دینی رجحان وقت کی اہم ضرورت
فوٹو : فائل
کسی بھی سسٹم کو رائج کرنے کےلیے اجتماعی سطح پر غالب رجحان کا ہونا ضروری بلکہ لازم ہے۔ اور اجتماعی سطح پر رجحان ظاہر تب ہی ہوگا جب انفرادی طور پر اپنے مزاج کو اس سسٹم کے مکمل تابع کردیا جائے۔
اسی لیے تو جب سوسائٹی میں کوئی نئی پروڈکٹ متعارف کروانا ہوتی ہے تو اس کی طرف لوگوں کے رجحان میں اضافے کےلیے اس کی خوب پبلسٹی کی جاتی ہے تاکہ معاشرے میں اس کو انفرادی سطح سے اجتماعی سطح تک خوب پذیرائی حاصل ہوجائے، لوگ اس کی خوبیوں کے معترف ہوجائیں۔ اسی لیے جب اجتماعی سطح پر ایک رجحان پیدا ہوجاتا ہے تو پھر اس پذیرائی کو کوئی نہیں روک سکتا اور اسی جھکاؤ کی وجہ سے یہ پروڈکٹ ہر ایک کی روز مرہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔
یہ بات صرف پروڈکٹ کی نہیں، اسی طرح کسی بھی سسٹم یا سوچ کو معاشرے میں انفرادی سطح سے اجتماعی سطح تک لانے کے لیے ایک رجحان کا پیدا کرنا بھی لازم ہوتا ہے۔ اور یہ سسٹم معاشی سطح کا ہو یا معاشرتی، سیاسی سوچ کا ہو یا دینی، یہی سسٹم اس کی بقا اور کامیابی کی دلیل ہے۔
اور بات دین کی ہو تو دین اسلام صرف چند اصول و قوانین کا نظام نہیں بلکہ یہ اپنے ماننے والوں سے تقاضا کرتا ہے کہ ’ادخلوا فی السلم کافۃ‘ دین میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ، چاہے اس کے قوانین اور اصول تمہارے مزاج کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی لیے تو ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ یعنی ’نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو‘۔ اس حد تک کہ شریعت کے مطابق ہاتھ سے روکو، نہیں تو زبان سے روکو، نہیں تو کم از کم دل میں اسے برا جانو (یعنی اگر اجتماعی سطح تک نہیں تو کم از کم انفرادی سطح پر ہی) لیکن ایسا لازم کرو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو یہ بات ایمان کی کمزوری کی دلیل بن جائے گی۔
کیوں اس حد تک اس کو لازم کیا گیا ہے؟ اس لیے کہ کسی سطح تک ہی ایک رجحان کو قائم رکھا جائے، کسی طرح یہ دینی رجحان ختم نہ ہونے پائے اور مسلسل اس رجحان کو انفرادی سطح سے اجتماعی سطح تک لانے میں تگ و دو کی جائے۔ کیونکہ یہ ہی سوچ کا وہ دائرہ کار ہے جو قوموں کی زندگیوں کے بننے اور بگڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس کی مثال یہ ہے کہ حضرت علیؓ سے ایک شخص نے پوچھا کہ مسلمانو ں کا کیا معاملہ ہوا ہے کہ آپ کے زمانہ میں سب اختلاف میں پڑگئے ہیں، جبکہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کے زمانے میں ایسا بالکل نہیں تھا، سب متحد تھے۔ اس پر حضرت علیؓ نے فرمایا، ابو بکرؓ اور عمرؓ میرے جیسے لوگوں پر حکمراں تھے، اور میں تمہارے جیسے۔
یہ ہے وہ بنیادی نکتہ جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حضرت علیؓ کے جواب میں اشارہ اسی دینی محرک اور رجحان کی طرف تھا جو کہ اکثریت مسلمانوں میں کمزور پڑ گیا تھا۔ حضرت عثمانؓ کے دور تک معاشرے میں پھر بھی کسی نہ کسی حد تک ایک دینی محرک اور رجحان کے زیر اثر تھا جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ کمزور پڑتا گیا، یہاں تک کہ شہادت علیؓ سے واقعہ کربلا کا بھی موجب بنا۔
اور یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ اپنے مزاج کو کسی بھی سسٹم کے تابع کرنے کےلیے بہت سی قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔ جب مزاج بمطابق دین ہو جائیں گے تو اجتماعی سطح پر یہ ایک تحریک کی صورت میں نمودار ہوگا، اور یہی رویہ معاشرے میں دین کو قائم کرسکتا ہے۔ نہیں تو یہ صرف کھوکھلے دعوے ہی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ دم توڑ جاتے ہیں۔
اس کے لیے معاشرے میں موجود افراد کو سب سے پہلے باشعور بنانا بے حد ضروری ہے تاکہ ان میں اس چیز کا احساس پیدا ہوکہ وہ اپنے ہر عمل کےلیے اپنے خدا کے سامنے جوابدہ ہیں۔
موجودہ دور میں دینی رجحان کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، تاکہ مادیت پرستی، اخلاقی تنزلی اور ذہنی تناؤ کے بڑھتے ہوئے مسائل کا مقابلہ کیا جاسکے۔ دینی تعلیم و تربیت انسان کو زندگی گزارنے کا صحیح شعور، کردار کی مضبوطی اور حقیقی سکون فراہم کرتی ہے، جو کوئی سسٹم نہیں دے سکتا۔
آج کے دور میں اخلاقی اقدار کی تنزلی، ذہنی سکون کی کمی، معاش کمانے کے چکر میں حلال و حرام کی تمیز تک کا بھول جانا، یہ سب دین سے دوری ہی تو ہے۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارا دینی رجحان صرف عبادات تک محدود رہ گیا ہے، یہاں تک کہ نماز اور روزہ ہی ہمارا معیار مسلمانی ہے۔ جبکہ فرمان تو یہ ہے کہ ’دیکھنا کسی کی عبادت تمہیں اس مغالطہ میں نہ ڈال دے کہ وہ مومن ہے، جب تک کہ اس کے دوسرے معاملات دین کے تابع نہ ہوجائیں‘‘۔
دین اسلام ہماری زندگی کے ہر معاملے اور ہر نہج پر دین کو اپنانے کا مطالبہ کرتا ہے، چاہے اس کا تعلق ہماری معاش سے ہو، معاشرت سے، سیاست سے یا اخلاقیات سے۔ معاشرے میں ایک دینی رجحان ہی وقت کی اہم ضرورت اور ہمارے تمام دنیاوی مسائل کا حل ہے، اور دین اسلام کا بنیادی تقاضا بھی۔ بحیثیت مسلمان ہم اس کے لیے اپنے خدا کے سامنے جوابدہ ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