سچائی کمیشن

سفید فام اقلیت نے 1910 میں جنوبی افریقہ میں اپنی باقاعدہ حکومت قائم کی تھی۔

سفید فام اقلیت نے 1910 میں جنوبی افریقہ میں اپنی باقاعدہ حکومت قائم کی تھی۔ اس اقلیتی حکومت نے نسلی امتیاز کی بنیاد پر ریاست کی تشکیل نو کی۔ سفید فام اقلیت کو ریاست کے تمام معاملات پر بالادستی حاصل ہوگئی۔ ان کی جدید ترین ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم ہوئیں۔

جنوبی افریقہ کے معدنی وسائل پر سفید فام اقلیت نے قبضہ کیا ۔ سفید فام اقلیت کے لیے علیحدہ سڑکیں ، اسپتال، ریلوے اور بس کے الگ پلیٹ فارم اور ریل کے بہترین ڈبے مختص کردیے گئے۔ حکومتی ملازمتوں اور عدالتی نظام میں بھی سفید فام اقلیت کی برتری قانونی قرار دیدی گئی۔ جنوبی افریقہ کی اکثریت سیاہ فام آبادی کو غلاموں کی حیثیت دی گئی۔ ان کے لیے علیحدہ ریل کے ڈبے اور علیحدہ پلیٹ فارم تھے اور انھیں تعلیمی اداروں میں داخلے اور اسپتالوں میں علاج تک سے محروم کردیا گیا۔ سیاہ فام افراد کو مخصوص سڑکوں کو استعمال کرنے اور مخصوص ریسٹورنٹ میں جانے کی اجازت تھی، اگر کوئی سیاہ فام شخص ان نسل پرستانہ قوانین کی خلاف ورزی کرتا تو نہ صرف پولیس والے اس شخص کو سرعام زدوکوب کرتے بلکہ اس کو جیل کاٹنے کی سزا بھی دی جاتی۔ سیاہ فام لوگوں کی سیاسی جماعت ’’جنوبی افریقن نیشنل کانگریس‘‘ 1912 میں قائم ہوئی۔

1923 میں اس کا نام تبدیل کر کے ’’افریقن نیشنل کانگریس (A.N.C)‘‘ رکھ دیا گیا۔ اس جماعت کے بانیوں میں John Langalibalele Dube، Pixley ka Isaka Semeاور Sol T. Plaatjeشامل تھے۔ افریقن نیشنل کانگریس نے سیاہ فام افراد کے حقوق کے لیے جدوجہد شروع کی۔ اے این سی نے نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کیا اور 1955 فریڈم چارٹر کی منظوری دی۔ اس چارٹر میں نسلی امتیاز سے پاک جمہوریت کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ 1960میں Shar Peville کے مقام پر حکومتی پولیس اور فوج نے احتجاج کرنے والے سیاہ فام افراد پر اندھادھند گولی چلائی۔

اس فائرنگ میں 69 کے قریب سیاہ فام باشندے جاں بحق ہوئے اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ حکومت نے اس سانحے کی آڑ لے کر اے این سی پر پابندی عائد کردی۔ افریقن نیشنل کانگریس کے رہنما نیلسن منڈیلا 18 جولائی 1918کو جنوبی افریقہ کے ایک گاؤں Miezo, Transkei میں پیدا ہوئے۔ نیلسن منڈیلا نے University College of Forthare سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ منڈیلا نے 1952 میں Oliver Tambi کے اشتراک سے وکالت شروع کی۔ منڈیلا پہلے سیاہ فام تھے جو وکیل بنے۔ منڈیلا نے 1944 میں ہی اے این سی میں شمولیت اختیار کرلی تھی مگر وہ اس دوران خفیہ تنظیمی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔ منڈیلا نے نسلی امتیاز پر مبنی قوانین خاص پر پریس لاء کی منسوخی کے لیے ایک مہم منظم کی اور 1955 میں فریڈم چارٹر کی تیاری میں معاونت کی۔ جب 1960 میں Shar Pevilleمیں 69 مظاہرین کی پولیس کی فائرنگ سے ہلاکتوں کے بعد حکومت نے اے این سی پر پابندی عائد کی تو منڈیلا نے عدم تشدد کا راستہ ختم کردیا اور اے این سی کی عسکری تنظیم Umkhunto Wesizwe کو منظم کرنا شروع کیا۔ جنوبی افریقہ کی پولیس نے 1962ء میں نیلسن منڈیلا کو گرفتار کیا۔

انھیں 5 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ 1964 میں نیلسن منڈیلا کو بغاوت اور تخریب کاری کے الزامات میں عمر قید کی سزا دی گئی۔ منڈیلا کو پھر Robben Island جیل منتقل کیا گیا جہاں انھیں قید تنہائی میں رکھا گیا اور تکیہ تک کی سہولت چھین لی گئی۔ منڈیلا کو 1982میں Pollsmour Victor Versterبھیج دیا گیا۔ منڈیلا نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ ان جیلوں میں بھی ان کے ساتھ بیہمانہ سلوک ہوا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک دن انھیں باکسنگ کے مقابلہ میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی، ان کا مقابل ان کا جیلر تھا۔ منڈیلا نے جیلر کو ناک آؤٹ کیا تو جیلر نے ان کا تکیہ واپس لے لیا اور برسوں نیلسن منڈیلا بغیر تکیہ کے سوتے رہے۔

