پاکستان کی سفارت کاری ،امن کی نئی امید
پاکستان کے جغرافیے نے اسے ہمیشہ دو حقیقتوں کے درمیان کھڑا رکھا ہے؛ ایک طرف طاقت کی سیاست کا شور اور دوسری جانب امن کی سفارت کی ضرورت۔ جب مشرقِ وسطیٰ کے افق پر جنگ کے بادل گہرے ہوتے ہیں تو ان کی گرج صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی، معیشت، سفارت کاری اور علاقائی سلامتی کے ہر گوشے میں سنائی دیتی ہے۔
آج ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اسی نوعیت کا ایک بحران بن چکی ہے جس کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا اس کے ارتعاشات محسوس کر رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کی ذمے داری محض ایک ہمسایہ ملک یا اسلامی دنیا کے ایک اہم رکن کی نہیں بلکہ ایک ایسے ریاستی کردار کی ہے جو کشیدگی کے بجائے مفاہمت، تصادم کے بجائے مذاکرات اور طاقت کے بجائے سیاسی حل پر یقین رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں اسی وسیع تر سفارتی منظرنامے کا حصہ ہیں۔ ان ملاقاتوں نے اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات صرف سرحدی ہمسائیگی تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سلامتی، معیشت، سرحدی انتظام، انسداد دہشت گردی اور علاقائی استحکام کے کئی مشترکہ مفادات موجود ہیں۔
ایسے وقت میں جب خلیج میں جنگی ماحول مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے، دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح پر روابط اس امر کا اظہار ہیں کہ خطے کے ذمے دار ممالک بحران کو مزید بڑھانے کے بجائے اسے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے تحمل، سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دینا محض رسمی بیان نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک مستقل ترجیح کی عکاسی کرتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں پاکستان نے مختلف علاقائی تنازعات میں براہِ راست فریق بننے کے بجائے سہولت کار اور رابطہ کار کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی حکمت عملی آج بھی زیادہ مناسب دکھائی دیتی ہے کیونکہ موجودہ بحران میں کسی ایک فریق کے ساتھ غیر متوازن وابستگی نہ صرف پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ پورے خطے میں اس کے سفارتی کردار کو بھی محدود کر سکتی ہے۔
ایرانی وزیر داخلہ کی جانب سے اسلام آباد کی ثالثی کی کوششوں اور مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے اظہارِ تحسین اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو صرف داخلی سطح پر نہیں بلکہ علاقائی سطح پر بھی اہمیت دی جا رہی ہے، اگرچہ کسی بھی تنازع کا حل صرف ایک ملاقات یا ایک معاہدے سے ممکن نہیں ہوتا، تاہم اعتماد سازی کی ہر کوشش مستقبل کے امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایسے سفارتی اقدامات کو وقتی کامیابی یا ناکامی کے پیمانے سے نہیں بلکہ طویل المدتی اثرات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اس بحران کے ایک مختلف رخ کو نمایاں کرتے ہیں۔ ایک جانب وہ کہتے ہیں کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے اور دوبارہ مذاکرات کی خواہش رکھتا ہے، جب کہ دوسری طرف ایران کو سخت عسکری کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ سفارت کاری اور عسکری دباؤ کو بیک وقت استعمال کرنے کی یہ حکمت عملی اگرچہ عالمی طاقتوں کی خارجہ پالیسی میں نئی نہیں، مگر مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے میں اس کے نتائج غیر متوقع بھی ہو سکتے ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں امریکی موقف گزشتہ کئی برسوں سے تقریباً یکساں رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مسلسل فوجی دباؤ کسی ایسے سیاسی حل کی ضمانت دے سکتا ہے جو پائیدار بھی ہو؟ تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے ذریعے وقتی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں، مگر دیرپا امن صرف سیاسی اعتماد، مذاکرات اور باہمی ضمانتوں سے ہی ممکن ہوتا ہے، اگر ہر مرحلے پر عسکری طاقت کو اولین ذریعہ بنایا جائے تو مذاکرات کی میز کمزور پڑ جاتی ہے اور فریقین کے درمیان بداعتمادی مزید گہری ہو جاتی ہے۔
امریکا کی جانب سے ایران پر مسلسل گیارہ روز تک فضائی حملوں کا سلسلہ اس بحران کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر چکا ہے۔ فوجی مراکز، بحری تنصیبات، ڈرون ذخائر اور لاجسٹک ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا بتایا جا رہا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی خطرہ یہ بھی ہے کہ مسلسل حملے کسی بڑے علاقائی تصادم کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ جنگ کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایک محدود فوجی کارروائی اکثر ایسے ردعمل کو جنم دیتی ہے جس کا دائرہ ابتدائی منصوبہ بندی سے کہیں زیادہ وسیع ہو جاتا ہے۔
