کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ کمی، روئی کی درآمدات بڑھنے و قیمت میں اضافے کا خدشہ
مقامی کاٹن بیلٹس میں غیر معمولی ہیٹ ویو سے کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ نوعیت کی کمی سے روئی کی درآمدات بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ پیدوار میں کمی کے سبب ناصرف روئی کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان پیدا ہوگیا ہے بلکہ مزید ٹیکسٹائل ملوں اور کاٹن جننگ فیکٹریاں غیر فعال ہونے کی اطلاعات زیرگردش ہیں۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ مقامی کاٹن زونز میں تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت، بارشیں نہ ہونے اور نہری پانی کی کمی کے باعث کپاس کی فصل کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں جس سے کپاس کی مجموعی قومی پیداوار میں کمی کے ساتھ معیار بھی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں اور ان عوامل کے سبب روئی کی درآمدات میں اضافہ بھی متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریکارڈ درجہ حرارت کے باعث کپاس کی بیشتر فصل مرجھاؤ اور جوؤوں کاشکار ہے جس سے پودے کی بڑھوتری شدید متاثر ہونے سے فی ایکڑ پیداوار میں غیر متوقع طور پر کمی ہوسکتی ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ کپاس کی فصل کے لیے آب پاشی کا وقفہ کم کرکے پانی کی مقدار میں بھی کمی کرنے کے ساتھ کپاس کی فصل پر اجزائے صغیرہ (بوران وغیرہ) کا بھر پور اسپرے کریں جبکہ اگیتی کپاس پر 100لیٹر پانی میں دو کلو پوٹاشیم نائٹریٹ کا بھی ہفتہ وار اسپرے کروائیں جس سے کپاس کی فصل پر ہیٹ ویو کے منفی اثرات میں کمی ممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد میں کمی سے روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں تیزی کا رحجان دیکھا جا رہا ہے اور گزشتہ ہفتے پنجاب میں روئی کی فی من قیمت 400روپے کے اضافے سے 18ہزار 200روپے جبکہ سندھ میں 17ہزار 700 روپے کی سطح پر آگئی ہے۔ رواں ہفتے بھی قیمتوں میں اضافے کا تسلسل برقرار رہ سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی بجٹ میں کاٹن انڈسٹری اور بالخصوص جننگ انڈسٹری پر عائد 86فیصد کی بلند شرح سیلز ٹیکس میں ریلیف نہ دیئے جانے سے سندھ میں ٹنڈو آدم سمیت بعض علاقوں کی کچھ جننگ فیکٹریاں فعال ہونے کے محض ایک ماہ بعد ہی غیر فعال ہوگئی ہیں جبکہ پنجاب کے دوسرے بڑے کاٹن زون رحیم یار خان میں گذشتہ 15سال کے طویل دورانیئے کے بعد پہلی مرتبہ جولائی کے دوسرے ہفتے کے اختتام تک ایک بھی جننگ فیکٹری فعال نہ ہوسکی ہے۔
یہ اطلاعات بھی زیرگردش ہیں کہ کئی مزید ٹیکسٹائل ملیں بھی غیر فعال ہورہی ہے جس سے بے روزگاری میں ریکارڈ اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ بیرونی دنیا کی حکومتوں کی جانب سے اپنی صنعتوں کی بقاء و ترقی دینے کی غرض ترغیبات فراہم کی جاتی ہیں۔
اس کے بر عکس پاکستان میں صنعتوں کو فروغ یا فعال کرنے کے لئے فنڈز مختص کرنے کی بجائے خیرات کے فروغ کے لئے 800ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کیے گئے ہیں اور اتنی خطیر مالیت کے فنڈز سے ایک سال میں کم از کم ایک ہزار 600 سے زائد بڑی صنعتیں فعال ہوسکتی تھیں اس لئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو چاہیئے کہ وہ خیرات کو فروغ دینے کی بجائے کاروبار کو فروغ دیں تاکہ ملکی معیشت بہتر ہونے سے آئی ایم ایف سے جلد سے جلد چھٹکارا ممکن ہوسکے۔