Urban Forest (شہری جنگل) کی ضرورت
چند دہائیاں پہلے کراچی کو سمندری ہواؤں، کشادہ سڑکوں اور سرسبز درختوں کا شہر کہا جاتا تھا، مگر آج یہی شہر تیزی سے پھیلتے ہوئے کنکریٹ کے جنگل، بڑھتی ہوئی آبادی، کم ہوتے سبز رقبے اور فضائی آلودگی کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ شکار دکھائی دیتا ہے۔کراچی سمیت پاکستان کے تمام شہروں کے لیے اس ضمن میں انقلابی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق 2050 تک دنیا کی تقریباً 70 فیصد آبادی شہروں میں آباد ہوگی، جب کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بھی شہری علاقوں میں زیادہ شدت سے محسوس کیے جائیں گے۔ ایسے میں دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک نے Urban Forest (شہری جنگل) کے تصور کو اپنی شہری منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنا لیا ہے۔ اس تصور کا مطلب یہ نہیں کہ شہر کے اندر ایک بڑا جنگل بنا دیا جائے بلکہ پورے شہر میں سڑکوں، اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں، پارکوں، عبادت گاہوں اور سرکاری عمارتوں کے اطراف لاکھوں درخت لگا کر ایک ایسا سبز جال بچھایا جائے جو شہر کے ماحول کو قدرتی طور پر متوازن رکھ سکے۔
کراچی جیسے شہر میں اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے کسی نئی زمین کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس پہلے سے موجود سرکاری ادارے اور مساجد بھی اس منصوبے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔سندھ کے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی کے سات اضلاع میں تقریباً 1,869 سرکاری اسکول موجود ہیں۔ ان اسکولوں میں لاکھوں طلبہ زیر تعلیم ہیں اور بیشتر کے پاس کسی نہ کسی درجے کی کھلی جگہ یا صحن موجودہے۔اسی طرح سندھ کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت کراچی میں تقریباً 125 سے 135 سرکاری کالج اور ٹیکنیکل ادارے قائم ہیں۔ ان میں سے کئی کالج کئی ایکڑ رقبے پر مشتمل ہیں اور ان کے میدان آج بھی شجرکاری کے لیے موزوں ہیں۔
دوسری جانب مختلف شہری اور مذہبی اداروں کے اندازوں کے مطابق کراچی میں 8,000 سے 10,000 مساجد موجود ہیں، اگرچہ ان کی سرکاری مردم شماری دستیاب نہیں، لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ شہر کا سب سے بڑا سماجی اور مذہبی نیٹ ورک ہیں،اگرہر سرکاری اسکول میں اوسطاً 75 درخت لگائے جائیں اور ہر سرکاری کالج یا ٹیکنیکل ادارے میں اوسطاً 200 درخت لگائے جائیں اسی طرح اگر ہر مسجد اپنے بیرونی حصے یا دیوار کے ساتھ صرف 10 درخت لگانے کا عزم کرے تو صرف ان تین اداروں کی مدد سے کراچی میں ابتدائی مرحلے میں تقریباً ڈھائی لاکھ (246,000 سے زیادہ) نئے درخت لگائے جا سکتے ہیں۔
یہاں کی گئی شجر کاری نہایت کامیاب ہو سکتی ہے کیونکہ ان نئے پودوں کی دیکھ بھال وغیرہ یہاں پہلے سے موجود عملہ نہایت آسانی سے کر سکتا ہے۔ دنیا بھر میں آنے والے سنگین چیلنج سے نمٹنے کی تیاریاں جاری ہیں۔سنگاپور نے خود کو ''Garden City'' سے ''City in Nature'' میں تبدیل کرنے کا ہدف مقرر کیا۔ وہاں عمارتوں، سڑکوں، اسکولوں اور عوامی مقامات پر بڑے پیمانے پر درخت لگائے گئے۔میلبورن (آسٹریلیا) نے شہری جنگلات کا باقاعدہ منصوبہ بنایا تاکہ گرمی کی شدت کم کی جا سکے۔لندن نے اپنے شہری سبز رقبے میں مسلسل اضافہ کیا اور درختوں کو شہری انفرا اسٹرکچر کا حصہ قرار دیا۔ان شہروں کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ شہری جنگلات صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ صحت، معیشت، موسمیاتی تبدیلی سے تحفظ اور شہری زندگی کے معیار کے لیے ناگزیر ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (FAO)کے مطابق شہری درخت کئی طرح کی ماحولیاتی خدمات انجام دیتے ہیں، جن میں گرمی کی شدت میں کمی، کاربن ذخیرہ کرنا، بارش کے پانی کو جذب ہونے میں مدد دینا، حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کو فروغ دینا، اور شہری ماحول کو زیادہ رہنے کے قابل بنانا شامل ہیں۔
