مشرق وسطی بحران، سفارت کاری واحد راستہ
دنیا ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت، سفارت کاری اور معاشی مفادات کی کشمکش نے عالمی امن کو غیر یقینی کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بھڑکنے والی جنگ نے خطرات کی نوعیت کو پہلے سے کہیں زیادہ سنگین بنا دیا ہے۔
اس کشیدگی کا دائرہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت اور خطے کے مستقبل پر براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ انکشاف کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کو ناکام بنانے کے لیے منظم کوششیں کیں، محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے جو برسوں سے مختلف سفارتی حلقوں میں زیر بحث رہی ہے، اگر واقعی مذاکراتی عمل کو دانستہ سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ صرف ایک معاہدے کی ناکامی نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری کے بنیادی اصولوں پر سوالیہ نشان ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی ہر کوشش ہمیشہ مختلف علاقائی اور عالمی مفادات سے ٹکراتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مذاکرات کی کوئی امید پیدا ہوتی ہے تو ایسے عوامل بھی متحرک ہو جاتے ہیں جو تصادم کو برقرار رکھنے میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔
امن کی راہ ہمیشہ صبر، برداشت اور سیاسی بصیرت کا تقاضا کرتی ہے، جب کہ جنگ فوری جذبات، عسکری قوت اور وقتی برتری کے مظاہرے سے جنم لیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں کے فیصلے میدانوں میں ضرور ہوتے ہیں، مگر ان کے نتائج نسلوں تک معاشروں کو متاثر کرتے رہتے ہیں، اگر کسی مفاہمتی یادداشت کو ناکام بنانے کے لیے پس پردہ سرگرمیاں کی گئیں تو اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ بعض قوتیں خطے میں مستقل کشیدگی کو اپنی حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں نے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے کہ بحران محدود دائرے سے نکل کر وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
فضائی حملوں، میزائل کارروائیوں، حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے اور جوابی حملوں نے پورے خطے کو خوف اور غیر یقینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ دونوں ممالک اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں، مگر جنگ کا اصل پیمانہ عسکری بیانات نہیں بلکہ انسانی جانوں، تباہ شدہ انفرااسٹرکچر اور بگڑتے ہوئے معاشی حالات سے لگایا جاتا ہے۔ ہر حملے کے بعد متاثر ہونے والے شہری، تباہ ہونے والے مکانات، بند پڑنے والے اسپتال، معطل بجلی کے نظام اور خوفزدہ خاندان اس حقیقت کی یاد دلاتے ہیں کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہتی۔
ان حالات میں امریکی ذرائع ابلاغ میں یہ اطلاعات سامنے آنا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی سمیت مختلف عسکری آپشنز پر غور کر رہے ہیں، تشویش میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ اگرچہ امریکی نائب صدر نے زمینی فوج بھیجنے کی خبروں کی تردید کی ہے، لیکن عسکری منصوبہ بندی سے متعلق اطلاعات خود اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مختلف امکانات زیر غور ہیں۔ کسی خودمختار ریاست میں زمینی مداخلت یا حکومت کی تبدیلی کی کوشش نہ صرف بین الاقوامی قانون کے حوالے سے پیچیدہ سوالات پیدا کرتی ہے بلکہ پورے خطے کو ایسی غیر یقینی میں دھکیل دیتی ہے جس کے نتائج کئی دہائیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
عراق، افغانستان اور لیبیا کی مثالیں آج بھی دنیا کے سامنے موجود ہیں جہاں عسکری مداخلت نے استحکام کے بجائے طویل بدامنی، مہاجرین کے بحران، معاشی زوال اور انتہاپسندی کو جنم دیا،اگر ایران میں بھی اسی نوعیت کی حکمت عملی اختیار کی گئی تو اس کے نتائج ماضی کے تجربات سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایران محض ایک ریاست نہیں بلکہ خطے کی ایک اہم جغرافیائی، سیاسی اور اقتصادی قوت ہے۔ اس کے گرد موجود سمندری راستے، توانائی کے ذخائر، علاقائی اتحاد اور اس کی دفاعی صلاحیتیں کسی بھی ممکنہ جنگ کو محدود رہنے نہیں دیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو اپنی ریڈ لائن قرار دینا محض ایک عسکری انتباہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی واضح پیغام ہے کہ اگر جنگ مزید پھیلی تو اس کے اثرات ہر براعظم تک پہنچیں گے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور قدرتی گیس اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے، اگر یہاں کشیدگی برقرار رہتی ہے یا بحری آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، صنعتی پیداوار میں کمی، مہنگائی کی نئی لہر اور عالمی تجارت میں رکاوٹیں ناگزیر ہو جائیں گی۔ ترقی یافتہ ممالک شاید وقتی طور پر اس دباؤ کو برداشت کر لیں، لیکن ترقی پذیر اور درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والی معیشتوں کے لیے یہ بحران شدید معاشی مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ عالمی توانائی ایجنسی کی حالیہ تنبیہ اسی پس منظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ توانائی کا بحران صرف ایندھن کی قلت تک محدود نہیں رہتا بلکہ خوراک، ٹرانسپورٹ، صنعت، برآمدات اور روزگار کے پورے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ایسے نازک حالات میں پاکستان کا سفارتی کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
پاکستان نے گزشتہ عرصے میں جس دانش مندی کے ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے لیے ماحول سازگار بنانے میں کردار ادا کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد تصادم کے بجائے مکالمے کو مسائل کا واحد پائیدار حل سمجھتا ہے۔ یہ محض سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک ذمے دار ریاست کی حیثیت سے پاکستان کے مثبت تشخص کا اظہار بھی ہے۔ ایسے وقت میں جب بڑی طاقتیں عسکری حکمت عملیوں پر غور کر رہی ہیں، پاکستان نے رابطے، اعتماد سازی اور مذاکرات کی حمایت کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ عالمی امن صرف طاقت کے توازن سے نہیں بلکہ سیاسی بصیرت سے قائم رہتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے یہ عزم دہرانا کہ پاکستان دوبارہ دونوں ممالک کو مفاہمتی یادداشت کے نکات پر عملدرآمد کی طرف لانے اور مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ سفارت کاری کی اصل کامیابی یہی ہوتی ہے کہ اختلافات کی شدت کے باوجود رابطے کا دروازہ بند نہ ہونے دیا جائے۔ جب فریقین ایک دوسرے سے بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو میدانِ جنگ ہی واحد زبان بن جاتی ہے، اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں انسانی جانیں، قومی معیشتیں اور علاقائی استحکام سب کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔ پاکستان کی ذمے داری صرف ثالثی تک محدود نہیں بلکہ اسے دیگر دوست ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں مذاکرات دوبارہ ممکن ہو سکیں۔
اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر بھی اس وقت غیر معمولی ذمے داری عائد ہوتی ہے، اگر بین الاقوامی ادارے صرف بیانات تک محدود رہیں اور طاقتور ممالک اپنی مرضی کے مطابق عالمی قوانین کی تشریح کرتے رہیں تو عالمی نظام کی ساکھ متاثر ہوگی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جنگ بندی، شہری آبادی کے تحفظ، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور سفارتی مذاکرات کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ عالمی اداروں کی خاموشی یا غیر موثر کردار صرف کشیدگی میں اضافہ کرے گا اور مستقبل میں ہر تنازع کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کا رجحان مزید مضبوط ہوگا۔
یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ کسی بھی ریاست کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی نظام کا احترام بین الاقوامی قانون کی بنیادی روح ہے، اگر حکومتوں کی تبدیلی یا سیاسی فیصلوں کو بیرونی عسکری طاقت کے ذریعے نافذ کرنے کا رجحان فروغ پاتا ہے تو عالمی نظام مستقل عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اختلافات خواہ کتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں، ان کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور باہمی مذاکرات کے دائرے میں تلاش کیا جائے۔
طاقت کے استعمال سے وقتی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، مگر پائیدار امن صرف انصاف، اعتماد اور سیاسی مفاہمت سے ہی ممکن ہوتا ہے۔آج دنیا کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو جنگی نعروں کے بجائے امن کی زبان بولنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ موجودہ بحران میں بھی اگر متعلقہ فریق جذبات سے بالاتر ہو کر حقیقت پسندانہ فیصلے کریں، مفاہمتی یادداشت پر دوبارہ عملدرآمد کو یقینی بنائیں، اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کریں اور مذاکراتی عمل کو بحال کریں تو نہ صرف ایک تباہ کن جنگ کو روکا جا سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی امن کو بھی ایک بڑے خطرے سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے، کیونکہ تاریخ طاقت کے مظاہروں کو عارضی کامیابی سمجھتی ہے، جب کہ امن قائم کرنے والوں کو ہمیشہ پائیدار احترام عطا کرتی ہے۔