کراچی سے ملک بھر میں اجناس کی سپلائی معطل، ہول سیل مارکیٹوں میں مکمل ہڑتال

اگر حکومت آٹے کا بحران حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو یک طرفہ اور من مانی کارروائیوں سے گریز کرے، تاجر رہنما

فوٹو: فائل

کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کی اپیل پر شہر کی مرکزی تھوک مارکیٹ سمیت دیگر بڑی اجناس منڈیوں میں کاروبار مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے جس کے باعث کراچی سے ملک بھر کو اجناس کی ترسیل بھی رک گئی ہے۔

کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالرؤف ابراہیم کے مطابق شہر کے دیگر علاقوں کورنگی، لانڈھی اور لیاقت آباد کی تھوک منڈیاں بھی ہڑتال میں شریک ہیں، جوڑیا بازار، ڈانڈیا بازار، لی مارکیٹ سمیت ملک کی سب سے بڑی اجناس مارکیٹوں میں دکانیں اور گودام بند رہے، مارکیٹوں میں احتجاجی بینرز آویزاں کیے گئے اور احتجاجی کیمپ بھی لگایا گیا ہے۔

ہول سیل تاجروں کا کہنا تھا کہ وہ آٹے کی سرکاری قیمت پر عمل درآمد میں حکومت سے تعاون کر رہے ہیں، تاہم اس کے باوجود انتظامیہ کے ناروا سلوک کا سامنا ہے۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر ضلع جنوبی آٹے کی قیمت کو جواز بنا کر دکان داروں کو بھاری جرمانے عائد کر رہے ہیں اور چالان کے نام پر صرف ایزی پیسہ کا نمبر دیا جا رہا ہے۔

عبدالرؤف ابراہیم نے الزام عائد کیا کہ دکان داروں کو لاکھوں روپے کے چالان بھیج دیے گئے ہیں اور اس وقت بھی درجنوں دکانیں سیل کی گئی ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ مہنگا آٹا فروخت کرنے پر فلور ملرز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی اور مطالبہ کیا کہ حکومت مہنگا آٹا بیچنے والی فلور ملز کے خلاف فوری کارروائی کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہری انتظامیہ کے ناروا سلوک کے خلاف ہڑتال کی گئی ہے، اگر حکومت آٹے کا بحران حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو یک طرفہ اور من مانی کارروائیوں سے گریز کرے جبکہ کمشنر کراچی نے ہول سیل تاجروں سے ملاقات سے انکار کر دیا ہے۔

اسی طرح تھوک بازاروں کی بندش کے باعث کراچی سے ملک بھر جانے والی اجناس کے ٹرک بھی روک دیے گئے ہیں۔

تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جب تک انتظامیہ کا رویہ درست نہیں ہوتا اور مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج  جاری رہے گا تاہم ہڑتال صرف ایک روز تک محدود رہے گی۔

دوسری جانب تھوک مارکیٹ میں ہڑتال کے باعث یومیہ مزدوری کرنے والے سیکڑوں مزدور بھی روزگار سے محروم ہو گئے ہیں۔

Load Next Story