یہ خاموشی کب ٹوٹے گی؟
تاریخ کا ایک دلچسپ مگر تلخ سبق ہے۔ قومیں اس وقت نہیں بدلتی جب ان کے حکمران بدلتے ہیں، بلکہ اس وقت بدلتی ہیں جب ان کے نوجوان اپنے مستقبل کا فیصلہ دوسروں کے ہاتھ میں دینے سے انکار کردیتے ہیں۔
پچھلے چند برسوں میں دنیا نے اس حقیقت کو بار بار اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ سری لنکا میں معاشی تباہی کے خلاف اٹھنے والی ’’اراگالایا‘‘ تحریک نے ایک ایسے سیاسی خاندان کو اقتدار سے بے دخل کردیا جسے ناقابلِ شکست سمجھا جاتا تھا۔ کینیا میں نوجوانوں نے سوشل میڈیا کو صرف اظہارِ رائے کا ذریعہ نہیں بلکہ منظم عوامی طاقت میں بدل دیا اور حکومت کو متنازع ٹیکس بل واپس لینے پر مجبور کردیا۔
بنگلہ دیش میں طلبا نے کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج شروع کیا، مگر وہ احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی عوامی تحریک بن گیا جس نے برسوں سے قائم سیاسی اقتدار کو زمین بوس کر دیا۔ دوسری جانب ترکی میں عوام نے فوجی بغاوت کے خلاف سڑکوں پر نکل کر یہ ثابت کیا کہ ریاست کی تقدیر صرف ایوانوں میں نہیں، عوام کے حوصلوں میں بھی لکھی جاتی ہے۔
یہ تمام مثالیں ایک ہی سوال پوچھتی ہیں: آخر نوجوان کب فیصلہ کرتے ہیں کہ اب خاموش نہیں رہنا؟ آج بھارت میں لاکھوں نوجوان امتحانی نظام کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا مؤقف سادہ ہے۔ اگر ایک طالب علم کی برسوں کی محنت ایک لیک ہونے والے پرچے کی نذر ہوجائے تو یہ صرف امتحانی بے ضابطگی نہیں بلکہ انصاف کا قتل ہے۔ وہ سڑکوں پر ہیں کیونکہ انہیں اپنے مستقبل کی قیمت معلوم ہے۔
اور پھر نظر پاکستان پر پڑتی ہے۔ یہ وہی ملک ہے جہاں کبھی طلبا تحریکیں تاریخ کا رخ موڑ دیا کرتی تھیں۔ کراچی کی سڑکوں سے لے کر ڈھاکا تک، نوجوانوں نے اپنے حقوق کے لیے قربانیاں دیں۔ زبان، جمہوریت، تعلیم اور آئینی حقوق کی جدوجہد میں طلبہ صفِ اول میں کھڑے نظر آتے تھے۔ بعد ازاں طلبا یونینیں کمزور ہوئیں، اختلافِ رائے کو محدود کیا گیا، اور ایک پوری نسل کو یہ باور کرایا گیا کہ خاموش رہنا ہی محفوظ راستہ ہے۔ اس خاموشی کی قیمت آج پورا معاشرہ ادا کر رہا ہے۔
ہمارے ہاں اگر بورڈ امتحانات میں بدانتظامی سامنے آجائے یا کسی مقابلے کے امتحان پر سوالات اٹھ جائیں تو چند دن شور مچتا ہے، چند ٹاک شوز ہوتے ہیں، چند بیانات آتے ہیں، پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ نظام اپنی جگہ قائم رہتا ہے اور متاثر ہونے والے ہزاروں نوجوان اگلے امتحان کی تیاری میں لگ جاتے ہیں، گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک منظر یہ ہے کہ آج ہمارے نوجوانوں کی گفتگو کا سب سے مقبول موضوع ملک کو بدلنا نہیں بلکہ ملک چھوڑنا ہے۔ ہر دوسرا نوجوان ویزے، امیگریشن، بیرونِ ملک ملازمت یا مستقل رہائش کے خواب دیکھ رہا ہے۔ یقیناً بہتر مستقبل تلاش کرنا ہر انسان کا حق ہے، اور بہت سے لوگ حقیقی مجبوریوں کے تحت ہجرت کرتے ہیں۔ لیکن جب ایک پوری نسل کا اجتماعی خواب صرف رخصت ہو جانا بن جائے تو پھر مسئلہ صرف معیشت کا نہیں، قومی نفسیات کا بھی ہوتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے مسائل کیوں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان مسائل کا حل صرف ہوائی اڈے تک محدود ہے؟ دنیا کی کوئی بھی قوم صرف اس لیے ترقی نہیں کرتی کہ اس کے مسائل کم ہوتے ہیں۔ وہ اس لیے ترقی کرتی ہے کہ وہاں مسائل کے مقابلے میں کھڑے ہونے والے لوگ زیادہ ہوتے ہیں۔
پاکستان کو آج نعروں سے زیادہ شعور، شکایتوں سے زیادہ کردار اور سوشل میڈیا کی پوسٹوں سے زیادہ عملی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سری لنکا، کینیا، بنگلہ دیش اور دنیا کے کئی دوسرے ممالک میں تبدیلی کسی معجزے سے نہیں آئی، بلکہ اس وقت آئی جب نوجوانوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے مستقبل کا سودا خاموشی کے عوض نہیں کریں گے۔
ہمارے نوجوان بھی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں، مگر افسوس یہ ہے کہ آج ان کی توانائی کا بڑا حصہ ملک چھوڑنے کے خواب، ویزوں کی قطاروں اور سوشل میڈیا پر وقتی غصہ نکالنے میں صرف ہو رہا ہے۔ ہجرت کسی کی مجبوری ہو سکتی ہے، لیکن اگر ایک پوری نسل اپنے وطن کو بہتر بنانے کی امید ہی چھوڑ دے تو یہ صرف افراد کی نہیں، قوم کی شکست ہوتی ہے۔
ریاستیں صرف حکمرانوں سے نہیں بنتیں، باشعور شہریوں سے بنتی ہیں۔ اگر ہم تعلیم، انصاف، شفافیت اور جوابدہی کے لیے منظم، پرامن اور مسلسل آواز بلند نہیں کریں گے تو آنے والی نسلیں بھی انہی مسائل کا بوجھ اٹھائیں گی جن پر آج ہم صرف تبصرے کر رہے ہیں۔
شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہم دوسروں کی کامیاب تحریکوں پر تالیاں بجانے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ خود سے یہ سوال کریں کہ ہم نے اس ملک کو بہتر بنانے کے لیے آخر کیا کیا ہے؟
کیونکہ سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان کب بدلے گا؟ اصل سوال یہ ہے کہ ’یہ خاموشی کب ٹوٹے گی؟‘
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