عالمی افراط زر کی شرح
گزشتہ دنوں آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے علیحدہ علیحدہ رپورٹوں میں اس بات پر خدشے کا اظہار کیا گیا کہ توانائی کے بحران ’’سپلائی چین‘‘ میں رکاوٹوں اور مہنگائی کے دباؤ کے باعث دنیا بھر کی معیشتیں شدید چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔2026 میں عالمی افراط زر کی شرح 4.7 فی صد تک پہنچنے کا خدشہ ہے جہاں تک میرا خیال ہے اب اس میں مزید اضافے کے امکانات واضح ہو چکے ہیں۔ ابھی تک تو 6 ماہ اور 20 یوم گزر چکے ہیں۔ امریکا اور ایران جنگ میں مزید شدت پیدا ہوتی چلی جا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے کسی میں آگ لگتی چلی جا رہی ہے۔ ہرمز سے گزرنے کے لیے دور کھڑے جہازوں پر لرزہ طاری ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بلند ہوتی چلی جا رہی ہیں جوکہ جلد ہی ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دے گی۔ ان شدید ترین خطرات کے بیچ پاکستان عالمی موسمیاتی تبدیلی کے شکار ملکوں کی طرح صف اول کے ممالک میں شامل ہوگا۔ پاکستان عالمی افراط زر کی شرح سے کہیں بلند تر مقام پر فائز ہو چکا ہوگا، کیونکہ پاکستان پر قرضے پہاڑ جتنے بلند ہو گئے ہیں جن میں کمی کرنے کی کوشش میں ملک ڈیفالٹ کی طرف جا سکتا ہے اور مزید اضافے سے ڈیفالٹ کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے، لہٰذا شاید ڈیفالٹ کرنے کے بجائے ڈیفالٹ کی طرف جانے دیا جائے کی پالیسی پر آئی ایم ایف نے گامزن کر دیا ہے۔
اس کا ایک حل یہ تھا کہ پاکستان کو جتنے بھی قرضے دیے گئے ان کا صرف اصل پاکستان واپس کرنے کی بات کرے اور مزید قرض بغیر سود کے لیے متمول اسلامی ممالک سے لینے کی بات کرے، کیونکہ اس مرتبہ ہمیشہ کی طرح بطور سود کی ادائیگی ایک بہت بڑی رقم رکھی گئی ہے جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ بجٹ کا 43 فی صد ہے۔ بہرحال کچھ بھی ہو مہنگائی کا گراف مزید بڑھے گا اور بڑھتا رہے گا شاید۔ کیونکہ اس کے لیے ملک کے مافیاز ہی کافی ہیں۔آئی ایم ایف نے عالمی شرح نمو 3 فی صد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ وہیں پاکستان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شرح نمو 3.5 فی صد رہے گی جو گزشتہ برس کے 3.7 فی صد کے مقابلے میں معاشی سست روی تو ظاہر کر رہا ہے اس کا یہ اندازہ درست ہے کیونکہ پاکستان پر افغانستان کی جانب سے آئے روز حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث پاکستان اس وقت عالمی سطح پر اپنی سیاحت کے شعبے کو کسی طرح جدید اور ترقی یافتہ نہ بنا سکا۔
حیرت ہوتی ہے یہ دیکھ کر کہ 79 برس گزر گئے ایسے ایسے خوب صورت ترین مقامات جوکہ خیبرپختونخوا میں واقع ہیں لیکن ان مقامات پر سے گزرنے والے بعض راستے پتھروں سے اٹے ہوئے ہیں جو سیاحوں کو دعوت دیتے ہیں کہ ’’انھی پتھروں پہ چل کراگرآسکو تو آؤ‘‘ آخر وہ نازک یورپی سیاح اپنے پیر زخمی کرانے پاکستان کے سوئٹزرلینڈ کیونکر آنے لگے اور پھر بم دھماکوں کا خوف الگ۔ حکومت پہلے بہترین راستے بنائے اور پھر سڑکوں پر اوپر سے جو پتھر گرتے ہیں ان کا علاج کرے اور بہت سے پاکستانی جوکہ ان علاقوں میں جاتے ہیں، ہوٹلوں میں مہنگی رہائش مہنگا کھانا اور دیگر باتوں کی شکایت کرتے ہیں ان امور کا بھی خیال رکھا جانا ضروری ہے۔
ادھر ایشیائی ترقیاتی بینک نے ترقی پذیر ایشیا اور بحر الکاہل کے خطے کے لیے اپنی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی کو کم کرکے 4.9 فی صد کر دیا ہے۔ پاکستان کے بارے میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال معاشی شرح نمو 3.7 فی صد اور مہنگائی 8.3 فی صد رہنے کا امکان ہے۔ اس صورت حال کی بڑی وجہ توانائی کی بلند لاگت، بیرون ملک سے ترسیلات پر دباؤ اور خطے میں جاری تنازعات شامل ہیں۔ اے ڈی بی کے چیف اکنامسٹ البرٹ یارک نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع میں شدت آئی تو توانائی کی منڈیاں مزید غیر مستحکم ہوں گی اور قرض لینے کی لاگت میں اضافے کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظات کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ فی الحال تو ہرمز کا تنازعہ انتہائی شدید ترین ہو چکا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بھارت کی شرح نمو کو کم کرکے 6.6 فی صد کر دیا گیا ہے۔ بہت خوب اب بھی ہماری حکومت اب نہ سوچے گی تو کب؟ آئی ایم ایف کہتا ہے کہ شرح نمو 3.5 فی صد کا امکان ہے اور اس سے دگنا شرح نمو بھارت کا 6.6 فی صد ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کون سی ایسی مشکلات اور مصائب ہیں کہ ہماری شرح نمو بڑھ کر نہیں دے رہی۔ اس ملک میں صدر ایوب کے دور میں شرح نمو 10 سے 12 فی صد بھی تھی۔ جنرل مشرف کے دور میں 7 سے 8 فی صد بھی تھی۔ پھر ہم کبھی 2 فی صد اور 3 فی صد کچھ زیادہ کچھ کم۔ پاکستان اپنے معاشی مسائل کو سلجھانے میں عالمی تنازعات کو اس کی مقررہ حد تک رکھے آخر اس تنازعے سے بھارت بھی شکار ہوا لیکن اس کی شرح نمو اب بھی ہم سے دگنی رکھی جا رہی ہے اور پاکستان کتنے ہی سالوں سے کم ترین شرح نمو کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ موجودہ تنازع پہلے تو نہیں تھا جب شرح نمو 2 فی صد بھی تھی۔
اس دوران ٹیکسٹائل انڈسٹریز کے لیے یہ خوشخبری ہے کہ کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق 15 جولائی 2026 تک سندھ میں 114 اور پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں 39 فی صد کا اضافہ ہوا۔ البتہ فکر کی بات یہ ہے کہ پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں کمی کیونکر ہوئی۔ اب روئی کی قیمت میں کمی کے امکانات ہیں اور ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ ان باتوں کا پاکستان کے معاشی مسائل کے حل میں کمی کا کوئی تعلق تو نہیں، اس کے لیے حکومت کو پہلے سے اصلاحی اقدامات اٹھانا ہوں گے تاکہ پاکستان بھی عالمی افراط زر کی شرح 4.7 فی صد کے قریب قریب ہو سکے۔