ایگزیوس کی رپورٹ میں قطر، پاکستان، مصر اور دیگر علاقائی ممالک کی جانب سے دس روزہ جنگ بندی کی تجویز ایک امید افزا پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اگرچہ ابھی تک کسی فریق نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا، تاہم اس کا سامنے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کے ذمے دار ممالک مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جنگ بندی کسی تنازع کا مکمل حل نہیں ہوتی، لیکن یہ مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک ضروری وقفہ فراہم کرتی ہے جس کے دوران اعتماد سازی کے اقدامات ممکن بنائے جا سکتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ امریکا کے سامنے دو راستے بیان کیے جا رہے ہیں؛ ایک محدود جنگ بندی اور دوسرا مزید وسیع فوجی کارروائی۔ ان دونوں راستوں کے نتائج میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اگر فوجی راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو نہ صرف ایران بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ایک طویل غیر یقینی کیفیت میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر محدود جنگ بندی سے مذاکرات کا دروازہ کھلتا ہے تو اختلافات کے باوجود سیاسی حل کی امید باقی رہ سکتی ہے۔
اس پورے بحران میں پاکستان کا کردار خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستان کے ایران، خلیجی ممالک، چین، امریکا اور دیگر اہم ریاستوں کے ساتھ تعلقات اسے ایک ایسا منفرد سفارتی مقام فراہم کرتے ہیں جہاں وہ کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم اس کردار کی کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب پاکستان اپنی متوازن خارجہ پالیسی، غیر جانب دار سفارت کاری اور قومی مفادات کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھے۔
پاکستان کے لیے اس بحران کا معاشی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ملک پر اثر انداز ہوتا ہے۔ برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ بجلی، ٹرانسپورٹ، صنعت، زرعی لاگت، اشیائے خورونوش اور مجموعی مہنگائی کو بھی متاثر کرتا ہے۔
ایسی صورت میں داخلی معاشی استحکام کو برقرار رکھنا حکومت کے لیے مزید مشکل ہو جاتا ہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی بھی بڑھتی ہے۔ سرمایہ کار خطرات سے بچنے کے لیے سرمایہ نکالنے لگتے ہیں، بحری انشورنس مہنگی ہو جاتی ہے، درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے اور ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان کو پہلے ہی مالیاتی دباؤ، درآمدی اخراجات اور زرمبادلہ کے چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا طول پکڑنا اس کے لیے دوہرا معاشی بوجھ ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عسکری کارروائیوں کے باوجود ایران کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا ممکن نہیں، جب کہ ایران بھی اپنی شرائط کو یکطرفہ طور پر منوانے کی پوزیشن میں نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اس بحران کے سیاسی حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ جب دونوں فریق ایک دوسرے کو مکمل شکست دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو بالآخر انھیں مذاکرات ہی کی طرف لوٹنا پڑتا ہے۔ دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ یہ واپسی زیادہ جانی اور مالی نقصان کے بعد نہیں بلکہ بروقت سفارت کاری کے ذریعے ممکن بنائی جائے۔ امن کی بنیاد ہمیشہ مذاکرات، اعتماد اور سیاسی بصیرت پر استوار ہوتی ہے۔
موجودہ بحران بھی اسی اصول سے مستثنیٰ نہیں، اگر عالمی طاقتیں، علاقائی ریاستیں اور متعلقہ فریق اپنے فوری سیاسی اہداف سے بلند ہو کر اجتماعی استحکام کو ترجیح دیں تو یہ بحران ایک نئے سفارتی باب کا آغاز بن سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد راستہ سمجھا گیا تو اس کی قیمت صرف ایران اور امریکا نہیں بلکہ پوری دنیا کو ادا کرنا پڑے گی۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ زیادہ سودمند ہے کہ وہ امن کے ہر دروازے کو کھلا رکھنے، مفاہمت کی ہر کوشش کو تقویت دینے اور خطے کو ایک اور طویل جنگ سے بچانے کے لیے اپنی سفارتی ذمے داری پوری سنجیدگی، استقلال اور تدبر کے ساتھ جاری رکھے۔