محاصرے کا جواب محاصرے سے؛ حوثیوں کا سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کرنے کا اعلان

سعودیہ کی بحری ناکہ بندی یمن کے صنعا ایئرپورٹ کے محاصرے کے جواب میں کی جا رہی ہے، ترجمان حوثی فوج

حوثیوں نے سعودی عرب کے بحری ناکہ کا اعلان کردیا

یمن کے ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف فوری طور پر نافذ العمل سمندری محاصرے کا اعلان کردیا جس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھ گئی۔

عرب میڈیا کے مطابق حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ سعودی عرب نے صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔

انھوں نے مزید کہا کہ صنعا ایئرپورٹ پر حملے کے جواب میں سعودی عرب کے خلاف سمندری پابندیاں فوری طور پر نافذ کی جا رہی ہے جو آنکھ کے بدلے آنکھ کی اصول پر مبنی ہے۔

حوثی فوج کے ترجمان نے خبردار کیا کہ صنعا ایئرپورٹ کی ناکہ بندی برداشت نہیں کریں گے۔ اب محاصرے کا جواب محاصرے سے اور جارحیت کا جواب مزید جارحیت سے دیا جائے گا۔

یحییٰ سریع نے کہا کہ صنعا ایئرپورٹ کی مسلسل بندش اور وہاں انسانی امداد، مریضوں اور مسافروں کی آمدورفت میں رکاوٹ ناقابلِ قبول ہے۔ اگر سعودی عرب نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو حوثی بھی ہر سطح پر جواب دیں گے۔

انھوں نے یمنی عوام سے عام نقل و حرکت، جنگی تیاری اور محاذوں پر مزید جنگجو بھیجنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حوثی فورسز ہر ممکن آپشن کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

خیال رہے کہ حوثیوں نے اپنے بیان میں کسی بھی مخصوص آبی گزرگاہ کا نام نہیں لیا تاہم فوجی اور بحری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عملی طور پر یہ ناکہ بندی زیادہ تر باب المندب پر نافذ ہوسکتی ہے کیونکہ یہی وہ تنگ سمندری راستہ ہے جس پر حوثیوں کی عسکری رسائی موجود ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے حوثیوں نے الزام عائد کیا تھا کہ سعودی عرب نے صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فضائی حملے کیے تھے جن کا مقصد ہوائی اڈے کو انسانی پروازوں کے لیے بند کرنا تھا۔

جس کے جواب میں حوثیوں نے سعودی عرب کے ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا تھا۔

ترجمان حوثی کا کہنا تھا کہ جب تک صنعا ایئرپورٹ کی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، ایئرلائنز سعودی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں۔ سعودی فضائی دفاع نے کئی میزائل اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

حوثیوں کے سمندری محاصرے کے اعلان سے بحیرہ احمر اور باب المندب کے اہم بحری راستے پر کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

اگر حوثی عملی طور پر سعودی جہازوں یا تیل بردار بحری ٹریفک کو نشانہ بناتے ہیں تو عالمی تیل کی سپلائی، جہاز رانی اور توانائی کی منڈیوں پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

حوثی فوج کے اس اعلان پر سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

 

Load Next Story