خلیج کی کشیدگی: سفارت کاری کا آخری امتحان
خلیج فارس ایک مرتبہ پھر ایسی کشیدگی کے مرکز میں تبدیل ہو چکی ہے جس کے اثرات صرف خطے کی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کے سیاسی، معاشی اور تزویراتی توازن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری براہِ راست عسکری تصادم نے اس تصور کو بھی کمزور کر دیا ہے کہ جدید دور میں بڑی ریاستیں صرف سفارتی دباؤ، اقتصادی پابندیوں یا پراکسی جنگوں کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کریں گی۔ اب صورتحال اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں میزائلوں، ڈرون حملوں، بحری کارروائیوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ ایک ایسے تصادم کی بنیاد رکھ رہا ہے جو اگر قابو سے باہر ہو گیا تو اس کی قیمت صرف فریقین ہی نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کو ادا کرنا پڑے گی۔
اس وقت جنگ کی نوعیت بھی ماضی سے مختلف ہے۔ اب محاذ صرف سرحدوں پر موجود فوجوں کے درمیان محدود نہیں رہا بلکہ فضائی دفاعی نظام، بحری راستے، تیل کی تنصیبات، مواصلاتی مراکز، ڈرون بیس، ریڈار اسٹیشن، بندرگاہیں اور اقتصادی انفراسٹرکچر سبھی جنگی حکمت عملی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایران کے مختلف علاقوں میں حملوں اور اس کے جواب میں امریکی فوجی تنصیبات، علاقائی اڈوں اور اتحادی ممالک کے حساس مراکز کو نشانہ بنانے کی اطلاعات اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ یہ تنازع بتدریج پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ شام، اردن، بحرین، کویت، یمن اور خلیجی سمندری راستوں کا اس کشمکش میں شامل ہونا اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ جنگ اب کسی ایک ملک کے اندر محدود رہنے والی نہیں رہی بلکہ اس کے دائرے مسلسل وسیع ہوتے جا رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت لہجے میں دیے گئے بیانات اور ایران کی طرف سے بھرپور جوابی ردعمل کے اعلانات اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں سیاسی قیادت کے الفاظ بھی عسکری کارروائیوں جتنی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں، کیونکہ ہر بیان مخالف فریق کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ طاقت کے اظہار سے وقتی نفسیاتی برتری تو حاصل کی جا سکتی ہے، مگر تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ صرف عسکری دباؤ کسی ایسے تنازع کا مستقل حل نہیں بن سکتا جس کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط سیاسی اختلافات، سلامتی کے خدشات، علاقائی اثرورسوخ اور نظریاتی کشمکش میں پیوست ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ جنگ کے شور کے درمیان بھی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، سفارتی رابطے منقطع نہیں ہوئے اور جنگ بندی کی تجاویز زیر غور ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ میدانِ جنگ میں سبقت حاصل کرنے کی خواہش کے باوجود دونوں فریق سفارت کاری کی ناگزیریت سے مکمل طور پر صرفِ نظر نہیں کر سکتے۔ آبنائے ہرمز اس پورے بحران کا سب سے حساس اور فیصلہ کن پہلو بن چکی ہے۔ دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار اسی تنگ سمندری راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے، اگر اس گزرگاہ میں معمولی رکاوٹ بھی پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات تیل کی قیمتوں، بحری تجارت، انشورنس اخراجات اور بین الاقوامی سپلائی چین پر فوری طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔
یہی سبب ہے کہ جنگ بندی سے متعلق سامنے آنے والی تجاویز میں آبنائے ہرمز کو محدود مدت کے لیے کھلا رکھنے کی بات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ فریقین بھی آگاہ ہیں کہ اس آبی راستے کی مکمل بندش عالمی معیشت کو بحران میں دھکیل سکتی ہے۔یمن میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کے اعلان نے اس غیر یقینی کیفیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بحیرہ احمر کے راستے سامان کی ترسیل پہلے ہی مختلف سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے متاثر تھی، اب انشورنس اخراجات میں اضافے اور جہاز رانی کے بڑھتے ہوئے خدشات نے عالمی تجارتی سرگرمیوں کو مزید مہنگا بنا دیا ہے۔
جدید معیشت کی بنیاد صرف پیداوار پر نہیں بلکہ رسد کے تسلسل پر قائم ہے۔ جب تجارتی راستے غیر محفوظ ہو جائیں تو اس کا اثر صرف بندرگاہوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ فیکٹریوں، منڈیوں، صارفین اور مالیاتی اداروں تک پھیل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے ہر نئے مرحلے کے ساتھ عالمی منڈیوں میں بے یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں تیزی اسی بے اعتمادی کا براہِ راست اظہار ہے۔ سرمایہ کار ہمیشہ خطرے کے ماحول میں محتاط حکمت عملی اختیار کرتے ہیں، اس لیے جغرافیائی کشیدگی بڑھتے ہی توانائی کی منڈیوں میں خریداری تیز ہو جاتی ہے جب کہ حصص بازار دباؤ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ سمیت مختلف بینچ مارکس میں نمایاں اضافہ اس خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو عالمی رسد بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ قدرتی گیس، ایل این جی اور دیگر توانائی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ بحران پوری توانائی معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔عالمی مالیاتی منڈیوں میں پیدا ہونے والی بے چینی بھی معمولی نوعیت کی نہیں۔
