کاروکاری کی مکروہ جاہلانہ رسم

یہ بھی درست ہے کہ بعض علاقوں میں اب بھی بیٹیوں کی شادی پیسہ لے کر کی جاتی ہے وہ بیٹی کو کمائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

m_saeedarain@hotmail.com

دختران کراچی کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب میں ایک اجتماع کاروکاری دفن کریں، کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں کاروکاری کے نام پر خواتین کا قتل جاگیردارانہ نظام کی بدترین شکل ہے۔

اس موقع پر خواتین سینیٹرز اور دیگر نے بتایا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران 34 خواتین کو سندھ میں کاروکاری کے الزام میں قتل کیا جانا انتہائی تشویش ناک ہے اب وقت آ گیا ہے کہ اس فرسودہ رسم کو ختم کرانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں موثر قانون سازی کریں اور ذمے داروں کو گرفتار کرکے کڑی سزا دلوائی جائے کیونکہ سیاسی اور بااثر افراد کی پشت پناہی سے یہ مکروہ رسم ختم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے، پولیس اور انتظامیہ اس سلسلے میں بااثر افراد اور وڈیروں کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔

 اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اس جاہلانہ کاروکاری کی رسم کے خاتمے کے لیے اس پلیٹ فارم سے مہم جاری رہے گی اور اس وحشیانہ رسم کے خاتمے کے لیے پارلیمان سمیت ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔ اس موقع پر بلوچستان میں ایک معصوم بچی کے قتل اور اسے درگور کرنے کے شرم ناک واقعے کی بھی شدید مذمت اور ملزمان کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ اکثر کاروکاری کے واقعات کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی جاتی اور انتظامیہ اور پولیس کچھ نہیں کرتی۔

اس موقع پر صرف اندرون سندھ چار ماہ میں 34 خواتین کو کاروکاری کے الزام میں قتل کا ذکر کیا گیا ہے جب کہ ملک بھر میں بلکہ دیہی اور پس ماندہ علاقوں میں اس شرمناک رسم پر خواتین ماری جا رہی ہیں اور اب نوبت معصوم اور کم عمر نابالغ بچیوں تک آ پہنچی ہے جس کی تازہ مثال بلوچستان میں ایک معصوم بچی کو زندہ درگور کیا جانا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے مگر سرکاری طور پر ظالموں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی نہ دکھانے کا کوئی سرکاری بیان آیا اور نہ ہی ترقی پسند خواتین کو اس ہولناک معصوم بچی کے قتل پر احتجاج کرنے کی توفیق ہوئی۔

موجودہ صورت حال میں بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیوں کی تعداد بلاشبہ بہت زیادہ ہے مگر یہ قدرت کی دین ہے جس میں بیٹیاں پیدا کرنے والی خواتین کا کوئی قصور نہیں۔ اسلام میں بیٹیاں نعمت قرار دی گئی ہیں اور بیٹیوں کی تعداد زیادہ ہو جانے کی وجہ سے ان کے رشتوں کا حصول بھی بلاشبہ مشکل ہو گیا ہے مگر اللہ کوئی راستہ نکال ہی دیتا ہے کیونکہ رشتے آسمانوں پر طے ہوتے ہیں مگر بعض لوگ یہ بات نہیں مانتے اور بیویوں کو بیٹیوں کی پیدائش کا ذمے دار قرار دے کر خواتین کے ساتھ مظالم پر اتر آتے ہیں۔

یہ بھی درست ہے کہ بعض علاقوں میں اب بھی بیٹیوں کی شادی پیسہ لے کر کی جاتی ہے وہ بیٹی کو کمائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ پہلے پس ماندہ اور دیہی علاقوں میں کاروکاری کی رسم زیادہ تھی جو اب شہروں میں بھی پھیل چکی ہے مگر اس کا نشانہ وہ جوڑے بن رہے ہیں جو والدین کی انا اور ضد کے باعث لو میرج کر لیتے ہیں اور پناہ کے لیے بڑے شہروں میں آ بستے ہیں جن کی خبریں میڈیا، عدلیہ اور پولیس کے سامنے آتی رہتی ہیں جو تحفظ چاہتے ہیں مگر جاہل اور انا کا شکار لوگ اسے اپنی بے عزتی سمجھ کر تلاش میں رہتے ہیں اور شہروں میں آ کر شادی شدہ جوڑوں کو کاروکاری کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔

اسلام نے لڑکیوں کو بھی پسند کی شادی کا حق دیا ہے اور موجودہ حالات میں بیٹیوں کے رشتے نہیں ملتے اور غربت بھی جلد اور وقت پر شادی نہ ہونے دینے میں حائل ہے تو ایسے والدین کو سمجھائے جانے کی ضرورت ہے کہ موجودہ حالات میں اپنے بچوں کی پسند کے فیصلے قبول کر لیں اور انا حائل ہو تو ان سے لاتعلقی اختیار کرکے انھیں اپنی مرضی کی زندگی گزارنے دیں ناکہ ان کے دشمن بن کر انھیں موت کے گھاٹ اتارتے اور خود اپنی مشکلات بڑھاتے رہیں۔ اس سلسلے میں کاروکاری کے فیصلے اپنے مفاد کے لیے کرنے والے سرداروں اور وڈیروں کو سرکاری طور پر پابند کیا جائے کہ وہ پسند کی شادی کو کاروکاری قرار نہ دیں بلکہ ایسے متاثرہ خاندانوں کو بھی سمجھائیں کہ وہ کاروکاری کے الزام میں پریمی جوڑوں کو قتل نہ کریں۔

Load Next Story