وزیر داخلہ اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ پاکستان کیلیے روانہ؛ ایرانی میڈیا
ایرانی وزیر داخلہ اپنے پاکستانی ہم منصب کی دعوت پر دورے پر پہنچ رہے ہیں
ایران کے وزیرِ داخلہ اپنے پاکستانی ہم منصب محسن نقوی کی دعوت پر جلد پاکستان کا اہم دورہ کریں گے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیرِ داخلہ کے ہمراہ وفد میں زراعت، صنعت، کان کنی، تجارت، ٹرانسپورٹ، سڑک و شہری ترقی، ثقافتی ورثہ، سیاحت، خارجہ امور اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے سینئر حکام شامل ہیں۔
جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دورہ صرف سیکیورٹی امور تک محدود نہیں ہے بلکہ اقتصادی اور تجارتی تعاون کو نئی جہت دینے کی کوشش بھی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی سلامتی، تجارت، زراعت، توانائی اور علاقائی امن پر بات چیت متوقع ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ جس کے لیے سرحدی تجارت، کسٹمز تعاون، زرعی شعبے، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ روابط اور توانائی کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
مذاکرات میں پاکستان اور ایران کی مشترکہ سرحد پر سیکیورٹی، دہشت گردی کی روک تھام، غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات اور سرحدی انتظام کو مزید مؤثر بنانے پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔
اس کے علاوہ ایرانی حکام پاکستانی زائرین کے لیے اربعین کے موقع پر زمینی راستے سے سفر کی سہولت، ویزا انتظامات اور دیگر مذہبی سفری امور پر بھی پاکستانی حکام سے بات کریں گے۔
یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہونے والے اعلیٰ سطحی رابطوں کا تسلسل ہے۔ جون میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے بھی پاکستان کا سرکاری دورہ کیا تھا۔
بعد ازاں پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی تہران کا دورہ کیا جہاں دونوں وزرائے داخلہ نے ایران اور پاکستان تعلقات کو مزید وسعت دینے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔
قبل ازیں ایران کی وزارتِ خارجہ نے بتایا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً دو ہفتوں کی شدید فوجی کشیدگی کے بعد امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے مختلف ثالث ممالک کی جانب سے سفارتی رابطے اور تجاویز کا تبادلہ جاری ہے۔