جنگ

اقوام عالم کے تقریبا تمام ہی ممالک یہ کہتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے

جنگ کا بنیادی مطلب لڑائی، تصادم، معرکہ یادو سے زائد فریقین کے درمیان ہونے والی کشا کش ہے، جنگ کا اردو میں بنیادی مطلب لڑائی یا تصادم کے ہیں۔ عربی اور فارسی زبان میں بھی اس کا مطلب اور مفہوم دشمنی مقابلے یا دو فریقین کے مابین شدید مخالفت کے آتے ہیں۔

کرہ ارض پر مخالفت اور لڑائی جھگڑا دشمنی کوئی نئی بات نہیں، جب سے بنی نوع انسان نے کرہ ارض پر اپنے قدم رکھے ہیں ،تب سے لے کر اب تک جنگوں کا سلسلہ پورے زور و شور سے آج تک جاری و ساری ہے ۔

اگر اقوام عالم کی پہلی جنگ دیکھی جائے تو دنیا کی پہلی جنگ عظیم 28 جولائی 1914 سے 11 نومبر 1918 تک لڑی گئی۔ یہ تاریخ کا پہلا عالمی تنازع تھا ،یہ جنگ دو بڑی اتحادی قوتوں جس میں برطانیہ ،فرانس اور روس شامل تھے اور مرکزی طاقتوں میں جرمنی، آسٹریا ،ہنگری اور سلطنت عثمانیہ شامل تھے کے درمیان لڑی گئی تھی۔

اس جنگ کے نتیجے میں تقریبا دو کروڑ افراد جاں بحق ہوئے ۔ستمبر 1939 کو دوسری عالمی جنگ عظیم نازی جرمنی کے پولینڈ پر حملے سے شروع ہوئی اور بلا خر دو ستمبر 1945 کو جاپان کے ہتھیار ڈالنے پر ختم ہوئی ۔

یہ اقوام عالم کی تاریخ کی سب سے تباہ کن جنگ تھی جو دو بڑی اتحادی افواج کے درمیان ایکسس پاور محوری طاقتوںمیں لڑی گئی۔ اس عالمی جنگ عظیم کا دورانیہ1939 تا 1945 تھا ۔محوری طاقتوں میں جرمنی اٹلی اور جاپان شامل تھے، اس کے برعکس اتحادی افواج میں برطانیہ، فرانس، سوویت یونین ،روس، امریکا اور چین پیش پیش تھے۔

اس جنگ عظیم میں تقریبا سات سے آٹھ کروڑ فوجی اور عام شہری ہلاک ہوئے ۔اس جنگ کا اختتام اگست 1945 میں ہوا جب امریکا کی جانب سے جاپانی شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے گئے جس کے بعد جاپان نے ہار مان کر ہتھیار ڈال دیے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام عالم دو بڑی سپر پاورز امریکا اور سوویت یونین میں تقسیم ہو گئی ،اس کی بدولت دنیا میں امن کو برقرار رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی۔

اسی طرح شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم نیٹو کا قیام 14 اپریل 1949 کو عمل میں آیا ۔اس کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی دفاع اور اجتماعی سلامتی کو یقینی بنانا تھا ۔

اسی طرح ہم پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پاکستان اور بھارت کے مابین 1947 قیام پاکستان کے بعد سے اب تک چار بڑی باقاعدہ جنگیں کارگل کی محدود جنگ اور کئی سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں اور ان جنگوں کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر، سرحدوں کا تنازعہ اور سیاسی کشیدگی رہی ہے۔

اقوام عالم کے تقریبا تمام ہی ممالک یہ کہتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے یہ دیکھا گیا ہے کہ دنیا میں تمام مسائل کا حل جنگ ہے ۔خود کو امن پسند کہنے والے ممالک پس پردہ اور کھلی جنگوں میں ملوث رہے ہیں۔ جنگ ایک غیر فطری عمل ہے۔

