اسرائیل کا غزہ میں جنازے پر حملہ؛ 9 سوگوار شہید، 20 زخمی؛ ویڈیو وائرل
اسرائیل کے غزہ میں ایک جنازے پر حملے میں 9 افراد شہید اور 20 زخمی
غزہ کے نصیرات پناہ گزین کیمپ میں ایک جنازے کے لیے جمع شہریوں پر اسرائیل کے براہ راست حملے میں 9 فلسطینی جاں بحق جبکہ 20 افراد زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب فلسطینی شہری ایک ایسے شخص کی نمازِ جنازہ ادا کر رہے تھے جو اسی روز ہونے والے ایک اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوگیا تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں نصیرات کے العودہ اسپتال کی انتظامیہ نے بتایا کہ جنازے میں شریک سوگواروں کو براہِ راست نشانہ بنانے کے واقعے میں 7 فلسطینی شہید اور 22 زخمی ہوگئے۔
تاحال اُس شخص کی شناخت سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئی جس کے نماز جنازہ میں بھی اسرائیل نے حملہ کرکے نے انسانی حقوق کی تمام حدوں کو پار کرلیا۔
یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے حماس کے ایک اہم کمانڈر انس محمود احمد حمدان کو نشانہ بنایا جو حماس کے اہم ترین رہنما کا دایاں ہاتھ تھے۔
#شاهد| اللحظات الاولى عقب استهداف الاحتلال المخيم الجديد شمال غرب النصيرات pic.twitter.com/ziZPfuXP9Y
— المركز الفلسطيني للإعلام (@PalinfoAr) July 17, 2026
حماس نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایک گھناؤنا جرم ہے جو ایسے وقت میں کیا گیا جب اسرائیل غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ترجمان حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں ثالث ممالک اور عالمی برادری کی موجودگی میں بھی نہ رک سکیں اور معصوم فلسطینیوں کا قتل جاری ہے۔
اسرائیلی فوج نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا تاہم اسرائیل ماضی میں یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے جنگجو ہوتے ہیں۔