر سے بیٹے بھیجتے ہیں، ہر کسی کا بیان مختلف ہے، گھر کا کوئی فرد کہتا ہے کہ زمینوں سے آمدن ہوتی ہے۔‘‘
’’مجھے تو کسی نے بتایا کہ انھیں وراثت میں کوئی گھر ملا تھا، وہ بیچ کر انھیں حصہ دیا گیا ہے تو!!‘‘
’’یوں لگتا ہے جیسے انھیں گھر کے صحن میں دبی کوئی سونے کی دیگ مل گئی ہو…‘‘
’’یا الہ دین کے چراغ والا جن !!‘‘ زور دار قہقہہ۔
’’یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ان کی لاٹری نکلی ہو…‘‘
’’یار لاٹری نکلے تو انسان فوراً سچی اور سیدھی بات بتاتا ہے تا کہ کئی اور جھوٹ نہ گھڑنے پڑیں…‘‘
’’ہاں یار شعیب! یہ تو کوئی اور ہی چکر لگتا ہے!‘‘ کہہ کر وہ مڑے، ’’بیچ کی بات تو کوئی بتاتا ہی نہیں ہے!‘‘
………
’’صدیق یہ کبریٰ ہر روز شام کو تیار ہو کو کہاں جاتی ہے؟‘‘
’’میں نے بھی کئی دنوں سے نوٹ کیا ہے، جب میں مغرب کی نماز پڑھ کر اپنے گھر کے قریب پہنچتا ہوں تو اس وقت وہ نکل رہی ہوتی ہے، پڑوس میں گھر ہے تو مجھ سے زیادہ کون اس معمول کو جانتا ہوگا۔‘‘
’’ہاں ہاں پڑوسیوں سے بڑ ھ کر کون پڑوس کو جانتا ہوگا۔‘‘
’’میک اپ بھی ایسے کر رکھا ہوتا ہے جیسے کہ کوئی کسی پارٹی میں جا رہا ہو۔‘‘
’’شعیب یوں تو بڑی باتیں کرتا ہے مگر اپنے گھر میں کیا ہو رہا ہے، اس کا اسے علم نہیں ہے۔‘‘
’’چھوڑو امتیاز، کون کسی کو اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھا کر بتاتا ہے۔‘‘
’’میری بیوی نے اس کی ماں سے پوچھا تھا تو انھوں نے بتایا کہ کسی دفتر میں رات کی شفٹ میں کام کرتی ہے۔‘‘
’’رات کی شفٹ میں کیا ہوتا ہے دفتروں میں؟‘‘ زور دار قہقہہ۔
’’چل، جو ان کی مرضی وہ بتائیں، بیچ کی بات تو وہ جانتے ہیں یا اللہ۔‘‘
’’یا پھر وہ جس ’’دفتر‘‘ میں کام کرتی ہوگی۔‘‘
’’رکھیں اپنے پاس بیچ کی بات بھی، ہمیں کیا لینا دینا۔‘‘
’’ہاں جب کوئی چاند چڑھے گا تو سب کو نظر آجائے گا۔ چلتا ہوں!‘‘
………
’’یہ امتیاز کے گھر پر کچھ دن سے چند مشکوک سے لوگ کیوں آ رہے ہیں؟‘‘
’’دیکھ تو ساری کالونی رہی ہے مگر کسی کی جرأت نہیں کہ سوال کرے۔‘‘
’’قیافے تو ہر کوئی لگا رہا ہے، پر امتیاز ہے بڑا پکا، ہوا نہیں لگنے دے گا بیچ کی بات کی۔‘‘
’’ان لوگوں کے حلیے سے لگتا ہے کہ یا وہ پولیس والے ہیں یا خفیہ والے۔‘‘
’’ندیم بھائی، اب تو پولیس اور خفیہ والوں کے علاوہ بھی سو محکمے بن گئے ہیں۔‘‘
’’اچھا وہ کون سے محکمے ہیں؟‘‘ حیرت سے سوال۔
’’کوئی انکم ٹیکس والا، سائبر کرائم والا، بنکوں کی ریکوری والا، نشئیوں والا، فراڈ انکوائری والے اور اسی طرح کے کتنے ہی محکمے ہیں جن کا مجھے علم بھی نہیں مگر میرا بیٹا بتا رہا تھا۔‘‘
’’چکر تو لمبا ہی لگتا ہے، پتا نہیں اس کا کوئی جرم ہے کہ اس کے بیٹیوں میں سے کسی کا۔ چلو جب بیچ کی بات کا علم ہو تو مجھے بھی ضرور بتانا۔‘‘ سلام دعا کے بعد ہر کوئی اپنی راہ لیتا ہے۔
