تنخواہ نوکری کی ہوتی ہے، شہادت کی قیمت نہیں
نیب کا ادارہ سیاسی انتقام کے لیے بنایا گیا، سربراہ جے یو آئی (ف) فوٹو فائل
قومیں صرف اپنی معیشت، بلند و بالا عمارتوں یا جدید اسلحے سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ ان کی اصل طاقت ان لوگوں میں ہوتی ہے جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ان کی آزادی، سلامتی اور خودمختاری کو محفوظ بناتے ہیں۔
ہر ملک کی تاریخ میں ایسے کردار موجود ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے خون سے وطن کی سرحدوں کو مضبوط کیا اور آنے والی نسلوں کو امن کی زندگی عطا کی۔ پاکستان بھی انہی خوش نصیب ممالک میں شامل ہے جس کے سپاہیوں، افسروں، پولیس اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں نے دہشت گردی، سرحدی کشیدگی اور اندرونی خطرات کے مقابلے میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہادت کا لفظ اس قوم کے لیے صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ عزت، وقار اور قومی غیرت کی علامت ہے۔
گزشتہ دنوں ایک ایسا جملہ زیر بحث آیا جس نے بہت سے پاکستانیوں کے دلوں کو دکھ پہنچایا۔ کہا گیا کہ ’’سپاہی شہید ہوا تو کیا، وہ تنخواہ بھی تو لیتا ہے۔‘‘ بظاہر یہ ایک رائے معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ جملہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو قربانی اور ملازمت کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے، مگر کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو صرف کسی فرد پر نہیں بلکہ پوری قوم کے احساسات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کو جذبات کے بجائے اصول اور اخلاقیات کی روشنی میں دیکھا جائے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہر سرکاری ملازم تنخواہ لیتا ہے۔ ایک استاد، ڈاکٹر، نرس، انجینئر، مزدور، پولیس اہلکار، جج، بیوروکریٹ اور منتخب نمائندہ بھی اپنی خدمات کے بدلے تنخواہ یا مراعات حاصل کرتا ہے۔ تنخواہ کسی خدمت کا معاوضہ ہوتی ہے، نہ کہ جان کی قیمت۔ اگر کوئی شخص اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جان قربان کر دیتا ہے تو اس قربانی کو صرف اس بنیاد پر معمولی قرار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنی ملازمت کی تنخواہ وصول کرتا تھا۔ اگر یہی منطق قبول کر لی جائے تو پھر ہر وہ شخص جو دوسروں کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان دے دے، اس کی قربانی بھی صرف نوکری کا حصہ قرار پائے گی، حالانکہ انسانی معاشرے کی اخلاقی بنیادیں اس سوچ کو کبھی قبول نہیں کرتیں۔
سپاہی کی زندگی عام ملازمت سے مختلف ہوتی ہے۔ وہ صرف آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی انجام نہیں دیتا بلکہ چوبیس گھنٹے ہر لمحہ خطرے کے سائے میں رہتا ہے۔ سرحدوں پر شدید گرمی، برفانی سردی، بارودی سرنگوں، دہشت گردی اور دشمن کی فائرنگ کے درمیان کھڑے رہنے والا جوان صرف اپنے خاندان کا نہیں بلکہ پوری قوم کا محافظ ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اگلی صبح وہ اپنے بچوں کو نہ دیکھ سکے، مگر اس کے باوجود وہ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے کیونکہ اس کی پہلی ترجیح وطن کی سلامتی ہوتی ہے۔
جب کوئی سپاہی شہید ہوتا ہے تو اس کے گھر میں صرف ایک فرد کی موت نہیں ہوتی بلکہ ایک پورا خاندان عمر بھر کے لیے بدل جاتا ہے۔ ایک ماں اپنے جوان بیٹے کو کھو دیتی ہے، ایک باپ اپنے بڑھاپے کا سہارا کھو دیتا ہے، ایک بیوی اپنی زندگی کے ساتھی سے محروم ہو جاتی ہے اور بچے اپنے باپ کی شفقت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاتے ہیں۔ کیا چند ہزار یا لاکھ روپے کی تنخواہ ان رشتوں کا نعم البدل بن سکتی ہے؟ کیا کوئی مالی معاوضہ ایک بچے کے سر پر دوبارہ باپ کا ہاتھ رکھ سکتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ اسی لیے شہادت کو تنخواہ کے ترازو میں تولنا انصاف بھی نہیں اور اخلاق بھی نہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ اصول بھی اتنا ہی اہم ہے کہ ریاستی وسائل سے فائدہ اٹھانے والا ہر شخص عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔ چاہے وہ سیاست دان ہو، سرکاری افسر ہو، منتخب نمائندہ ہو یا کسی بھی بڑے منصب پر فائز فرد، عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس سے اس کی کارکردگی کے بارے میں سوال کریں۔ عوام کے ٹیکس سے چلنے والے نظام میں احتساب کسی ایک ادارے یا طبقے کے لیے مخصوص نہیں ہونا چاہیے بلکہ سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ یہ سوال کسی کی تضحیک نہیں بلکہ جمہوری نظام کا بنیادی اصول ہے۔
اسی طرح معاشرے میں علماء، اساتذہ، دانشوروں اور دیگر بااثر طبقات کا بھی ایک اہم کردار ہے۔ ان کا مقام احترام کا تقاضا کرتا ہے، لیکن احترام کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ معاشرتی برائیوں پر خاموش رہیں۔ جب معاشرے میں ظلم، ناانصافی، بدعنوانی یا مذہب کے نام پر جرائم سامنے آئیں تو ہر صاحبِ علم اور صاحبِ کردار کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلا امتیاز حق کا ساتھ دے۔ اصول کی خوبصورتی یہی ہے کہ وہ سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔
آج اگر ہم سکون سے اپنے گھروں میں بیٹھ کر اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں، رات کو بے خوف سو رہے ہیں، اپنے کاروبار، تعلیمی اداروں اور عبادت گاہوں میں آزادی کے ساتھ جا رہے ہیں تو اس کے پیچھے بے شمار گمنام سپاہیوں کی قربانیاں موجود ہیں۔ ہمیں شاید ان کے نام یاد نہ ہوں، مگر ان کی قربانیوں کے بغیر یہ امن ممکن نہ ہوتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ہزاروں فوجی جوانوں اور افسران کو کھویا ہے۔ ان کی قربانیاں صرف ان کے خاندانوں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی امانت ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کو ہمیشہ احترام حاصل ہوتا ہے۔ حکومتوں پر تنقید، پالیسیوں پر سوال، فیصلوں پر بحث اور اصلاح کی بات کرنا ہر شہری کا حق ہے، لیکن جب گفتگو ان لوگوں تک پہنچ جائے جو اپنی جان دے کر وطن کی حفاظت کرتے ہیں تو الفاظ کا انتخاب زیادہ ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ اختلاف کی بنیاد پر کسی شہید کی قربانی کو معمولی قرار دینا نہ صرف اخلاقی طور پر نامناسب ہے بلکہ دشمن کے بیانیے کو بھی تقویت دیتا ہے، جو ہمیشہ قوم اور اس کے محافظوں کے درمیان فاصلے پیدا کرنا چاہتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ شہداء کی عزت کسی ایک ادارے یا طبقے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دنیا کی ہر باوقار قوم اپنے شہداء کو عزت دیتی ہے، ان کے خاندانوں کی دلجوئی کرتی ہے اور نئی نسل کو ان کی قربانیوں سے روشناس کراتی ہے۔ یہی رویہ قوموں کو مضبوط بناتا ہے اور یہی احساس مستقبل کے محافظ پیدا کرتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تنخواہ ملازمت کا حق ہوتی ہے، لیکن شہادت اس حق سے کہیں بلند مقام رکھتی ہے۔ تنخواہ خدمت کا معاوضہ ہے جبکہ شہادت وطن پر نچھاور ہونے والی زندگی کا وہ آخری تحفہ ہے جس کی کوئی قیمت مقرر نہیں کی جا سکتی۔ ہمیں اپنے شہداء کا احترام بھی کرنا ہے اور ریاست کے ہر ادارے میں جواب دہی کو بھی فروغ دینا ہے، کیونکہ مضبوط قومیں جذبات اور اصول دونوں کو ساتھ لے کر چلتی ہیں۔
آج اگر ہم واقعی ایک ذمے دار اور باوقار قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اختلافات کو مہذب انداز میں بیان کرنا ہوگا، احتساب کو سب کے لیے یکساں بنانا ہوگا اور اپنے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ تنخواہ نوکری کی ہوتی ہے، مگر شہادت کسی قیمت کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی لازوال قربانی ہے جس پر پوری قوم ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