علم کی نئی دنیا

کل تک انقلاب صدیوں میں آتے تھے، اب وہ دہائیوں میں آ رہے ہیں

Jvqazi@gmail.com

بیک وقت ہم مختلف ماحول اور حالات کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں اور انھی حالات میں علم کا سمندر نئی نئی کروٹیں لے رہا ہوتا ہے، ہم ایک نئی دنیا میں داخل ہو چکے ہیں جہاں علوم کی نئی سمتیں بن رہی ہیں اور بن چکی ہیں اور ایسے حالات میں ایک فرد کی حیثیت بھی بہت چھوٹی رہ گئی ہے۔

یہ تبدیلی اس قدر اثرانداز ہو رہی ہے کہ اب ملکی سرحدوں کی حیثیت ثانوی رہ گئی ہے۔ ماضی میں، میرے جیسے بھی نرگسیت کا شکار تھے کہ جیسے یہ سب کچھ میری بدولت ہے۔ ہمیں کام سے نہیں بلکہ نام سے غرض تھی۔ ہم یہ سمجھتے رہے کہ جو ہیرو ہے، وہ فرد ہے، مگر اس ایک فرد کے پیچھے افراد کی تگ ودو ہے، جو تحاریک ان کے ہیرو کے نام پر پہچانی جاتی ہیں۔

کئی گمنام شہداء ہوں گے جو ان تحاریک میں قربان ہوئے ہوں گے، کئی گھر اجڑے ہوں گے، کئی بچے شہید ہوئے ہوں گے۔ ان جنگوں کے بارے میں تاریخ کا یہ رقم کرنا اور راوی کا یہ لکھنا کہ جنگ سپہ سالار نے لڑی یا جیتی، یہ روایت صدیوں سے رائج ہے۔

اب تاریخ کا زاویہ بدل رہا ہے، تاریخ اب Hero worship یعنی شخصیت پرستی سے نکلنا چاہتی ہے۔ اب تاریخ کو سماج کے زاویے سے تحریر کیا جا رہا ہے۔ ہزار سالوں سے تاریخ کی پیوندکاری کی جارہی ہے۔ حال کا جنم ماضی سے ہوا ہے اور مستقبل کا جنم حال سے ہوگا۔

یہ تسلسل ہے، ایک فرد سے دوسرے فرد تک کا اور پھر ان کی داستانیں ہیں۔ ہم آج وہ پھل کھا رہے ہیں جن کے بیج ہمارے آباؤاجداد نے بوئے تھے۔ جب تھامس ایڈیسن نے بلب ایجاد کیا تھا تو اس ایجاد کا وقت عین یہی تھا، اس سے پہلے نہیں۔ تھامس ایڈیسن کی اس ایجاد سے پہلے کئی تجربات کیے گئے، ناکام اور کامیاب اور پھر کامیاب تجربے کی روشنی میں ایڈیسن نے بلب ایجاد کیا ہوگا۔

آج وہ ہی بلب کتنے ہی ارتقائی مراحل سے گزر کر کہاں اور کس صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ ایسی ہی روایات تمام ایجادات کے پیچھے موجود ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انسان کس طرح سے فطرت سے لڑتا آیا اور لڑتے لڑتے پورے کرۂ ارض پر پھیل گیا۔

یوول ہراری اپنی شاہکار کتاب Homo Sapiens میں تحریر کرتا ہے کہ جب Homo Sapiens انڈونیشیا تک پہنچے تو وہاں قحط کا عالم تھا، کھانے کے لیے کچھ نہ تھا، کم کھانے کے باعث ان کی ساخت بدلنا شروع ہوئی اور نسبتاً وہ قد کے چھوٹے رہ گئے اور یہ سلسلہ صدیوں تک جاری رہا۔ انسان کی ڈی این اے بذاتِ خود انسان کی تاریخ ہے اور نہ جانے کتنی صدیوں میں مرتب ہوتی ہے۔

جب حافظے سے نکل کر لکھنے کی روایت پڑی تو سقراط نے کہا کہ اس سے حفظ کرنے کی عادت بگڑ جائے گی جس سے ذہن کمزور ہوگا۔ وہ سقراط جو اپنے دور میںشرفاء سے باغی تھا، نئی نسل کا ہیرو تھا، وہ آج بھی اس تسلسل کی پہچان رکھتا ہے، پھر پرنٹنگ پریس کی ایجاد ہوئی۔

ہزاروں سال قبل پہیہ ایجاد ہوا۔ پھر پرنٹنگ پریس کی ایجاد بے معنی ہونے لگی، جب دنیا digitalized ہوگئی۔ اب مصنوعی ذہانت آپ کا اسٹینوگرافر بھی ہے اور لغت بھی۔ اب نہ ہی کاغذ اور قلم کی ضرورت ہے اور نہ ہی کرسی اور میز کی۔ آپ کہیں بھی موجود ہوں، کوئی خیال آپ کے ذہن میں گردش کر رہا ہو اور کاغذ اور قلم تک پہنچتے پہنچتے وہ خیال ذہن سے نہ اتر جائے، وقت لگ جائے آپ مصنوعی ذہانت سے اسٹینوگرافر کا کام لے سکتے ہیں اور اس خیال کو فوری طور پر محفوظ کر سکتے ہیں۔