 1990 میں سفید فام اقلیتی حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور منڈیلا کو 27 سال مختلف جیلوں میں گزارنے کے بعد 11 فروری 1990 کو رہا کردیا گیا۔ منڈیلا کو 10 مئی 1994کو جنوبی افریقہ کا پہلا سیاہ فام صدر منتخب کیا گیا۔ جب منڈیلا صدر منتخب ہوئے تو بہت سے بحران ان کے منتظر تھے۔ سفید فام باشندوں نے سیاہ فام افراد پر برسوں ہر قسم کا تشدد کیا تھا ، ہر قسم کی مراعات حاصل کی تھیں اور جنوبی افریقہ کے وسائل پر قبضہ کیے رکھا تھا۔ دوسری طرف سیاہ فام باشندے برسوں سے سفید فام افراد سے اپنے بدلہ لینے کو تیار تھے۔ سفید فام افسران ان مراعات کو چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ اس بات کا خدشہ تھا کہ جنوبی افریقہ میں بڑے پیمانے پر فسادات پھوٹ پڑیں اور خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوجائے۔ جنوبی افریقہ کی سیاہ فام حکومت اتنی مضبوط نہیں تھی اور نہ ہی اس کے پاس تجربہ کار بیوروکریسی موجود تھی جو حالات کو قابو میں رکھ سکے۔ اس موقع پر نیلسن منڈیلا ایک عظیم مدبر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔

انھوں نے ساری صورتحال کا عرق ریزی سے تجزیہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا کہ اکثریتی عوام درگزر اور برداشت سے کام لیں اور عوام پر ظلم کرنے والے سفید فام افراد اپنے جرائم کا اقرار کریں تو انھیں معاف کردیا جائے تاکہ ریاست میں امن قائم رہے۔ انھوں نے اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے پہلے Truth and Reconciliation Commission قائم کیا اور ایسا جمہوری آئین نافذ کیا جس میں نسلی امتیاز کو سنگین جرم قرار دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی Rainbow National Reconciliationکی مہم شروع کی۔ غربت کے خاتمہ اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے لیے اصلاحات نافذ کیں۔ Truth and Reconciliation Commission کا سربراہ آزای کے ایک ہیرو Archbishop Desmond Tutuکو مقرر کیا گیا۔ اس کمیشن نے تین کمیٹیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور 2معافی کمیٹی اور تیسری نسلی امتیاز کے شکار افراد کی بحالی کی کمیٹی قائم کی۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تحقیقات کی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ یکم مارچ 1960 سے 10 مارچ 1994تک جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاںکی گئی ہیں ان کا ریکارڈ جمع کیا جائے۔ اس کمیٹی کے سامنے 21 ہزار متاثرین کی شہادتیں ریکارڈ کی گئیں اور ثبوت جمع کرائے گئے۔

اس کمیٹی نے 2 ہزار کے قریب اجلاس منعقد کیے۔ معافی کمیٹی میں وہ تمام سابق پولیس اور انٹیلی جنس کے افسران پیش ہوئے جنھوں نے سیاہ فام افراد کے خلاف جرائم کیے تھے۔ ان جرائم میں سول جرائم کے علاوہ فوجداری جرائم بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی کے سامنے 7ہزار اہلکاروں نے اپنے جرائم کا اقرار کیا اور ان جرائم پر معافیاں طلب کیں۔ اس طرح بحالی کمیٹی نے سفید فام اہلکاروں کے مظالم سے متاثرہ افراد کو معاوضوں کی ادائیگیوں کے احکامات جاری کیے جب کہ جن لوگوں کو ذہنی اذیت دی گئی ان کے علاج کی سفارش کی گئی۔ TRC نے 1998میں 5والیم پر مشتمل اپنی رپورٹ جاری کی جو پھر چھٹا والیم 2003 میں شائع ہوا۔ اس کمیٹی کے سامنے نیلسن منڈیلا کی سابقہ بیوی Winnie Madik Zeleبھی 1997میں پیش ہوئیں۔ ان پر انسانی حقوق کی 18 خلاف ورزیوں کے الزامات تھے۔ ان الزامات میں اغواء، تشدد اور قتل کے الزامات تھے۔ منڈیلا کی سابق بیوی ANCکی عسکری ونگ میں شامل تھیں۔

کمیٹی نے انھیں بعض جرائم کا مرتکب قرار دیا جب کہ بعض جرائم کا انھوں نے خود اقرار کیا۔ نیلسن منڈیلا کے اس کمیشن کے قیام کے آئیڈیا سے لوگوں میں جرات اور عدم تشدد کا جذبہ بیدار ہوا اور بہت سے مظلوموں کو اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا ذکر کرکے ذہنی طور پر سکون ملا اور جن لوگوں نے جرائم کیے تھے انھیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان 14 مئی 2006کو لندن میں 36نکات پر مشتمل میثاق جمہوریت پر اتفاق ہوا تھا۔

ان 36 نکات میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے اقدامات پر اتفاق رائے ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ایک ایسے کمیشن کا ذکر تھا جیسا جنوبی افریقہ میں تشکیل دیا گیا تھا، مگر پھر بے نظیر بھٹو اور سابق صدر پرویز مشرف کے درمیان این آر او پر اتفاق ہوگیا اور حقیقی جمہوریت کا راستہ رک گیا۔ اگرچہ 2010 میں 18ویں ترمیم کے تحت صوبائی خودمختاری سمیت کئی اہم معاملات طے ہوگئے مگر کمیشن قائم نہ ہوسکا۔ اس کی ایک بڑی وجہ ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کی اسٹیبلشمنٹ سے قربت کی خواہش تھی۔ اب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفر آباد میں ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر عملدرآمد کے لیے سچائی کمیشن کا تصور پیش کیا ہے ۔ ایک ایسا ملک جہاں پر سول حکومتوں کو مکمل بالادستی حاصل نہ ہو تو وہاں اس طرح کے کمیشن کے قیام کی خواہش محض خواہش ہی رہے گی۔

Load Next Story