ملکی معیشت اور مہنگائی

امریکا ایران جنگ کے باعث اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی آگے جا رہی ہیں۔

امریکا ایران جنگ کے باعث اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی آگے جا رہی ہیں۔ اس بحران کے پیش نظر پاکستان جیسی کمزور ترین معیشت نے آئی ایم ایف کی اس ہتھکڑی کے ساتھ کہ پٹرول پر ایک روپیہ بھی سبسڈی نہیں دینی اس کا حل یہ نکالا کہ روزانہ قیمتیں طے کرنے کا طریقہ کار اپنا لیا ہے۔ پاکستان جیسی کمزور معیشت جوکہ اپنی توانائی کی زیادہ تر ضروریات درآمد کرتی ہے۔

اب ایک مشکل ترین دوراہے پر کھڑی ہے اس سے قبل کالم میں لکھا تھا کہ 16 ارب 86 کروڑ ڈالرز کی پٹرولیم مصنوعات گزشتہ مالی سال کی رہیں اور اس میں رواں مالی سال اضافے کے امکانات واضح ہو گئے ہیں۔ اس اضافے کا براہ راست اثر تجارتی خسارے پر پڑ چکا ہے اور عوام پر مہنگائی کا تازیانہ برس چکا ہے، کیونکہ جب حکومت روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کی قیمتیں طے کرتی ہے تو ہر شے کی قیمت اب تیزی سے اوپر جانے لگے گی، کیونکہ حکومت آئی ایم ایف کی پابند ہے اور کسی قسم کی سبسڈی دے نہیں سکتی اور عالمی سبسڈی میں فی الحال تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس وقت بعض جائزوں کے مطابق مجموعی مہنگائی 13 فی صد ہے۔ اب اس میں مزید اضافہ شروع ہو گیا ہے، سب سے زیادہ مہنگائی محسوس ہوتی ہے وہ ہے آٹے کی قیمت میں اضافہ جس میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ ماہ اپریل میں ایک سفر کے دوران ٹنڈو آدم شہر کے ایک ایسے مقام سے گزر ہوا جہاں کئی آٹے کی چکیاں نصب تھیں، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ فی کلو آٹے کا حساب کچھ یوں تھا کہ 100 روپے کلو گندم اور اس کی صفائی کے 4 یا 5 روپے فی کلو اور 4 یا 5 روپے پسوائی فی کلو۔ اس طرح ایک صارف کو 110 روپے فی کلو آٹا مل رہا تھا۔ اب صورتحال مہنگائی کی طرف جا چکی ہے۔ ماہ اپریل ایسا مہینہ ہوتا ہے جب گندم کا پرانا اسٹاک ختم ہو رہا ہوتا ہے اور نیا اسٹاک نئی پیداوار کی آمد کا آغاز ہو چکا ہوتا ہے جوکہ پورے پاکستان میں مئی کے وسط تک تقریباً مکمل ہو جاتا ہے اور ماہ مئی کے آخر میں اعلان کر دیا جاتا ہے کہ اس سال ایک بار پھر ملک گندم میں خود کفیل ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

اس سال گندم کی پیداوار کا تخمینہ 2 کروڑ 93 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن لگایا گیا ہے، اگرچہ سرکاری ہدف 29.67 ملین ٹن سے محض 1.24 فی صد کم ہے۔ تاہم گزشتہ سال کی پیداوار 28.42 ملین ٹن کے مقابلے میں 3.13 فی صد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فی ایکڑ پیداوار 31 من ریکارڈ کی گئی ہے۔ ملک بھر میں گندم کا مجموعی کاشت رقبہ 9.385 ملین ہیکڑ رہا۔ جب کہ حکومت نے 9.648 ملین ہیکڑ پر کاشت کا ہدف طے کیا تھا۔ کاشت کے رقبے میں کمی کیوں ہوتی ہے، یہ کوئی راکٹ سائنس تو ہے نہیں۔ گزشتہ سیزن میں کاشت کاروں کو گندم کی قیمت کم ملی تھی۔ یہ اس کا اثر ہے، حکومت زیادہ سے زیادہ رقبے کا ہدف اور فی ایکڑ زیادہ کا ہدف اور کل زیادہ سے زیادہ گندم کی پیداوار کا ہدف طے کرے اور زیر کاشت رقبے میں تمام سوسائٹیز جوکہ غیر آباد ہیں ریلوے کی تمام زمینیں جو زیر کاشت لائی جا سکتی ہیں، ان سب کو شامل کیا جائے تاکہ کم از کم پاکستان گندم کا برآمدی ملک تو بن جائے۔

البتہ حکومت کو فوری طور پر توانائی کی متبادل سپلائی روٹس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حال ہی میں پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے اور توانائی کے سیکیورٹی روٹس پر تعاون تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس وقت پاکستان کا روس کے ساتھ انرجی ڈیلز کو حتمی شکل دینا اور چین کی کرنسی یوآن کا استعمال ضروری ہو چکا ہے اس کے ساتھ ملک میں توانائی حاصل کرنے کے جتنے ذرائع ہیں ان میں ڈیمز کی تعمیر میں تیزی اور ان سے بجلی کا حصول، سولر انرجی، ونڈ انرجی اور دیگر ذرائع میں سرمایہ کاری کو بڑھایا جائے تاکہ زیادہ توانائی کا حصول ممکن ہو سکے۔

بصورت دیگر جب تک ایران امریکا کے درمیان اسرائیل کی مداخلت جاری رہے گی آبنائے ہرمز پر خوف اور لرزہ طاری رہے گا، امن کا مستقل حل فی الحال آبنائے ہرمز سے ہوکر گزرتا ہے اور یہ بحری راستہ اس وقت شدید کرب میں مبتلا ہے جس نے پاکستان جیسے کمزور معیشت والے ملک کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حکومت اس سلسلے میں فوری طور پر مستقل اور دیرپا حل تلاش کرے تاکہ عوام کو جینے کا موقع ملے۔ مہنگائی کا جن کسی طرح بوتل میں بند کیا جاسکے، تیل کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو معیشت کا کیا بنے گا، کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

Load Next Story