سیاست،جمہوریت اور عوامی تعلق
salmanabidpk@gmail.com
پاکستان کی سیاست اور جمہوری نظام عوامی مفادات کے مقابلے میں نہ صرف سیاسی تنہائی کا شکار ہے بلکہ یہ ایک مخصوص گروپ کی ترجمانی کرتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے ہماری سیاست اور جمہوریت میں باہمی ٹکراو اور عوام کے اپنے اندر بھی مختلف نوعیت کی سیاسی کشمکش دیکھنے کو ملتی ہے۔
ایک مشہور مقولہ ہے کہ اگر آپ کی سیاست عام آدمی کے مفادات کی عکاسی نہیں کرتی تو یہ نظام عام آدمی میں اپنی بہتر ساکھ قائم نہیں کرسکے گا۔لوگ سیاست اور جمہوریت کو دل سے محسوس نہیں کریں گے اور ان کو لگے گا یہ نظام حقیقی معنوں میں وہ نہیں جو ہماری ترجمانی کرتا ہے ۔اس وقت اگرچہ دنیا میں جو بھی سیاسی نظام موجود ہیں ان میں جمہوری نظام کو ہی ہم بہتر نظام سمجھتے ہیں اور اسی کی مدد سے اس نظام میں اپنا حصہ تلاش کرتے ہیں ۔لیکن اب ایسے لگتا ہے کہ یہ نظام بڑی بڑی سرمایہ دارانہ کمپنیوں یا کارپوریٹ ماڈل کی شکل اختیار کرگیا ہے۔اس جمہوری ماڈل میں اب سرمائے کو طاقت مل گئی ہے اور جس کے پاس سرمائے کی طاقت ہوگی یہ جمہوری نظام اسی کے مفاد کے گرد گھومے گا یا اس کے مفاد کو ہی تحفظ دے گا۔
یہ جو اس ملک میں غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد ہیں یا جو اس ملک کے فرسودہ اور استحصالی نظام کا شکار ہیں ان کی محرومی اور غربت کا خاتمہ کیسے ہوگا۔وہ معاشی ماڈل جو لوگوں کو نہ صرف معاشی تحفظ دے بلکہ ان کو خط غربت سے باہر نکلنے میں بھی مدد دے سکے ۔ایک طرف معاشی ماڈل تو دوسری طرف سیاسی اور قانونی سمیت انتظامی ماڈل ہے جو ان کی زندگیوں میں ان کے بنیادی حقوق کو یقینی بناتا ہے۔
ہمارے کمزور طبقات اور لوئر یا مڈل کلاس طبقات ان حقوق کی تلاش میں سرگرداں ہیں مگر ان کی اس نظام میں کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارا سیاسی اور جمہوری نظام نہ تو اپنی افادیت قائم رکھ پا رہا ہے اور نہ ہی اس نظام کی لوگوں سے مضبوط جڑت دیکھنے کو مل رہی ہے۔وجہ صاف ہے جب مجموعی طور پر حکمرانی کے نظام میں جو بھی فیصلے ہوتے ہیں وہ ایک مخصوص طبقہ تک محدود رہیں گے تو پھر لوگوں کی نظام سے دوریاں اور ٹکراؤ تو لازمی پیدا ہوگا۔اصل میں بحران یہ ہے کہ اس ملک کے پالیسی ساز عام آدمی کے مسائل کے مقابلے میں ایک مختلف سمت میں کھڑے ہیں اور ان میں ذاتی مفاد کے ٹکراؤ کو بھی دیکھنے کا موقع ملتا ہے اور دوسری طرف ان میں کوئی ایسی مشاورت بھی نہیں جو ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھ سکے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم قومی مسائل کے حل میں کہیں دور کھڑے نظر آتے ہیں۔
