بنگلہ دیشی مسلمان نشانے پر…

عدم تشدد اور ہمدردی کا درس دینے والا گاندھی کا دیس انتہا پسندوں کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے ارضی دوزخ گاہ بن چکا

رئیس الاسلام بھارت کی ریاست، مغربی بنگال کے ضلع شمال پرگنہ میں پڑوسی ملک ،بنگلہ دیش کی سرحد کے ساتھ واقع گاؤں حکیم پور میں ایک چوکی کے قریب جھلسا دینے والی دھوپ میں کھڑے ہیں۔

ان کی اہلیہ ربیکا خاتون (36 سال) اور دو بیٹے، ریاض (14 سال) اور زبیر (16 سال) قریب ہی کچی اینٹوں اور سیمنٹ سے بنی ایک نامکمل عمارت میں بیٹھے ہیں۔ شدید گرمی ، حبس اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی نے اس تنگ و تاریک انتظار گاہ کو بھٹی میں تبدیل کر دیا ہے۔

عمارت میں ٹھنسے ہوئے لوگ بنگلہ دیش سے آئے مسلم تارکین وطن ہیں جنہیں ریاستی حکومت نے ’’غیر قانونی درانداز‘‘ قرار دیا ۔ انہیں ’’تلاش کرو، خارج کرو اور ملک بدر کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت اس سرحدی گاؤں لایا گیا۔ یہ مہم وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو اکثریتی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت میں بنی نئی ریاستی حکومت نے شروع کی ہے ۔

بھارت بنگلہ دیش کے ساتھ 4096 کلومیٹر (2545 میل) طویل زمینی سرحد رکھتا ہے ، دنیا کی پانچویں طویل ترین سرحد ۔ بنگلہ دیش مسلم اکثریتی ملک ہے جس کے بھارت کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی روابط ہیں، بشمول ایک مشترکہ زبان جو سرحد کے دونوں طرف کروڑوں مسلمان اور ہندو بولتے ہیں۔ اس کے علاوہ موجودہ بنگلہ دیش اور مغربی بنگال، آسام اور دیگر بھارتی ریاستوں کے درمیان بنیادی طور پر غریب مزدوروں کی ہجرت صدیوں پرانی تاریخ رکھتی ہے۔

لیکن تقریباً 10 کروڑ کی آبادی والی ریاست مغربی بنگال میں اپنی شاندار جیت کے بعد بی جے پی حکومت نے غیر دستاویزی مسلم تارکین وطن کا سراغ لگانے کے لیے کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا۔ جبکہ انھیں حراست میں لینے اور بالآخر بنگلہ دیش واپس بھیجنے کے لیے ’’ہولڈنگ سینٹرز‘‘ (حراستی مراکز) کی تعمیر کا بھی اعلان کیا۔

اس مہم نے نہ صرف بنگلہ دیشی تارکین وطن بلکہ مغربی بنگال کے سبھی مسلمانوں میں یہ خوف و ہراس پھیلا دیا کہ وہ بھی اس مہم کا شکار ہو سکتے ہیں۔ حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ مہم جتنی نشانہ بننے والوں کی قانونی حیثیت پر مبنی ہے، اتنی ہی ان کی مذہبی شناخت سے بھی متاثر ہے۔ریاست میں آباد مسلمانوں کو یقین ہے، ان کے پاس کاغذات پورے ہوں ، تب بھی کسی نہ کسی الزام کے تحت خصوصاً بی جے پی مخالف مسلم راہنماؤں کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

 2025 ء کے موسم گرما میں بھی پڑوسی ریاست آسام میں جہاں مودی کی بی جے پی حکومت ہے ، بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں نے درجنوں بھارتی مسلمانوں پر غیر قانونی تارکین وطن ہونے کا الزام لگا کر انہیں زبردستی سرحد پار بنگلہ دیش بھیج دیا تھا۔ بنگلہ دیش نے انہیں واپس کر دیا جس سے وہ عارضی طور پر ’’نو مینز لینڈ ‘‘ میں پھنس کر رہ گئے۔ بالآخر انہیں دوبارہ بھارت میں داخل ہونے کی اجازت تو مل گئی لیکن انہیں اس کٹھن آزمائش پر کبھی کوئی وضاحت نہیں دی گئی، انصاف ملنا تو دور کی بات ہے۔اب ایک سال بعد یہ خوف بڑھ رہا ہے کہ مغربی بنگال میں بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔

 بہتر روزگار کی تلاش

حکیم پور بارڈر چیک پوسٹ پر موجود اکثر لوگوں کی طرح 38 سالہ رئیس الاسلام بہتر روزگار کی تلاش میں بھارت آئے تھے ۔ان کا تعلق بنگلہ دیش کے ڈویژن کھلنا کے ضلع ستکھیرا سے ہے۔بتاتے ہیں’’میں دو سال پہلے اپنی بیوی کے علاج کرانے یہاں آیا جو جلد کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ لیکن بنگلہ دیش کی نسبت یہاں بہتر اجرت ملنے کے بعد ہم نے یہیں بسنے کا فیصلہ کر لیا۔‘‘

