حوثیوں کی دھمکی کے بعد سعودی تیل بردار آئل ٹینکرز راستہ تبدیل کرنے پر مجبور

دونوں آئل ٹینکرز سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع سے خام تیل لے کر بالترتیب چین اور بھارت جا رہے تھے۔

دونوں آئل ٹینکرز سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع سے خام تیل لے کر بالترتیب چین اور بھارت جا رہے تھے۔

یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد خام تیل لے جانے والے دو بڑے آئل ٹینکروں نے بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کرلیا۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شِن لانگ یانگ اور روڈوس نامی دونوں آئل ٹینکرز سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع سے خام تیل لے کر بالترتیب چین اور بھارت جا رہے تھے۔

تاہم حوثیوں کی سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی کے بعد دونوں جہازوں نے یمن کے ساحل کے قریب باب المندب سے گزرنے کے بجائے بحیرہ احمر میں یوٹرن لے کر نہرِ سویز کی سمت رخ کرلیا۔

حوثیوں نے ایک روز قبل سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے عالمی شپنگ کمپنیوں کو ای میل کے ذریعے خبردار کیا تھا کہ وہ سعودی بندرگاہوں پر کسی بھی قسم کا سامان لوڈ یا ان لوڈ نہ کریں۔

حوثی گروپ نے اپنی وارننگ میں کہا تھا کہ اگر کوئی بحری جہاز سعودی بندرگاہوں سے تجارتی سرگرمی جاری رکھتا ہے تو اسے کسی بھی مقام پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

دونوں ٹینکروں کا راستہ تبدیل کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تیل کی ترسیل کو ایک اور بڑا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

اس سے قبل ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خلیج فارس سے تیل کی برآمدات شدید متاثر ہو چکی ہیں اور اب باب المندب اور بحیرہ احمر میں بھی خطرات بڑھنے سے عالمی منڈی میں سپلائی مزید محدود ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد سعودی عرب کی بحیرہ احمر میں واقع ینبع بندرگاہ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمد کا سب سے اہم متبادل راستہ بن گئی تھی۔

یہ بندرگاہ روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور سعودی عرب نے حالیہ ہفتوں میں اپنی برآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے منتقل کرنا شروع کیا تھا۔

خیال رہے کہ حوثی گروپ شمالی یمن کے ساتھ ساتھ باب المندب کے اطراف کے ساحلی علاقوں پر بھی کنٹرول رکھتا ہے۔ یہی آبی گزرگاہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تجارتی جہازوں کی بڑی تعداد گزرتی ہے۔

 

Load Next Story