حکومت سندھ نے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کو سینڈیکیٹ اجلاس سے روک دیا
حکومت سندھ نے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کو سینڈیکیٹ کے اجلاس کے انعقاد سے روک دیا ہے جس کے باعث سلیکشن بورڈز کی سفارش کی بنیاد پر کئی اساتذہ کی تقرریاں اور ترقیاں رک گئی ہیں۔
محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے اس حوالے سے جامعہ کراچی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کو خط تحریر کیا ہے جس کی کاپی اراکین کو بھی بھجوادی گئی ہے۔
محکمہ کے سیکشن افسر کمال احمد نے خط میں کہا ہے کہ جامعہ کراچی کی سنڈیکیٹ کا 662 واں اجلاس جو 27 جولائی 2026 کو بلایا گیا ہے تاہم آپ کی بطور وائس چانسلر عہدے کی میعاد بھی مذکورہ تاریخ کو ہی ختم ہونے والی ہے۔
خط میں کہا گیا کہ مجوزہ اجلاس کے ایجنڈے میں اہم پالیسی، انتظامی، مالیاتی اور خدمات کے معاملات شامل ہیں جن میں سلیکشن بورڈ کی سفارشات، تقرریوں، مالیاتی معاملات اور یونیورسٹی کی گورننس اور مستقبل کے کام کے لیے اہم امور پر غور کرنا شامل ہے۔
خط میں کہا گیا کہ مجوزہ ایجنڈے کے آئٹمز میں طویل مدتی قانونی، مالی اور انتظامی ذمہ داریاں سامنے آنے کا امکان ہے اور ایسے فیصلے شامل ہیں جو یونیورسٹی کے معاملات پر دیرپا اثر ڈال سکتے ہیں ایجنڈے کے ان آئٹمز کی اہمیت کے پیش نظر، یونیورسٹی کو درپیش موجودہ انتظامی اور مالیاتی چیلنجز، اور اس حقیقت کے پیش نظر کہ یہ اجلاس آپ کی مدت کے آخری دن بطور وائس چانسلر منعقد کرنے کی تجویز ہے۔
حکومت کا خیال ہے کہ ادارہ جاتی تسلسل کے مفاد میں، گڈ گورننس اور انتظامی معاملات کو زیادہ مناسب سمجھا جائے گا کہ آنے والے ریگولر وائس چانسلر کی صدارت میں ہی ہوں جو ان کے نفاذ، نگرانی اور جوابدہی کے ذمہ دار ہوں گے لہٰذا آپ کو تجویز دی جاتی کہ 27 جولائی کو منعقد ہونے والے سنڈیکیٹ کے 662 ویں اجلاس کو باقاعدہ وائس چانسلر کی طرف سے تقرری اور چارج سنبھالنے تک موخر کر دیں تاکہ مذکورہ معاملات کو مناسب غور کے لیے ان کی صدارت میں سنڈیکیٹ کے سامنے رکھا جا سکے۔