پنجاب میں پہلی بار جنگلی حیات کے لیے پورٹیبل ایکسرے سروس کا آغاز
پنجاب میں پہلی بار جنگلی حیات کے علاج اور تشخیص کے لیے پورٹیبل ڈیجیٹل ایکسرے سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے بعد زخمی یا بیمار جنگلی جانوروں کو دوسری جگہ منتقل کیے بغیر ان کی موجودہ جگہ پر ہی ایکسرے اور ابتدائی طبی تشخیص ممکن ہو گئی ہے۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق اس اقدام سے جانوروں کو غیر ضروری نقل و حمل، ذہنی دباؤ اور علاج میں تاخیر سے بچانے میں مدد ملے گی۔ پنجاب وائلڈ لائف اینڈ پارکس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ جدید سہولت لاہور سفاری زو میں قائم اسٹیٹ آف دی آرٹ وائلڈ لائف ہسپتال میں فعال کی گئی ہے۔
ادارے کے مطابق حال ہی میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے لاہور زو میں موجود ایک فیلو ڈئیر اور ایک اژدھےکا موقع پر ہی کامیاب ریڈیولوجیکل معائنہ کیا گیا۔
لاہورچڑیا گھر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام رسول کی ہدایت پر اور ڈپٹی ڈائریکٹر شہزیب خورشید کی نگرانی میں ہرن اور اژدھے کا کامیاب ایکسرے کیا گیا، جس کے نتائج کی بنیاد پر ان کے علاج کا لائحہ عمل مرتب کیا گیا۔
ڈاکٹرغلام رسول کے مطابق ماضی میں کسی جنگلی جانور کے ایکسرے کے لیے اسے بے ہوش کرکے بیرونی ویٹرنری ہسپتال منتقل کرنا پڑتا تھا، جس میں وقت اور وسائل صرف ہونے کے ساتھ ساتھ جانوروں کو نقل و حمل کے دوران اضافی دباؤ اور صحت کے خطرات کا بھی سامنا رہتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اب پورٹیبل ڈیجیٹل ایکسرے مشین کے ذریعے ویٹرنری ماہرین جانوروں کے باڑے یا علاج کی جگہ پر ہی ہڈیوں، اندرونی چوٹوں اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا فوری معائنہ کر سکتے ہیں۔ محکمہ کے مطابق اس سہولت سے بروقت اور درست تشخیص ممکن ہوگی، جس سے علاج کے فیصلے تیزی سے کیے جا سکیں گے اور صحت یابی کے امکانات میں بھی بہتری آئے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ پورٹیبل ایکسرے سروس کا آغاز پنجاب میں جنگلی حیات کے طبی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے ہنگامی حالات میں زخمی جانوروں کی فوری تشخیص، آرتھوپیڈک مسائل کی جانچ، بیماریوں کی بروقت نشاندہی اور مجموعی طبی نگہداشت کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