بھارت کی زیرِ تعمیر سرنگ میں زوردار دھماکا؛ 12 مزدور ہلاک اور 13 لاپتا

امدادی کاموں کے درمیان لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے

بھارتی ریاست سکم میں ٹنل دھماکے منہدم 12 مزدور ہلاک اور 13 لاپتا

بھارتی شمال مشرقی ریاست سکم میں زیرِ تعمیر پن بجلی منصوبے کی ایک سرنگ دھماکے کے بعد منہدم ہوگئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق حادثے کے وقت سرنگ کے مختلف حصوں میں مجموعی طور پر 27 مزدور کام کر رہے تھے جن میں سے صرف 2 مزدور اپنی مدد آپ کے تحت باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ سونم ڈی بھوٹیا نے بتایا کہ اب تک 12 مزدوروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ باقی 13 افراد کی تلاش جاری ہے۔ ریسکیو ٹیموں کو ملبہ، دھواں اور زہریلی گیسوں کی موجودگی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

منصوبے پر کام کرنے والے ادارے نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن نے اپنے بیان میں کہا کہ چٹانوں سے میتھین گیس کے اخراج کے بعد دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں سرنگ کے اندر دھواں اور زہریلی گیسیں پھیل گئیں۔

میتھین ایک آتش گیر قدرتی گیس ہے جو بعض اوقات زیر زمین چٹانوں میں جمع ہو جاتی ہے اور سرنگ کی کھدائی کے دوران اگر یہ گیس اچانک خارج ہو جائے تو معمولی چنگاری بھی بڑے دھماکے کا باعث بن سکتی ہے۔

اب تک صرف 7 مزدوروں کی شناخت ہوسکی ہے جن میں ایک مزدور سکم جبکہ دیگر مغربی بنگال، آسام اور اتراکھنڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ باقی افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

سکم کے وزیر اعلیٰ پریم سنگھ تمانگ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ ہلاکتوں کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم اور تکنیکی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔

یہ سرنگ دریائے تیستا کا پانی پن بجلی منصوبے کے ٹربائنز تک پہنچانے کے لیے تعمیر کی جا رہی تھی اور اسے سکم کے بڑے ہائیڈرو پاور منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

 

Load Next Story