پنجاب نے 10 لاکھ ٹن، سندھ نے کم از کم 2 لاکھ 20 ہزارٹن گندم طلب کر لی

پنجاب نے 10 لاکھ ٹن، سندھ نے کم از کم 2 لاکھ 20 ہزارٹن گندم طلب کر لی

اسلام آباد:

ملک میں گندم کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کیلیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا پانچ روزکے دوران دوسرا اہم اجلاس وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں پنجاب نے وفاقی ذخائر سے 10 لاکھ ٹن جبکہ سندھ نے کم از کم 2 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کامطالبہ کیا۔

خیبرپختونخوا نے بھی سرکاری شعبے کیلیے ایک لاکھ ٹن اور نجی شعبے کیلیے 7 لاکھ ٹن گندم کی ضرورت ظاہرکی۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے گندم درآمد کرنے کے امکان پر بھی غورکیا، تاہم حتمی فیصلہ تمام صوبوں سے تحریری طور پر حتمی ضروریات موصول ہونے کے بعد کیاجائیگا۔

اجلاس میں بتایاگیاکہ ملک میں گندم کی قلت کی بنیادی وجوہات دو اہم فیصلے ہیں، جن میں آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت دوسال قبل امدادی قیمت کاخاتمہ اور رواں سال پنجاب و سندھ کی جانب سے کسانوں سے مطلوبہ مقدار میں گندم خریدنے میں ناکامی شامل ہیں۔

وفاقی وزیر احدچیمہ نے کہاکہ مقامی کسانوں کے مفادات کاہرصورت تحفظ کیاجائیگااوردرآمدکاکوئی بھی فیصلہ ملکی صورتحال کامکمل جائزہ لینے کے بعدکیاجائیگا۔

سرکاری اعدادوشمارکے مطابق رواں سال ملک میں 2 کروڑ 97 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن گندم پیداہوئی، جبکہ گزشتہ سال کے 20 لاکھ ٹن ذخائر بھی موجودہیں۔

مجموعی دستیاب گندم ملکی ضرورت سے تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار ٹن زیادہ ہے،تاہم پنجاب مطلوبہ ذخائر برقراررکھنے میں ناکام رہا۔

ذرائع کاکہناہے کہ پنجاب حکومت کسانوں سے 30 لاکھ ٹن گندم خریدنے کاہدف حاصل نہ کرسکی اور صرف 4 لاکھ 80 ہزار ٹن گندم خریدی گئی، جبکہ سندھ بھی 2 لاکھ ٹن سے کچھ زیادہ گندم ہی خریدسکا۔

اجلاس میں سندھ نے پنجاب سے بین الصوبائی نقل و حمل پر عائد پابندیاں نرم کرنے کی درخواست بھی کی، تاہم پنجاب نے محدودذخائر کاحوالہ دیتے ہوئے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

سرکاری اعدادوشمارکے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ملک بھر میں گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈکیاگیا۔

پنجاب میں 40 کلوگندم کی قیمت 4 ہزار 188 روپے سے بڑھ کر 4 ہزار 423 روپے،سندھ میں 4 ہزار 625 روپے، خیبرپختونخوا میں 5 ہزار 100 روپے جبکہ بلوچستان میں 4 ہزار 800 روپے تک پہنچ گئی۔

گندم مہنگی ہونے کے باعث راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور اورکراچی میں آٹے کی قیمت 142 روپے فی کلو جبکہ گوجرانوالہ میں 130 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔

خیبرپختونخوا حکومت کے مشیرخزانہ مزمل اسلم نے کہاکہ چارماہ قبل فصل کی کٹائی کے باوجودملک میں گندم کے بحران کی صورتحال تشویشناک ہے، پنجاب کی جانب سے مطلوبہ خریداری نہ ہونے کے باعث بحران نے جنم لیااور قیمتوں میں کمی کا واحدمؤثر حل گندم درآمدکرنا ہے۔

Load Next Story