لوہے کی باریک جالی سے تصاویر بنانے والا منفرد پاکستانی فنکار
کھڑکیوں اور دروازوں پر لگی لوہے کی باریک جالی کو ہم عموماً صرف حفاظت کا ذریعہ سمجھتے ہیں، مگر جب یہی بے جان تاریں ایک فنکار کے ہاتھوں میں پہنچتی ہیں تو دھات میں زندگی اتر آتی ہے۔
روشنی، سائے اور باریک تہوں کے امتزاج سے ایسی تصاویر جنم لیتی ہیں جو دیکھنے والے کو پہلی نظر میں کاغذ پر بنے اسکیچ کا گمان دیتی ہیں، مگر قریب جا کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ شاہکار قلم یا برش سے نہیں بلکہ وائر میش کی تہہ در تہہ بُنی ہوئی دنیا سے تخلیق کیے گئے ہیں۔
پاکستان کے واحد وائرمیش آرٹسٹ ہونے کا اعزاز رکھنے والے ساجد امیری عام دھاتی جالی کو غیر معمولی فن پاروں میں ڈھال رہے ہیں، ہر تصویر محض ایک پورٹریٹ نہیں بلکہ صبر، مہارت اور تخلیقی سوچ کی ایسی داستان ہے جسے مکمل ہونے میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔
ساجد امیری کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے جبکہ انہوں نے نیشنل کالج آف فائن آرٹس لاہور سے گریجویشن کی۔ وہ بنیادی طور پر مصور ہیں تاہم روایتی پینٹنگ سے ہٹ کر کچھ منفرد کرنے کی خواہش نے انہیں ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جہاں کینوس کی جگہ لوہے کی باریک تاروں نے لے لی۔
ان کے مطابق ہر فن پارے کا آغاز سب سے پہلے کاغذ پر بنائے گئے ایک خاکے سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد مختلف سائز کی وائر میش کی تہیں تیار کی جاتی ہیں۔ ہر تہہ پر گھنٹوں کام کیا جاتا ہے اور پھر انہیں انتہائی احتیاط سے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ آخرکار دس سے پندرہ دن کی مسلسل محنت کے بعد ایک ایسا شاہکار سامنے آتا ہے جس میں روشنی اور سایہ مل کر تصویر کو زندگی عطا کرتے ہیں۔
ساجد امیری کہتے ہیں کہ جس طرح پینسل یا چارکول سے بننے والے اسکیچ میں صرف ایک رنگ کے مختلف شیڈز استعمال ہوتے ہیں، اسی اصول کو وہ وائر میش میں اپناتے ہیں۔ عام کھڑکی کی جالی شفاف ہوتی ہے اور اس کے آرپار دیکھا جا سکتا ہے، لیکن جب اسی جالی کی آٹھ سے دس تہیں ایک خاص ترتیب سے رکھی جاتی ہیں تو شفافیت ختم ہو جاتی ہے۔ پھر روشنی کی مقدار کو کہیں زیادہ اور کہیں کم رکھا جاتا ہے، جس سے چہرے کے خد و خال، گہرائی اور تاثرات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔
ان کے تیار کردہ فن پارے پاکستان کے بڑے ہوٹلوں، آرٹ گیلریوں اور گھروں کی زینت بنتے ہیں، تاہم ان کے بیشتر شاہکار بیرون ملک بھیجے جاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ سوشل میڈیا نے ان کے فن کو عالمی سطح پر متعارف کرایا اور آج انہیں زیادہ تر آرڈرز بیرون ملک سے موصول ہوتے ہیں۔
ساجد امیری کے مطابق پاکستان میں وہ اس فن کے واحد آرٹسٹ ہیں، جبکہ اس نوعیت کا کام کرنے والے ایک فنکار جنوبی کوریا اور ایک اٹلی میں موجود ہیں۔ اگرچہ ممکن ہے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی کوئی یہ فن انجام دے رہا ہو، لیکن انہیں اس بارے میں کوئی مصدقہ معلومات نہیں ملتیں۔
وہ کہتے ہیں کہ نوجوان طالب علم ان سے یہ ہنر سیکھنے آتے ہیں، مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر فنی تعلیم اور ہنرمندی کو زیادہ فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان صرف روایتی شعبوں تک محدود نہ رہیں بلکہ نئے اور منفرد فنون میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔
وائر میش سے تخلیق ہونے والے یہ شاہکار اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ فن کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ ایک عام سی دھاتی جالی، جو روزمرہ زندگی میں شاید ہماری نظر بھی اپنی طرف نہ کھینچے، ایک تخلیقی ذہن کے لمس سے ایسی لازوال تصویر میں بدل جاتی ہے جو دیکھنے والوں کو دیر تک اپنے سحر میں گرفتار رکھتی ہے۔