خدمت خلق اور اخلاص کی خوشبو سے معمور ،شاہین فاطمہؔ

وہ اپنے خاندان کی نمایاں خاتون تھیں اس لیے سب ان کی بات کو اہمیت دیتے

خدمت خلق کے معنی مخلوق کے کام آنا ہے، لیکن اسلام میں اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لیے بلا کسی اُجرت اور صلے کے خلق خدا کے کام آنا اور امانت پر کمربستہ رہنا ہے، اگرچہ عام طور پر خدمت خلق سے مراد کسی اُجرت اور لالچ کے بغیر بنی نوعِ بشر کی خدمت کرنا ہے۔

شاہین اقبال اُن نایاب شخصیات میں سے ہیں جنھوں نے ہمیشہ کٹھن حالات میں اپنے علاقے، اپنے عوام اور اپنے خاندان کے ساتھ خلوص اور دردِ دل کے ساتھ کھڑے ہو کر خدمت کی مثال قائم کی۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو خدمت خلق اور اخلاص کی خوشبو سے معمور تھا۔

شاہین اقبال نے یہ بات عملاََ ثابت کر دی کہ خدمت کے لیے کسی عہدے یا منصب کی ضرورت نہیں ہوتی، اگر نیت خالص ہو، دل میں دردِ انسانیت ہو اور جذبہِ ایثار زندہ ہو تو ہر شخص اپنے حصے کا چراغ جلا سکتا ہے۔

شاہین اقبال ایک راست گو، صاحبِ کرداراور گفتار میں ایسی بے مثال اور اپنے عہد کی بااثر خاتون تھیں۔ جنھوں نے اپنی تمام زندگی اس قناعت پسندی سے گزاری کہ لوگوں کے ساتھ میل جول میںکسی قسم کی بناوٹ سے کام نہیں لیا۔

وہ اپنی بے لوث فطرت اور اعلیٰ اخلاق کی بدولت خاندان اور معاشرے میں احترام اور عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتیں۔ ان کی سچی ہمدردی اور حوصلہ افزائی لوگوں کو ذہنی سکون دیتی۔ علاقے کی تمام خواتین ان کے پاس آتی اور انھیں اپنے مسائل سے آگاہ کرتی اور جہاں تک ممکن ہوتا اُس مسئلے کا حل نکالتی۔

وہ خواتین کی سچی راز دان اور ہمراز تھیں۔ علاقے کی سبھی خواتین کا راز ان کے پاس امانت ہوتا۔شاہین اقبال نے ہمیشہ دوسروں کے دُکھ ،درد اور مسائل کو اپنے دامن میں سمیٹ کر پریشان چہروں پر تبسم کے پھول کھلائے۔

ان کے چھوٹے بیٹے نے مجھے اس کالم کے دوران بتایا کہ ’’ہمیں بچپن سے لے کر ابتک ہر کام میں رہنمائی فرمانے والی ہماری عظیم ماں تھیں، ان کی خاص بات یہ تھی کہ ہم بہن بھائیوں کو کبھی پڑھائی کے معاملات میں کسی قسم کی پریشانی سے دوچار نہیں ہونا پڑا، انھوں نے ہمیں امیروں کے بچوں کی طرح پڑھایا، وہ زندگی کے ہر کام میں آگے بڑھ کر ہماری حوصلہ افزائی کرتی۔ 

ان کی بے شمار صفات میں سے ایک صفت یہ تھی کہ اللہ نے ان کے دستِ مبارک میں شِفا رکھی ہوئی تھی، علاقے کی کسی بھی خاتون یا بچے کے بازو کی ہڈی یا جسم کے کسی بھی حصے میں کوئی درد ہوتا تو وہ اس کا علاج اپنے مخصوص انداز میں کرتی جس سے فوراََ بیمار کو شفا مل جاتی۔ ان کے پاس دور دراز کے علاقوں سے بھی لوگ تشریف لاتے۔‘‘

وہ مہمان نوازی میں بھی بے مثال تھیں۔ علاقے کی کسی بھی مسجد میں تبلیغی جماعت کے افراد آتے تو علاقے میں گیس کی بندش کی وجہ سے ان کے کھانے پینے کا بھرپور انتظام کرتیں۔ بیس سے پچیس افراد دین کی تبلیغ کے لیے جتنے دن بھی علاقے میں قیام کرتے ان کی مہمان نوازی کی ذمے داری خود قبول کرتیں۔

ان کے بیٹوں نے اپنے ماں اور باپ کے نام پر ’’شاہین اقبال‘‘ تعلیمی ادارہ قائم کر رکھا ہے جہاں سیکڑوں کی تعداد میں بچے تعلیم کی روشنی سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ اسکول کی بلڈنگ کی تعمیر کے دوران مستری مزدور کام کرتے تو ان کے کھانے پینے کا خاص خیال رکھنے اور ان کے بقایا جات کو بروقت چکانے کا حکم اپنے بیٹے آفتاب اور فاروق کو صادر کرتی۔

انھوں نے ہمیشہ اپنی اولاد کو ایمانداری اور صداقت سے پیش آنے کا درس دیا۔ ماں کی یہ سب خوبیاں ان کے بڑے فرزند ارجمند خواجہ آفتاب عالم میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ ان کے آفس یا گھر میں کوئی بھی عام و خاص شخص تشریف لائے تو اُس کے کھانے پینے کی اشیا بروقت میسر کی جاتی ہیں۔

اس حوالے فاروق احمدبٹ کا کہنا ہے کہ’’ہمارے بڑے بھائی ایک درویش آدمی ہے وہ جس سوسائٹی میں رہتے ہیں انھیں کیا ان کی صفات کا پتہ ہو انھوں نے سارا کچھ دوسروں پر نچھاور کر دیا، اگر میرا بھائی اس دولت کو سمیٹ کر رکھتا تو میرے خیال میں علاقے میں کسی اور کے پاس اتنی دولت نہ ہوتی جتنی میرے بھائی کے پاس تھی۔

