ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ؛ العدید ایئر بیس پر حملہ

امریکی فوج کا بغیر پائلٹ کا یہ چھوٹا جاسوس طیارہ نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے صوبہ خوزستان میں امریکی جاسوسی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ امریکی العدید ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی ساختہ آر کیو-11 راوین ڈرون خوزستان کے شہر رامشیر میں ایرانی فضائی حدود کے قریب پرواز کر رہا تھا جہاں بسیج فورس کے اہلکاروں نے فائرنگ کرکے مار گرایا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی جاسوسی ڈرون ایرانی علاقے میں نگرانی کی سرگرمیوں میں مصروف تھا تاہم اس واقعے کی مزید تفصیلات یا ڈرون کے ملبے کی تصاویر جاری نہیں کی گئیں۔

یاد رہے کہ امریکی فوج کا بغیر پائلٹ کا یہ چھوٹا جاسوس طیارہ عموماً مختصر فاصلے تک نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قطر میں واقع امریکی العدید ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا تاہم دوحہ سے رپورٹس کے مطابق اس دعوے کی تاحال کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

قطر سے رپورٹنگ کرنے والی صحافی وکٹوریہ گیٹنبی کے مطابق العدید ایئر بیس دوحہ کے مضافات میں واقع امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے جہاں عموماً 10 ہزار کے قریب امریکی فوجی اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ یہی اڈہ امریکی سینٹرل کمانڈ کا فارورڈ ہیڈکوارٹر بھی ہے۔ اب تک نہ امریکی حکام اور نہ ہی قطری حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اڈے کو کوئی نقصان پہنچا یا وہ حملے کی زد میں آیا۔

خیال رہے کہ قطر مسلسل یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ العدید ایئر بیس کو ایران کے خلاف کسی بھی امریکی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔

قطر میں آج علی الصبح دو مرحلوں میں حملے ہوئے جن کا وقت غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

یہ حملے قطر کے مرحوم امیر کے سوگ کی سرکاری مدت ختم ہونے کے چند گھنٹوں بعد اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دوحہ کے تعزیتی دورے کے تقریباً 48 گھنٹے بعد کیے گئے۔

 

 

Load Next Story