این ایف سی ایوارڈ کے شیئر میں اضافے کیلیے کے پی کے حکومت کی آئینی عدالت میں درخواست دائر
خیبر پختونخوا حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے شیئر میں اضافہ کے لیے آئینی عدالت میں درخواست دائر کر دی۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ 25ویں ترمیم کے تحت فاٹا اور پاٹا کو پختونخوا میں ضم کیا گیا لیکن ضم شدہ اضلاع کے مطابق این ایف ایس ایوارڈ میں اضافہ نہیں کیا گیا، نئے اضلاع ضم ہونے کے باوجود این ایف سی شیئر پرانے فارمولے پر دیا جا رہا۔ این ایف سی شیئرز میں اضافہ نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 160 کی خلاف ورزی ہے۔
صوبائی حکومت کی درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ وفاقی حکومت اور صدر مملکت سمیت این ایف سی کمیشن اجلاسوں میں بھی معاملہ اٹھایا گیا لیکن صدر وزیراعظم سمیت کسی متعلقہ فورم پر جائز حق کے لیے بھی شنوائی نہیں ہوئی، موجودہ آئینی درخواست کی توثیق کے پی اسمبلی 13 جنوری سے لی گئی ہے جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان نے بھی خیبرپختونخوا کے شیئر میں اضافے کی حمایت کی۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت نئے این ایف سی کمیشن کی سفارشات پر صدارتی آرڈر جاری کرنے کا حکم دے اور گرانٹ ان ایڈ آرڈر کے تحت خیبر پختونخوا کا حصہ 14.79 فیصد قرار دیا جائے۔
صوبائی حکومت نے استدعا کی کہ 25ویں ترمیم کی تاریخ سے ضم شدہ اضلاع کے حصے کے فنڈز جاری کرنے کا حکم دیا جائے، این ایف سی ایوارڈ میں کے پی کے شیئر میں اضافے پر وفاق کا موقف غیر آئینی قرار دیا جائے۔