ایک مخصوص خیال آپ کے collective wisdom کا تسلسل ہے۔ ایک بوند یا پھر پیوند جو رفو ہو جائے گا پھر مجموعی خیال سے تاریخ سے جڑ جائے گا۔ غالب کی ان سطروں کی مانند…

تالیف نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
مجموعہ خیال ابھی ابھی فرد فرد تھا

علم کی ترتیب میں، مصنوعی ذہانت نے ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ہم پہلے جب ریسرچ کرتے تھے تو اپنی کوئری کسی سرچ انجن یعنی گوگل وغیرہ پر ڈالتے تھے۔ اب جیسے ہی ہم اپنا خیال یا کوئری کی کمانڈ مصنوعی ذہانت کو زبانی کلامی دیتے ہیں تو نہ صرف مصنوعی ذہانت اس خیال کا جواب دیتی بلکہ اس کے ریفرنسز بھی بتاتی ہے جو آپ کو اس حوالے سے درکار ہوتے ہیں۔

ہر ایجاد مروج روایات اور اخلاقیات کو توڑتی ہے۔ یورپ کے صدیوں سے بنائے ریسرچ کے پیمانے چیلنج ہو گئے ہیں۔ اب کوئی ایک فرد کسی تصنیف کا تنہا مالک نہیں ہے بلکہ وہ ترتیب دینے والے  collective wisdom میں اپنا حصہ تحریر کرتا ہے۔

تقریباً 75 سال قبل لاس اینجلس میں، وہ بڑے بڑے شیڈ جہاں خوبانیوں کو ڈبوں میں پیک کیا جاتا تھا، وہیں پر سلیکون چپ بنانے کا خیال پیدا ہوا۔ وہ پہلی کمپنی تھی جس نے سلیکن چپ بنائی، چونکہ کمپنی منافع نہیں کما سکی تو ختم ہو گئی مگر چِپ کا تجربہ کامیاب رہا۔

Intel Chip  جب بنی تو اس نے پچاس سال تک دنیا پر راج کیا۔ جہاں پر یہ چِپ بنی وہ جگہ Silicon Valley کے نام جانی جاتی ہے۔ ابSilicon Valley مصنوعی ذہانت کی تجربہ گاہ ہے۔ درجنوں چیٹ جی پی ٹی جیسے ڈیٹا سینیٹرز بن گئے ہیں۔

ان ڈیٹا سینیٹرز کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کو بجلی وافر مقدار میں درکار ہوتی ہے۔ اب ایلون مسک امریکا کی اسٹاک ایکس چینج میں ایک ایسی کمپنی متعارف کر وا رہا ہے جو ان ڈیٹا سینیٹرز کو خلاء میں ایک مخصوص Orbit پر لے جائے گا جہاں وہ سولرانرجی، سورج کی روشنی یعنی شمسی توانائی پر چلیں گے اور ڈیٹا زمین تک پہنچے گا۔ اب یہ ڈیٹا سینیٹرز پوری دنیا کو ایک نئی ترتیب سے  Commodityدے رہے ہیں جس کو knowledge production کہا جائے گا۔

اب میرے جیسا کالم نگار، کوئی اسکالر، کوئی مصنف، فرد واحد نہیں رہا۔ کسی بھی چیز کی تخلیق میں یقینا اس کا شعور، اس کی سوچ، اس کا خیال اور آزادی قائم ہے لیکن اس کو ریسرچ کرنے کے لیے، لکھنے کے لیے، ایڈٹ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کی معاونت درکار ہوگی۔

کل تک انقلاب صدیوں میں آتے تھے، اب وہ دہائیوں میں آ رہے ہیں۔ سال 2022 میں Chat GPT آیا۔ اب وہ پیچھے رہ گیا اور کئی نئے chatbot کی ایجاد ہو چکی ہے جو زیادہ کارگر ثابت ہو رہے ہیں۔

ان chatbot کے استعمال پر امریکا سے باہرصدر ٹرمپ نے پابندی لگا دی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی چین کے پاس نہ پہنچ جائے لیکن کب تک ایسا ممکن ہوگا کیونکہ یہ chatbot کسی سفیدفام کی دریافت نہیں بلکہ اس ایجاد کے پیچھے بہت سے ماہرین ہیں، جن کا تعلق ہندوستان اور ایشیا سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکا جو پابندیاں لگا رہا ہے، اب وہ ممکن بھی ہیں یا نہیں، کیونکہ دنیا اب سمٹتی جا رہی ہے، فاصلے کم ہو رہے ہیں۔
 

Load Next Story