جمہوری اور سیاسی نظام لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑ کر رکھتا ہے اور ان میں اس احساس کو پیدا کرتا ہے کہ یہ نظام آپ کا ہے اور ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔یہ نظام بنیادی طور پر معاشرے میں موجود محرومی اور طبقاتی تقسیم کو بھی ختم کرنے پر توجہ دیتا ہے اور اس کی توجہ کا مرکز کمزور اور محروم طبقات ہوتے ہیں۔پاکستان میں طاقت ور خوشحال طبقات کے مقابلے میں کمزور طبقات کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور یہ ہی طبقات توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔لوگوں میں اس تاثر کا پیدا ہونا یہ نظام ہمارا نہیں کوئی اچھی علامت نہیں اور اس کو تبدیل ہونا چاہیے۔
اصل میں نظام کی درستگی کے لیے اس کی شفافیت اورمنصفانہ بنیادوں پرآگے بڑھنا ہی اہم ہوتا ہے ۔اس کی ایک بنیادی کنجی ریاستی نظام میں ادارہ جاتی نظام کی مضبوطی سے جڑا ہوتا ہے۔کیونکہ جہاں اداروں کی مضبوطی ہوتی ہے وہیں محروم طبقات کو فائدہ ہوتا ہے اور ملک کی سطح پر اداروں کی مضبوطی کا عمل ہی کمزور افراد کی طاقت ہوتا ہے۔لوگ اداروں پر بھروسہ کرتے ہیں اوران کو اعتماد ہوتا ہے کہ ادارے ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے لیکن ہمارا مجموعی حکمرانی کا نظام اداروں کی بالادستی کے مقابلے میں افراد کی طاقت و حکمرانی کے ساتھ جڑا ہوتا ہے جہاں عام آدمی کا استحصال ہوتا ہے۔ مسئلہ لوگوں کی مراعات کا نہیں بلکہ بنیادی حقوق کی جنگ کا ہے اور لوگ اپنے بنیادی حقوق کی جنگ ہی لڑ رہے ہیں۔
وہ حکمرانی کے نظام سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ یہ نظام ان کے مسائل کے حل کے ساتھ خود کو جوڑے اور ان میں یہ اعتماد پیدا کرے کہ ہم لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔یہ جو خلیج پیدا ہو رہی ہے نظام اور لوگوں کے درمیان اس کو کم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ایسے اقدامات جو لوگوں کو نظر بھی آئیں اور لوگوں کو محسوس ہو کہ وہ نظام کی تبدیلی کے عمل کو اپنی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ہماری پالیسی سازی کا محور عام آدمی ہونا چاہیے۔اس کی ایک عملی شکل ہمیں وفاقی اور صوبائی سطح پر بجٹ کی سیاست کی بنیاد پر سامنے آنی چاہیے۔کیونکہ جب تک ہم بجٹ کی سیاست کو عام آدمی کے مفادات کے ساتھ نہیں جوڑیں اور عام آدمی کے مسائل پر جب تک ہم بڑے پیمانے پر بجٹ کو مختص نہیں کریں گے لوگوں کی زندگیوں میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملے گی۔
اس وقت ہماری بجٹ کی سیاست عام آدمی کے مفادات سے دور ہے اور اس میں عام آدمی کا کوئی خاص حصہ نہیں۔بنیادی مسئلہ جو لوگوں کو معاشی بنیادوں پر تحفظ دے سکے۔کیونکہ اب جب تک ہم لوگوں کے معاشی مسائل کو زیر بحث نہیں لائیں گے اور اس پر عملی اقدامات نہیں کریں گے تو معاشی بہتری کے امکانات کو کیسے پیدا کیا جاسکے گا۔یہ جو نئی نسل ہے اور ان کی تعداد میں جو مسلسل اضافہ ہورہا ہے اس کو کیسے روزگار کے ساتھ جوڑا جائے یا ان کے لیے کیسے نیا روزگار پیدا کیا جائے،اس پر سنجیدہ مکالمہ درکار ہے۔ہمیں مختلف طبقات کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔دوسری طرف ادارہ جاتی استحکام کو ممکن بنانا اور اس کو اپنے ایجنڈے کی بڑی ترجیحات کا حصہ بنانا اور لوگوں کو حکمرانی کے نظام میں شامل کرنا اور ان میں ملکیت کے تصور کو پیدا کرنا ہوگا۔لوگ اس وقت سیاسی ،سماجی اور معاشی طور پر بہت زیادہ تقسیم ہیں اور ان میں بڑے پیمانے پر سیاسی تلخیاں اور ان کا نظام کے خلاف ردعمل بڑھ رہا ہے۔ایسے میں مسئلہ کا حل سیاسی واعظ سے ممکن نہیں ہوگا بلکہ اس کو بنیاد بنا کر حکمرانی کے نظام میں عملی اقدامات درکار ہیں۔