کراچی جیسے شہر میں لاکھوں طلبہ موجود ہیں، ہزاروں اساتذہ موجود ہیں، ہزاروں مساجد موجود ہیں اور بے شمار رضاکارانہ تنظیمیں بھی موجود ہیں۔ضرورت صرف ایک مربوط منصوبے کی ہے۔یہ کسی ایک محکمے کا کام نہیں، بلکہ پورے شہر کی اجتماعی ذمے داری ہے۔ یہاں کے سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں لاکھوں طلبہ زیر تعلیم ہیں،اگر ہر طالب علم اپنی تعلیم کے دوران صرف ایک درخت کی ذمے داری لے لے تو چند سالوں میں ماحول دوستی ایک عادت بن سکتی ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا اور کئی یورپی ممالک میں اسکولی بچوں کو ماحولیات کی عملی تعلیم اسی طریقے سے دی جاتی ہے۔بینک، صنعتیں، ہاؤسنگ سوسائٹیاں، اسپتال، نجی اسکول اور تجارتی ادارے اپنی سماجی ذمے داری کے تحت اس منصوبے میں حصہ لے سکتے ہیں، اگر ہر بڑا ادارہ صرف ایک ہزار درخت لگانے اور ان کی نگہداشت کی ذمے داری لے تو شہر کی سبز پٹی کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
درحقیقت کراچی کے اسکول اور کالج صرف تعلیم کے مراکز نہیں، بلکہ مستقبل کے شہری جنگلات (Urban Forests) بن سکتے ہیں، اگر ہر طالب علم اپنی تعلیمی زندگی میں صرف ایک درخت لگا کر اسے پروان چڑھانے کی ذمے داری لے، تو اس طرح بھی چند برسوں میں شہر کا ماحول بدل سکتا ہے۔ یہ صرف شجرکاری نہیں بلکہ ایک نئی شہری تہذیب کی بنیاد ہوگی۔ کراچی میں گرمی صرف سورج کی وجہ سے نہیں بڑھتی بلکہ ایک اور اہم وجہ Urban Heat Island Effect ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی شہر میں درخت کم اور کنکریٹ، اسفالٹ اور عمارتیں زیادہ ہو جائیں تو یہ دن بھر سورج کی حرارت جذب کر کے رات تک خارج کرتی رہتی ہیں۔ نتیجتاً شہر کا درجہ حرارت اردگرد کے دیہی علاقوں سے زیادہ رہتا ہے جس کا بہترین توڑ اربن فورسٹ ہے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں ہمیں بے شمار ایسی سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی عمارتیں نظر آتی ہیں، جہاں وسیع و عریض میدان خالی پڑے ہیں یا ان میں صرف چند درخت لگے ہوئے ہیں۔ بعض مقامات پر درختوں کی مناسب تعداد بھی موجود ہے، لیکن مجموعی طور پر دستیاب جگہ کے مقابلے میں درختوں کی کمی نمایاں نظر آتی ہے، یعنی جگہ تو بہت ہے، مگر درخت کم ہیں۔
ان خالی جگہوں سے بہتر استفادہ کرتے ہوئے درختوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ وہاں درختوں کے جھنڈ لگائے جا سکتے ہیں، جو آگے چل کر شہری جنگلات (Urban Forests) کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ سبزہ لگا کر ان کو رات میں تفریحی پارک کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ علاقے کے ایسے لوگ بھی اپنی تقریبات یہاں کر سکتے ہیں جو گلی محلے کی سڑکوں پر ٹینٹ لگا کر اپنی چھوٹی چھوٹی تقریبات کرتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلکہ ان تعلیمی اداروں کے انتظام و انصرام کے ذمے دار سرکاری حکام بھی اس جانب خصوصی توجہ دیں اور تمام اسکولوں اور کالجوں میں تیزی کے ساتھ شجرکاری کی مہم چلائیں۔ساون کا مہینہ شروع ہوچکا ہے، برسات کے موسم میں لگائے گئے پودے جلد جڑ پکڑ لیتے ہیں اور تیزی سے نشوونما پاتے ہیں۔موجودہ ساون کا مہینہ ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے شہروں کو شہری جنگلات میں تبدیل کرنے کی بنیاد رکھیں، تاکہ آیندہ آنے والے گرم موسم سے پہلے ہی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔اسی طرح مساجد کی انتظامیہ اور متعلقہ کمیٹیاں بھی اس موسم سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہیں، اگر وہ اپنے احاطوں اور دستیاب جگہوں پر شجرکاری کریں تو شہر کو مزید سرسبز، خوبصورت اور خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔
آئیے، اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں اور اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