تاریخ ،کھیل اور انسان

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ انسان کی پوری تاریخ کو ایک گیند اور ایک تلوار کے درمیان بیان کیا جا سکتا ہے۔

فٹ بال کا عالمی کپ ختم ہو گیا، اسپین کی نوجوان ٹیم نے اپنی بے مثال مہارت، نظم و ضبط اور اجتماعی کھیل کے ذریعے دنیا کو ایک بار پھر یہ احساس دلایا کہ قوموں کی اصل طاقت ان کے نوجوان ہوتے ہیں۔ وہ نوجوان جن کے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں خواب ہوتے ہیں، جن کے قدم بارود پر نہیں بلکہ سبز میدانوں پر دوڑتے ہیں۔ اس کامیابی کے پیچھے ایک دن یا ایک موسم نہیں بلکہ برسوں کی منصوبہ بندی، تربیت کھیلوں کے اداروں پر اعتماد اور نوجوان نسل پہ بھروسہ ہے۔ قومیں محض جوش سے نہیں بلکہ مسلسل محنت سے عالمی اعزاز حاصل کرتی ہیں۔

ایک لمحے کے لیے ٹیلی وژن کی اسکرین سے نظریں ہٹائیں اور تاریخ کے اوراق کھولیں۔ انسان ہمیشہ سے کھیلتا آیا ہے مگر کھیل کا مفہوم ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہا۔ آج میدان میں ایک گیند کے پیچھے بائیس نوجوان دوڑتے ہیں، تماشائی خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں اور ہارنے والی ٹیم کو بھی عزت ملتی ہے، لیکن ایک زمانہ تھا جب روم کے ایمفی تھیٹروں میں کھیل کے نام پر انسانوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کیا جاتا تھا۔ وہ گلیڈی ایٹرز تھے، ان کے ہاتھوں میں گیند نہیں تلواریں ہوتی تھیں۔ ان کے قدم گھاس پر نہیں بلکہ خون میں بھیگے ہوئے فرش پر پھسلتے تھے۔ وہاں فتح کا انعام زندگی تھا اور شکست کا مطلب موت۔

ہزاروں تماشائی اپنی نشستوں پر بیٹھ کر انسانوں کی چیخوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ جب زخمی گلیڈی ایٹر زمین پر گرتا تو اس کی قسمت کا فیصلہ تلوار نہیں بلکہ تماشائیوں کے انگوٹھے کرتے تھے، اگر انگوٹھا نیچے ہوتا تو اس کی گردن اڑا دی جاتی۔ یہ بھی ایک کھیل تھا مگر تہذیب کا نہیں بربریت کا کھیل۔

صدیاں گزریں، انسان نے جنگیں دیکھیں، سلطنتیں بنتی اور بکھرتی دیکھیں، مذہب، نسل اور طاقت کے نام پر قتل عام دیکھا، دو عالمی جنگوں میں کروڑوں انسانوں کو مرتے دیکھا مگر اسی انسان نے یہ بھی سیکھا کہ مقابلہ ہمیشہ خون بہا کر نہیں کیا جاتا۔ طاقت ہمیشہ تلوار سے ثابت نہیں کی جاتی۔ قوموں کی عظمت میدانِ جنگ کے بجائے کھیل کے میدان میں بھی دکھائی جا سکتی ہے۔

آج جب ایک اسٹیڈیم میں لاکھوں لوگ مختلف رنگ نسل زبان اور مذہب رکھنے والے کھلاڑیوں کے لیے ایک ساتھ تالیاں بجاتے ہیں تو یہ صرف ایک کھیل نہیں رہتا یہ تہذیب کی کامیابی بن جاتا ہے۔ کھیل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اختلاف کے باوجود ایک ہی میدان میں سب کھلاڑی مل کر کھیل کھیلنے ہیں۔ کھیل ہمیں حریف بننا سکھاتے ہیں دشمن نہیں۔

اس عالمی کپ کی ایک خوش آئند خبر پاکستان سے بھی جڑی ہوئی ہے، اگرچہ ہماری قومی ٹیم اس عالمی منظرنامے کا حصہ نہیں تھی لیکن سیالکوٹ کے ہنرمند اس جشن میں خاموش شریک تھے۔ اس عالمی کپ میں استعمال ہونے والی فٹ بالوں کی تیاری کے لیے پاکستان کو بڑے پیمانے پر آرڈرز ملے۔ دنیا کے عظیم ترین اسٹیڈیموں میں جس گیند نے گول پوسٹ کا راستہ تلاش کیا، اس کے پیچھے پاکستانی ہاتھوں کی محنت شامل تھی۔ یہ محض ایک تجارتی کامیابی نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اگر کسی قوم کے ہنر کو مواقع میسر آئیں تو وہ دنیا کے بہترین مقابلوں کا حصہ بن سکتی ہے۔

پاکستان میں کھیلوں کی بات ہو تو سب سے پہلے ذہن میں کرکٹ آتا ہے، اگرچہ ہمارا قومی کھیل ہاکی ہے اور ایک زمانہ تھا جب پاکستان ہاکی کے میدان میں دنیا کی عظیم ترین طاقت سمجھا جاتا تھا مگر وقت کے ساتھ کرکٹ نے پاکستانی سماج میں وہ مقام حاصل کر لیا جو شاید کسی اور کھیل کو نصیب نہیں ہوا۔ گلیوں، محلوں پارک چھتوں اور خالی پلاٹوں میں ایک گیند اور ایک بلا لیے بچے خوشی سے سرشار رن بناتے ہیں۔ کرکٹ نے اس قوم کو کئی ایسے لمحے دیے جن میں سیاسی اختلافات معاشی مشکلات اور روزمرہ کی تلخیاں چند گھنٹوں کے لیے پس منظر میں چلی گئیں۔