امریکا، یورپ اور ایشیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کی احتیاط اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سرمایہ مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔ جب سرمایہ کار خطرہ محسوس کرتے ہیں تو وہ نئی سرمایہ کاری کے بجائے محفوظ اثاثوں کی طرف منتقل ہونے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں صنعتی پیداوار، کاروباری سرگرمیوں اور معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ اس وقت دنیا پہلے ہی بلند افراطِ زر، قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ، سست معاشی نمو اور عالمی تجارت میں عدم توازن جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ اگر خلیج کی کشیدگی طویل ہوتی ہے تو یہ تمام مشکلات مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ وہ ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں عالمی طاقتوں کے مفادات باہم ٹکراتے رہتے ہیں۔ ایک طرف ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی تعلقات ہیں، دوسری جانب امریکا سمیت مغربی دنیا کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی روابط بھی قومی مفادات کا حصہ ہیں، جب کہ خلیجی عرب ممالک کے ساتھ معاشی تعاون، برآمدات، سرمایہ کاری اور لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار وابستہ ہے۔ ایسے میں خارجہ پالیسی کا توازن محض ایک سفارتی انتخاب نہیں بلکہ قومی ضرورت بن جاتا ہے۔ جذباتی نعروں یا وقتی سیاسی مصلحتوں کے بجائے حقیقت پسندانہ حکمت عملی ہی پاکستان کو اس پیچیدہ صورتحال میں اپنے مفادات کے تحفظ کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔
اسلام آباد کے لیے دانش مندی کا راستہ یہی ہے کہ وہ مکالمے، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کی ہر کوشش کی حمایت کرے اور کسی ایسی صف بندی سے گریز کرے جو مستقبل میں اس کے لیے سفارتی یا معاشی مشکلات پیدا کرے۔اس بحران نے ایک مرتبہ پھر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ توانائی صرف اقتصادی سرگرمی کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ عالمی سیاست کا بنیادی ہتھیار بن چکی ہے۔ امریکی خام تیل اوراسٹرٹیجک پیٹرولیم ذخائر کا کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ جانا اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بڑی سے بڑی معیشت بھی توانائی کے معاملے میں مکمل طور پر بے نیاز نہیں ہو سکتی۔ اگر عالمی رسد میں مسلسل خلل پیدا ہوتا ہے یا آبنائے ہرمز طویل عرصے تک دباؤ کا شکار رہتی ہے تو صرف تیل درآمد کرنے والے ممالک ہی نہیں بلکہ توانائی کے بڑے صارفین اور صنعتی طاقتیں بھی اپنے معاشی منصوبوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہوں گی۔
اس پورے بحران میں اسرائیل کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خطے کی سلامتی سے متعلق اسرائیلی خدشات، ایران کے علاقائی اثرورسوخ کو محدود کرنے کی خواہش اور امریکا کے ساتھ اس کی تزویراتی شراکت داری نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جب مختلف ریاستیں اپنے اپنے سلامتی کے تصورات کے تحت فیصلے کرتی ہیں تو تنازعات صرف دو ملکوں کے درمیان نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کے طاقت کے توازن کو متاثر کرنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ کشیدگی میں ہر نیا واقعہ کئی دارالحکومتوں میں نئی سفارتی اور عسکری منصوبہ بندی کو جنم دے رہا ہے۔
یہ بحران اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ جدید دنیا میں جنگ کا نقصان صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتا۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو خوراک، ادویات، ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر شے متاثر ہوتی ہے۔ مہنگائی کی نئی لہریں جنم لیتی ہیں، ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کا بوجھ بڑھتا ہے، غربت میں اضافہ ہوتا ہے اور سماجی بے چینی جنم لیتی ہے۔
اس اعتبار سے خلیج میں ہونے والا ہر دھماکا ہزاروں میل دور بیٹھے عام شہری کی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی عالمی باہمی انحصار کا وہ پہلو ہے جس نے مقامی تنازعات کو عالمی مسئلہ بنا دیا ہے۔ اگر موجودہ بحران بھی اسی راستے پر آگے بڑھتا ہے تو اس کے نتائج آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق طاقت کے استعمال کی حدود کو پہچانیں اور یہ حقیقت تسلیم کریں کہ کوئی بھی جنگ ہمیشہ نہیں چل سکتی۔ بالآخر مذاکرات ہی وہ راستہ بنتے ہیں جہاں بندوق کی زبان خاموش ہوتی ہے اور سیاسی بصیرت اپنا کردار ادا کرتی ہے۔