یورپی یونین نے ایران کے 5 ججوں اور سائبر گروپ کے بانی پر پابندیاں عائد کردیں
یورپی یونین نے ایرانی ججز پر پابندی عائد کردی
یورپی یونین نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزام میں ایران کے 5 ججوں اور ایک سائبر گروپ کے بانی پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں نیما صالحی بھی شامل ہیں جو ایرانی سائبر گروپ آشیانے کے بانی ہیں۔
یورپی یونین کا الزام ہے کہ یہ گروپ ایران کی سائبر پولیس فاٹا اور پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہوئے حکومتی سطح پر معلومات کے بہاؤ کو محدود کرنے اور آن لائن نگرانی میں مدد فراہم کرتا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر پانچ ایرانی ججوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے تاہم ان ججوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ جیسے جیسے ایران اندرونِ ملک کریک ڈاؤن میں شدت لا رہا ہے۔ یورپی یونین ذمہ دار افراد کا احتساب جاری رکھے گی۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ نے مزید کہا کہ اب تک ایران سے متعلق پابندیوں کی فہرست میں 269 افراد اور 53 ادارے یا تنظیمیں شامل کیے جا چکے ہیں۔