………
’’تم نے سنا کہ ندیم بھائی کا بیٹا کسی اور کے نہیں بلکہ اپنے ہی بھائی کے ہاتھوں گولی کا نشانہ بنا اور اب موت اور حیات کی کشمکش میں ہے؟‘‘ سرگوشی کے انداز میں بتایا گیا۔
’’ہائیں، واقعی؟‘‘ تمہیں کس نے بتایا ایسا؟‘‘
’’ان کے گھر کی ملازمہ نے، اس نے بتایا کہ بڑے بھائی نے… میں نے کریدا تو کہنے لگی کہ گھر والے کہہ رہے تھے کہ وہ پستول صاف کر رہا تھا تو غلطی سے گولی چل گئی۔‘‘
’’اب گھر والے تو ایسی ہی جھوٹی کہانی بنائیں گے نا!‘‘
’’ ظاہر ہے کہ بیچ میں اصل کیا اسٹوری ہے، وہ تو کسی کو بھی پتا نہیں چل سکتی۔‘‘
لوگوں کو سچ کو جھوٹ کے پردوں میں چھپانے کی عادت سی ہو گئی ہے۔
………
یہ سب دلچسپ باتیں، ایسی پرتجسس گفتگو آپ کو اور ہم سب کو کہیں نہ کہیں سرگوشیانہ انداز میں سننے کو مل جاتی ہے، اس کے لیے قید نہیں کہ کون سی جگہ ہے، کون سا واقعہ ہے اور کون سی بات منہ سے نکالنی ہے۔ کسی کے گھر کو ن آتا ہے اور کیوں، کسی کی بیٹی کہاں جاتی ہے اور کیوں، کسی کے گھر دولت کن ذرائع سے آتی ہے اور دیگر ایسی باتیں۔
حقیقت یہی ہے کہ تجسس انسانی فطرت کا خاصہ ہے اور اسی تجسس کو جب لوگ مثبت انداز میں استعمال کرتے ہیں تو وہ مؤجد اور تخلیق کار کہلاتے ہیں اور منفی انداز میں سوچنے والے اپنی سوچ کو خود تک ہی محدود نہیں رکھ سکتے اور کئی لوگوں سے اس کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
ہر بات کرنے والے کی بھی کوئی نہ کوئی بات ایسی ہوتی ہے جو قابل گرفت ہوتی ہے اور اس کے بارے میں دوسرے باتیں کرتے ہیں۔ جو کچھ آپ کرتے ہیں جب وہ آپ کو آپ کے سکوں میں لوٹایا جاتا ہے تو آپ کو اچھا نہیں لگتا۔
بالفرض جو کچھ دوسروں کے گھروں میں ہو ر ہا ہے، کسی کی بیماری، کوئی حادثہ، کسی کا رشتہ اور کسی کی طلاق یا کوئی بھی مسئلہ۔ آپ کا تجسس کسی حد تک ہی ہونا چاہیے اور جو کچھ بھی استفسار کرنا ہو وہ انھی سے کریں جن کے ساتھ واقعہ ہوا ہو۔ بالفرض آپ کو ’’بیچ‘‘ کی بات کا علم ہو بھی جائے تو آپ کیا کر لیں گے؟
سوچیں کہ آپ کو اس بیچ والی بات کے بارے میں علم ہونا کتنا ضروری ہے اور دوسروں کے بارے میں ایسی خبروں کو کسی تیسرے فریق سے بات چیت کے بیچ لانے اور اس پر بحث کرنا، کیا آپ کا کام ہے؟ آپ وہ بات کرنے کی کوشش کیا کریں جس سے آپ کو کوئی غرض ہو، آپ کا اس سے کوئی نفع یا نقصان وابستہ ہو۔
دوسروں کے مسائل پر تب بات کریں جب وہ آپ سے خود ان مسائل کا ذکر کریں اور اگر ان مسائل کے لیے آپ سے مدد طلب کریں تو ان کی مدد کریں، نہیں کر سکتے تو معذرت۔ مگر ہر دو صورتوں میں آپ کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ آپ اس بات کو بے وجہ کسی اور کے سامنے دہرائیں۔ بیچ کی بات کو کبھی کبھار دو دانتوں کے بیچ روک کر بھی دیکھ لیں!!