میانوالی میں بیوروکریسی کی انوکھی ذہانت، 450 بیڈز کا اسپتال 200 بستروں کی عمارت میں منتقل
حکمرانوں کو خوش کرنے کیلیے بیوروکریسی کی انوکھی ذہانت نے میانوالی کی عوام کو خوفناک وبال میں مبتلا کر دیا،چھوٹے اسپتالوں کو بڑے اسپتالوں میںضم ہوتے تو دیکھا اور سنا تھا مگرساڑھے 400 بیڈ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال کو 200بیڈ کے مدر اینڈ چائلڈ کیئر اسپتال میں سمونے کا انوکھا فارمولا شاید پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چند ماہ پہلے حکومتی شخصیت کے دورے کے موقع پر مخالف سیاسی شخصیت کے نام پر قائم مدراینڈ چائلڈ کیئر اسپتال کا نام ہٹانے کیلیے اس میں ڈی ایچ کیو اسپتال کو ضم کرنے کا انوکھا منصوبہ بنایا گیا۔
اور اس کیلئے راتوں رات منتقلی بھی ہو گئی،مدراینڈ چائلڈ اسپتال کی تختی ہٹا کر اسے ڈی ایچ کیو قراردیدیا گیا، ڈی ایچ کیو ہسپتال میں 450 مریضوں کے بیڈ لگے ہوئے تھے 450 بیڈز کا اضافی بوجھ پڑا تو ہر چیز بیٹھ گئی۔
ستم بالا ستم یہ کہ شائد یہ ڈی ایچ کیو واحد ہسپتال ہے جہاں کوئی ایمرجنسی موجود نہیں ہے ، ایک ایک بیڈ پر دو دو مریض سارے ضلع کا بوجھ جب اس پر پڑا تو سیوریج سسٹم، کوکنگ سسٹم اور کولنگ نظام مکمل بیٹھ گیا۔
میانوالی کی شدید گرمی نے مریضوں اور ان کے لواحقین کے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا ،انہوں نے ہسپتال سے باہر نکل کر شدید احتجاج شروع کردیا ، روڈ بلاک کردی۔
مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ہسپتال کو پرانی عمارت میں منتقل کیا جائے جو کئی ماہ گذرنے کے باوجود بدستور خالی پڑی ہے وہاں نہ کوئی ٹیچنگ اسپتال بنا نہ ہی اس کا کوئی اور عوامی مصرف سامنے آیا۔