سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب مرکزی اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے تھے۔ اٹارنی جنرل کا موقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا ۔
کیس کی سماعت میں نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، جس کے بعد سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ نے بھی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت مسترد ہونے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے ضمانت منسوخی کیخلاف اپیل پر اعتراض عائد کیا تھا۔ اعتراض میں ضمانت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرنے کا کہا گیا تھا۔
30 صفحات پر مبنی فیصلہ جاری
نیب کیسز کے حق اختیار سے متعلق سپریم کورٹ نے اپنی سماعت کے بعد 30 صفحات پر مبنی فیصلہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کی تمام فوجداری اپیلیں /زیر التوا درخواستیں آئینی عدالت منتقل کی جائیں۔
دوران سماعت وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ کے ضمانت فیصلہ کا حوالہ بھی دیا۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اختیار سماعت کا نکتہ اٹھائے بغیر فیصلے کی وجوہات متعلقہ نیب ہی بتا سکتا ہے۔ اعتراض نہ اٹھانے کی کوتاہی کے باوجود قانون ہی اختیار سماعت طے کرتا ہے۔ سپریم کورٹ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیل سن سکتیں ہے۔ نیب کیسز کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔
عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق یہ ممکن نہیں کہ ضمانت سپریم کورٹ/مرکزی اپیل آئینی عدالت سنے۔ فورمز کا تضاد رکھا گیا تو قانون کے برخلاف ہوگا۔ کسی درخواست گزار کی ترجیح یا رضا مندی پر قانونی فورم ایجاد نہیں کیا جا سکتا کہ سائل اپنی مرضی سے فورم شاپنگ کرے۔