تعلیم،صحت،روزگار،صاف پانی، مقامی انصاف، نقل و حمل،امن وامان،پبلک ٹرانسپورٹ، مہنگائی،صفائی جیسے معاملات میں ریلیف کے مطالبات ہیں۔ وہ بڑے قومی مسائل کے مقابلے میں اپنے مقامی مسائل کے حل میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں۔لیکن ہمارا حکمرانی کا نظام مقامی سطح کے مسائل کے حل میں بہت زیادہ غیر سنجیدہ نظر آتا ہے ۔جو سرکاری اعداد وشمار ہیں وہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے مقامی ترقی کے حقایق بہت سنگین ہیں۔اصل میں اگر لوگ مقامی ترقی سے خوش نہ ہو اور ان کے حالات میںکوئی بہتری اور تبدیلی نہ آئے تو پھر ان کی نظام میں دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔اصل میں ہمارے پاس مقامی ترقی کا کوئی مضبوط خاکہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی فریم ورک نظر آتا ہے ۔اسی وجہ سے ہمارا مقامی ترقی کا ڈھانچہ کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔ ایک بحران پارلیمنٹ اور ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں اور ارکان اسمبلی کا ہے جن کی ترقی کا پیمانہ بہت محدود نظر آتا ہے ۔آج جب لوگ دنیا میں جدید ترقی کے ماڈل دیکھ رہے ہیں تو ان کے سامنے اپنے ہی ملک میں ترقی کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے اس پر ان کے شدید تحفظات ہیں۔
لوگوں کو لگتا ہے کہ مسئلہ کا حل اب اس ملک میں موجود نہیں رہا اور ہمیں اب باہر کی دنیا کے راستے کو اختیار کرنا ہوگا۔باہر کی دنیا کا راستہ کون سا آسان راستہ ہے اس میں بھی نوجوانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے لیکن اس کو ہی اس وقت وہ اپنے مسئلے کا حل سمجھتے ہیں ۔جب یہ بات کی جاتی ہے کہ لوگوں کا سیاست،جمہوریت ،آئین اور قانون کی حکمرانی کے نظام پر اعتماد کو بحال کیا جائے اور لوگوں میں یہ سوچ اجاگر ہوکہ اس نظام کی موجودگی میں ان کی اپنی سیاسی اور معاشی بقا ہے۔ اگرایسا کرنا ہے تو پھر اس نظام کو ان غیر معمولی حالات میںکچھ بڑے غیر معمولی اقدامات کے ساتھ ہی اپنے طرز حکمرانی کے انداز اور طور طریقے بدلنے ہونگے یا ان میں نئی جہتیں پیدا کرنا ہونگی۔کیونکہ فرسودہ اور پرانے خیالات کے ساتھ موجودہ طرز حکمرانی اپنی سیاسی مدت پوری کرچکا ہے اور اس کی مدد سے اب نظام کو ان حالات میں آگے بڑھا کر لوگوں کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔بالخصوص اس نقطہ پر زیادہ توجہ دی جائے کہ ہم نے کیسے اس ملک میں موجود خط غربت سے رہنے والے لوگوں یا غریب لوگوں کی زندگیوں کو کیسے بدل کر ان کا اعتماد حکمرانی کے نظام پر بحال کرنا ہے۔