لیکن پاکستان میں ایک ایسا علاقہ بھی ہے جہاں فٹ بال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک تہذیبی شناخت ہے۔ کراچی کے قدیم علاقے لیاری کو برسوں سے پاکستان میں فٹ بال کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔ عالمی کپ کے دنوں میں لیاری کی گلیاں ایک رنگا رنگ میلے کا منظر پیش کرتی ہیں۔ گھروں، گلیوں اور بازاروں میں برازیل، ارجنٹینا، پرتگال، اسپین ،فرانس اور دیگر ممالک کے پرچم لہراتے نظر آئے، اگرچہ برازیل کے مداح یہاں اکثریت میں ہیں اور اسی نسبت سے لیاری کو محبت سے منی برازیل بھی کہا جاتا ہے مگر یہاں مختلف قومی ٹیموں کے ہزاروں شائقین موجود ہیں۔ مختلف محلوں میں بڑی بڑی اسکرینیں نصب کی گئیں  جہاں نوجوان بزرگ اور بچے رات گئے تک عالمی کپ کے میچ براہِ راست دیکھتے رہے۔ ہر خوبصورت پاس پر داد دی گئی، ہر شاندار گول پر پورا محلہ خوشی سے جھوم اٹھا۔ یہ منظر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ کھیل انسانوں کو تقسیم نہیں کرتے بلکہ انھیں ایک مشترکہ خوشی میں جوڑ دیتے ہیں۔

کھیلوں کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ صرف مقابلے کا ذریعہ نہیں بنتے بلکہ کبھی کبھی سیاست کی بند گلیوں میں بھی راستہ نکال لیتے ہیں۔ برصغیر کی تاریخ میں کرکٹ ڈپلومیسی اسی حقیقت کی ایک دلچسپ مثال ہے۔ 1987 میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور جنگ کے خدشات منڈلا رہے تھے ۔اس وقت جنرل ضیاء الحق جے پور پہنچے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹیسٹ میچ دیکھا۔ اس سفر کو صرف کرکٹ دیکھنے کا شوق نہیں سمجھا گیا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے کی ایک سفارتی کوشش قرار دیا گیا۔ شاید یہی کھیلوں کا سب سے بڑا حسن ہے کہ جہاں سیاست ناکام ہونے لگے، وہاں کبھی کبھی ایک گیند یا ایک بلا مکالمے کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

شاید اسی لیے کھیل ہمیشہ سیاست سے بڑا پیغام دیتے ہیں۔ سیاست دیواریں تعمیر کرتی ہے، کھیل پل بناتے ہیں۔ سیاست سرحدیں کھینچتی ہے اور کھیل ان سرحدوں کے بیچ راستہ بناتے ہیں۔ ایک اچھا پاس ایک خوبصورت گول اور شکست کے بعد حریف سے گلے ملنا انسانیت کی ایسی زبان ہے جس کے لیے مترجم کی ضرورت نہیں پڑتی۔مگر سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم صرف گیند بنانے والی قوم رہیں گے یا کبھی وہ دن بھی آئے گا جب پاکستان کی اپنی فٹ بال ٹیم بھی عالمی کپ کے میدان میں اترے گی۔ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت کی کمی نہیں کمی، منصوبہ بندی کھیلوں کے ڈھانچے شفاف اداروں اور مسلسل سرپرستی کی ہے۔ اسپین کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب کسی قوم کے نوجوانوں پر اعتماد کیا جائے تو وہ دنیا کو حیران کر سکتے ہیں۔

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ انسان کی پوری تاریخ کو ایک گیند اور ایک تلوار کے درمیان بیان کیا جا سکتا ہے۔ تلوار تقسیم کرتی ہے ،گیند جوڑتی ہے۔ تلوار دشمنی پیدا کرتی ہے، گیند حریف پیدا کرتی ہے۔ دشمن کو ختم کیا جاتا ہے اور حریف کا احترام کیا جاتا ہے۔ شاید تہذیب کا سفر بھی اسی تبدیلی کا نام ہے کہ انسان نے دشمنوں کی جگہ حریف پیدا کرنا سیکھ لیا۔

آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں جنگیں جاری ہیں۔ کہیں بچوں کے ہاتھوں میں کھلونے نہیں بلکہ پتھر ہیں۔ کہیں اسٹیڈیموں کی جگہ پناہ گزینوں کے کیمپ ہیں۔ ایسے میں فٹ بال کا یہ عالمی جشن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان ابھی مکمل طور پر اپنی وحشت سے آزاد نہیں ہوا لیکن اس نے امید کا دامن بھی نہیں چھوڑا۔

جب ایک بچہ کسی گلی میں گیند کو ٹھوکر مارتا ہے تو شاید اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ صرف کھیل نہیں رہا ،وہ ہزاروں برس پر محیط انسانی تہذیب کے ایک بہتر باب کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سیالکوٹ کے کاریگر لیاری کے نوجوان کرکٹ کے دیوانے پاکستانی اسپین کے نوخیز کھلاڑی اور دنیا بھر کے لاکھوں شائقین ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ انسان نے خون سے رنگے میدانوں سے سبز میدانوں تک کا ایک طویل سفر طے کیا ہے۔

تاریخ کا اصل حسن بھی شاید یہی ہے کہ ایک زمانے میں تماشائی انسانوں کے خون پر تالیاں بجاتے تھے اور آج وہ ایک خوبصورت گول پر کھڑے ہو کر داد دیتے ہیں۔ یہی تہذیب کی سب سے بڑی فتح ہے اور شاید اسی فتح کا نام انسانیت ہے۔

Load Next Story