 حالیہ چند مہینوں میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے مابین جنگ چل رہی ہے ۔اسی طرح روس اور یوکرین کے مابین بھی جنگ چل رہی ہے ۔اس تمام صورتحال میں دنیا کی معیشتوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ایک طرف پٹرولیم کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں۔ دوسری طرف مہنگائی کا گراف دن بدن بڑھتا جا رہا ہے جس سے عالمی سطح پر بے چینی کی کیفیت نمایاں ہے ۔امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان نے سفارتی محاذ پر کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن بد قسمتی سے امن معاہدہ طے پا جانے کے باوجود امریکا کی طرف سے ایران پر حملے جاری و ساری ہیں، جوابا ایران بھی اپنے دفاع میں جن ممالک میں امریکی فوجی اڈے ہیں، ان پر لگاتار حملے کیے جا رہا ہے جس کے باعث تمام عرب ممالک میں بے چینی اور خوف کا عالم نمایاں ہے۔

اس سارے معاملے میں ہمارے وزیراعظم اور ہر دل عزیز فیلڈ مارشل نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے لیکن پس پردہ قوتیں یہ نہیں چاہتی کہ دنیا میں امن ہو ۔ لہٰذا دنیا کے امن پسند عوام کو اپنے اپنے ملکوں میں باہر نکلنا پڑے گا جب تک امن پسند افراد گروہ جماعتیں سڑکوں پر نکل کر احتجاج نہیں کرتیں، تب تک ایسی جنگیں حکومتیں ہم پر مسلط کرتی رہیں گی ۔

 ضرورت اس بات کی ہے کہ حالات کی سنگینی کو سمجھا جائے جب تک عوام میدان عمل میں نہیں آئیں گے، تب تک وہاں کی حکومتیں اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیں گی۔

یہ جنگیں کسی ایک ملک کا معاملہ نہیں ہے ،یہ اقوام عالم کا معاملہ ہے۔ خدشہ ہے کہ جنگیں اس حد تک نہ بڑھ جائیں کہ یہ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو جائیں۔ عوام اپنی مدد آپ کے تحت باہر نکلیں اور اپنی حکومتوں کو جنگ کرنے سے روکیں۔

مہنگائی، غربت، بے روزگاری کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے ،یہ اجتماعی مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی اجتماعی طور پر نکل سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہم رنگ و نسل کو بالائے طاق رکھ کر ایک ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر جنگ کے خلاف باہر نکلیں اور امن کی سمت قدم اٹھائیں۔

بھارت اور اسرائیل نے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے پاکستان کا ماحول بھی کشیدہ کیا ہوا ہے۔ اس کالم کے ذریعے میں بھارت اور اسرائیل کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستانی قوم اپنی پاک افواج کے ساتھ کھڑی ہے ،اس وقت پاک افواج کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔

پوری قوم پاک فوج کی مقروض ہے، ہم اپنے بہادر جوانوں ،شہیدوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو وطن کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ۔

امریکا اور اسرائیل دہشت گرد ممالک ہیں جو دنیا کے امن کو برباد کرنے کے لیے ہر وقت تیار نظرآتے ہیں۔ اس موقع پر چین اور روس کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کو لگام دیں، اگر معاملہ ہاتھوں سے نکل گیا تو کسی کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔

جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ۔تاریخ انسانیت نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں یہ دیکھ لیا ہے کہ جنگ کا حاصل کچھ نہیں، لہٰذا دنیا کے امن پسند لوگ اقوام متحدہ سے بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا عملی کردار ادا کرتے ہوئے امریکا کو جنگ سے روکے اور امن پسند لوگ ایران سے بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی تحمل کا مظاہرہ کرے، اگر یہ جنگ خدانخواستہ بڑھ گئی تو اس کی لپیٹ میں سارا عرب اور دیگر ممالک بھی آئیں گے، لہٰذا جنگ کو فوری طور پر روکا جائے اور امن کا جو معاہدہ ہوا ہے، فوری طور پر اس پر عمل کیا جائے۔ اللہ تعالی تمام انسانوں پر اپنا رحم فرما اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنا۔( آمین)

Load Next Story