عمران خان کی بہنیں پارٹی میں نہیں ہیں ان کا بیان پی ٹی آئی موقف نہ سمجھا جائے، بیرسٹر گوہر

نورین خان کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے جوکہ تین ماہ پرانا ہے اس اب مین اسٹریم میڈیا پر کیوں لایا گیا؟

فوٹو: فائل

راولپنڈی:

بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی کے متنازع بیان پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے واضح کیا کہ نورین نیازی کا بیان پارٹی پالیسی نہیں بلکہ ان کی ذاتی رائے ہے۔

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ ان کی اطلاع کے مطابق نورین نیازی کا بیان تقریباً تین ماہ پرانا ہے اور یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں، پارٹی پالیسی کا حصہ نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے عرصے بعد اس بیان کو دوبارہ کیوں سامنے لایا گیا اور کہا کہ متنازع معاملات کو مین اسٹریم میڈیا پر نہیں لانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی اللہ تعالیٰ کا کرم ہے، پوری دنیا نے پاکستان کی کامیابی دیکھی اور ہر پاکستانی کو اس پر فخر ہے، ان کے مطابق پاکستان کا دفاع مضبوط ہے، کوئی دشمن پاکستان کو شکست نہیں دے سکتا اور اگر دوبارہ کسی نے دشمنی کی کوشش کی تو پہلے سے بھی سخت جواب دیا جائے گا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملک میں تقسیم پہلے ہی بہت بڑھ چکی ہے، اس لیے پرانی باتوں کو نہ چھیڑا جائے بلکہ حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی قربانیوں اور شہداء کے بارے میں لب کشائی نہیں ہونی چاہیے، بعض اوقات جوشِ خطابت میں الفاظ نکل جاتے ہیں، لیکن کچھ معاملات ایسے ہیں جنہیں نہیں چھیڑنا چاہیے۔

انہوں نے نورین نیازی کو نوٹسز بھیجنے یا ہراساں کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایک بیان سے پاکستان کا دفاع کمزور نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو بھی اب ختم کر دینا چاہیے کیونکہ وضاحت آ چکی ہے۔

دہشت گردی کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے، دہشت گردی ملک کے لیے ناسور ہے، دہشت گرد جہاں بھی ہوں ان کے خلاف تمام وسائل استعمال کرتے ہوئے کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ دہشت گردی کے خاتمے سے ہی ملک میں ترقی اور استحکام آئے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آزاد کشمیر انتخابات کو ری شیڈول کرکے تین مراحل میں کر دیا گیا ہے ان کے مطابق بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی رائے ضرور موجود تھی، تاہم اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث فی الحال بائیکاٹ کا فیصلہ برقرار ہے، البتہ اگر حالات بہتر ہوئے تو اس فیصلے پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔

قائمہ کمیٹیوں اور جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پارٹی کا بائیکاٹ برقرار ہے۔

مذاکرات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ابھی مذاکرات عملی طور پر شروع ہی نہیں ہوئے، صرف پیشکش کی حد تک بات ہوئی تھی، اگر باقاعدہ ملاقات ہوتی تو کچھ معاملات طے پاتے، خواہش ہے کہ سیاسی مسائل کا دیرپا سیاسی حل نکالا جائے تاکہ ملک موجودہ صورتحال سے باہر آ سکے۔

گفتگو کے اختتام پر بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں سیاست میں نہیں ہیں اور نہ ہی پارٹی میں کوئی عہدہ رکھتی ہیں، اس لیے ان کے ذاتی بیان کو پارٹی مؤقف نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے سے غیر ضروری تنازعات جنم لیتے ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ اس معاملے کو یہیں ختم کر کے آگے بڑھا جائے۔

Load Next Story