ان کی درویشی کا عالم یہ ہے کہ انھوں نے کبھی اپنی دہلیز سے کسی کو خالی نہیں جانے دیا، امی کا زیادہ سخاوت کا رنگ اور خدمت خلق کا جذبہ ان میں نمایاں ہے۔‘‘۔شاہین اقبال کے بیٹوں میں خواجہ آفتاب عالم، محبوب عالم، سرفراز احمد اور فاروق احمد بٹ شامل ہیں۔

ان کے نزدیک ماں ایک انمول تحفہ ہے جو محبت و شفقت، صبر و برداشت، ایثار و قربانی کا دوسرا نام ہے۔ شاہین اقبال کے بیٹے نیک سیرت اور صداقت پسندی کی تصویر دکھائی دیتے ہیں۔ ہر ماں کی طرح جب وہ اپنی اولاد کے لیے بارگاہِ خداوندی میں دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھاتی تو کرم کے پھول کھلنے لگتے۔ منور رانا کے اس شعر کے مصداق:

ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا

میں گھر سے جب نکلتا ہوں دُعا بھی ساتھ چلتی ہے

ان کے خاندان میں جس گھر میں بھی کوئی جھگڑا پیش آتا وہاں معاملے کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کرتی، وہ اپنے خاندان کی نمایاں خاتون تھیں اس لیے سب ان کی بات کو اہمیت دیتے۔خاندان یا علاقے میں کوئی بیمار ہوتا تو اُس عیادت کے لیے جاتی اور جہاں تک ممکن ہوتا اُس کی مالی معاونت بھی کرتی۔

ان کی شادی گوجرانوالہ کے تاریخی گاؤں کوٹلی نواب کے زمیندار گھرانے میں ہوئی، ان کے شوہر محمد اقبال کاشمیری ایک سعادت مند اور نہایت شریف اور صاف گو آدمی ہے۔ ان کے سسر غلام محمد کاشمیری اپنے عہد کے امیر کبیر آدمی تھے، جو کم و بیش آٹھ زبانوں پر دسترس رکھنے والی شخصیت تھے۔

خواجہ آفتاب عالم اپنے خاندان کے قابل فخر اور لائقِ تحسین فرد سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اپنی ماں کی دُعاؤں کی برکتوں اور باپ کی شفقتوں کا سایہ لیے خودایک ایسا روپ دھارے ہوئے ہیں جس میں ماں اور باپ دونوں محبت شامل ہیں۔ جس کا اندازہ اعتبار ساجد کے ان اشعار سے لگایا جا سکتا ہے:

رہا، پا برہنہ وہ خود مگر، نیا بوٹ مجھ کو دلا دیا

مرے باپ کے اسی روپ نے مجھے باپ جیسا بنا دیا

میں تماشہ دیکھنا چاہتا تھا سروں کی اونچی قطار سے

مرے پیر کاندھے پہ رکھ لیے، مجھے دوسروں سے بڑھا دیا

شاہین اقبال اپنے آخری ایام میں بہت علیل ہو گئی تھیں، اس دوران میں زیادہ تر بڑے بیٹے خواجہ آفتاب عالم کے گھر جاتی تو شام ہوتے ہی اپنے چھوٹے بیٹے فاروق احمد کے پاس آ جاتی۔ کیوں کہ بڑوں کی عادت ہوتی ہے وہ جہاں رہنا پسند کرتے ہیں وہی قیام کرتے ہیں۔

ان کے تمام بیٹے مودب ہیں لیکن خدمت کا زیادہ حصہ چھوٹے بیٹے کے حصے میں آیا۔ کیونکہ ماں وہ ہستی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں، اس کے احسانات کا بدلہ کوئی چکا ہی نہیں سکتا۔ اس کی خدمت، اطاعت اور دل جوئی اولاد پر فرض ہے۔

شاہین اقبال بھی اپنے علاقے کی خواتین کے لیے ایک رول ماڈل شخصیت تھیں۔ ان کی وفات 18 جون 2026 کوہوئی اور نمازِ جنازہ 19 جون بروز جمعتہ المبارک بوقت دس بجے دن چار مواقع پر نعت کی سیرت پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر سے صدارتی ایوارڈحاصل کرنیوالی شخصیت مفتی ڈاکٹر پروفیسر علامہ ثاقب علوی نے پڑھائی ۔

اُن کی نمازِ جنازہ ادا ہونے سے تقریباََ ایک گھنٹہ قبل آسمان سے ٹھنڈی ہواؤں اوررحمت کی گھٹاؤں کا برسنا دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ باری تعالیٰ سبحان اللہ تیری قدرت کیسے اچانک یہ موسم بدل گیا۔ اتنا پُر سکون موسم جو زندگی میںشاید ہی دیکھنے کو ملاہو۔

ان کے دنیا سے پردہ کر جانے پر عزیز و اقرباء اور ہر عمر کے افراد، خاص طور پر علاقے کی ما ں، بہن اور بیٹی اشک بار تھیں ، ان کے جنازے میں ہزاروںکی تعداد میںہر طبقہ فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ آخر میںفاروق احمد فاروقؔ کے اپنی ماں کی یاد میں لکھے گئے ان اشعار کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔

میں دشت بلا سے ہوں محفوظ رہتا

مجھے اس طرح سے سنبھالا ہے ماں نے

کُھلے مجھ پہ خوشیوں کے ابواب سارے

غموں کو لگایا جو تالا ہے ماں نے

Load Next Story