اسلام نے بتایا کہ انہوں نے ایک ایجنٹ (دلال) کو تقریباً 250 ڈالر ادا کیے جو اُن کے لیے ایک خطیر رقم تھی۔اس نے پھر ان کے اور خاندان کے لیے سرحد پار کرنے کا انتظام کیا۔ وہ ریاستی دارالحکومت کولکتہ پہنچے تو شہر کے مضافات میں ایک کمرہ کرائے پر لیا۔ یہ میاں بیوی راج مستری (مزدور) کے طور پر کام کرتے اور مل کر دن میں تقریباً 10 ڈالر کما لیتے ۔

مذہبی تفریق

لیکن پچھلے مہینے کے آخر میں ان کی زندگی بدل گئی، جب مغربی بنگال کے نو منتخب وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے غیر دستاویزی بنگلہ دیشی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔ یہ مشق ان کی پارٹی، بی جے پی گزشتہ دہائی میں پہلے ہی کئی ریاستوں میں انجام دے چکی۔تاہم ادھیکاری کی اس دھمکی کے ساتھ ایک شرط بھی لگی تھی… اس بے دخلی مہم میں صرف مسلم بنگلہ دیشیوں کو نشانہ بنایا جائے گا، جبکہ ہندوؤں اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو ایک متنازع آئینی ترمیم کے تحت مستثنیٰ قرار دیا گیا۔یوں پناہ گزینوں کے لیے پہلی بار ایک مذہبی امتحان عائد کر دیا گیا۔

وزیر اعلی بنگال ٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ حکام حراست میں لیے گئے افراد کو ملک بدر کرنے سے پہلے عدالت لے جانے کی زحمت نہیں کریں گے۔ دسمبر 2025 ء میں بھارت سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ غیر ملکی شہریوں کو بھارتی آئین کے تحت تقریباً کوئی حقوق حاصل نہیں ۔ عملی طور پر مغربی بنگال حکومت کے اس طریقہ کار کے تحت اب یہ ثابت کرنے کی ذمے داری خود ملک بدر کیے جانے والے افراد پر عائد ہوتی ہے کہ انہیں بنگلہ دیش کیوں نہ بھیجا جائے۔

نتیجتاً گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پورے مغربی بنگال سے ہزاروں لوگوں کو حراست میں لے کر انہیں یا تو حراستی مراکز بھیجا یا پھر سیکیورٹی فورسز کے ذریعے سرحد پر لا کر بنگلہ دیش کی طرف ’’دھکیل‘‘ دیا گیا۔اسلام کہتے ہیں، انہوں نے حکام کے اپنے خاندان تک پہنچنے کا انتظار نہیں کیا۔ ’’ہم نے رضاکارانہ طور پر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ہمیں خوف تھا ، غیر قانونی طور پر آباد تارکین وطن ہونے سے مقامی لوگ اور پولیس ہمیں ہراساں کریں گے۔‘‘

حکیم پور بارڈر پوسٹ پر جمع کئی تارکین وطن نے بھی بنگلہ دیش میں معاشی تنگی کی ایسی ہی کہانیاں سنائیں جس نے انہیں ایجنٹوں کی خدمات حاصل کرنے اور سرحد پار کرنے پر مجبور کر دیا۔بہت سے لوگوں کے پاس قانونی دستاویزات نہیں تھیں۔42 سالہ معراج الغازی کہتے ہیں، وہ اپنی بیوی سبرینا یاسمین (36 سال) اور بیٹے نعیم (18 سال) کے ساتھ پانچ سال قبل بہتر مواقع کی تلاش میں بھارت داخل ہوئے ۔ میاں بیوی کولکتہ میں بطور تعمیراتی مزدور کام کرتے اور دن میں تقریباً 12 ڈالر کما لیتے۔اب حکومتی کریک ڈاؤن نے انہیں وطن واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا۔غازی کا کہنا ہے ’’پچھلے پانچ سال کے دوران ہمیں کبھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ لیکن جب نئی حکومت اقتدار میں آئی تو مکان مالک نے ہمیں جگہ خالی کرنے کا کہہ دیا۔ ہم نے مقامی لوگوں کے حملوں کے خوف سے واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا۔‘‘

کولکتہ سے تقریباً 80 کلومیٹر (50 میل) کے فاصلے پر واقع حکیم پور اور مغربی بنگال کے دیگر سرحدی چوکیاں مئی کے آخر سے بنگلہ دیشی تارکین وطن کی مستقل آمد کی گواہ بنی ہوئی ہیں۔حکیم پور میں تعینات ایک پولیس افسر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہتا ہے، روزانہ تقریباً 250 سے 300 غیر دستاویزی پناہ گزین اور تارکین وطن اس چیک پوسٹ پر پہنچ رہے ہیں۔ اب تک 4,800 بنگلہ دیشی دراندازوں کو ملک بدر کیا جا چکا۔

ڈھاکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات میں تناؤ

نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان تاریخی طور پر مضبوط تعلقات کو 2024 ء میں اس وقت دھچکا لگا تھا جب بنگلہ دیش میں نوجوانوں کی زیر قیادت آنے والے ایک انقلاب نے وزیر اعظم شیخ حسینہ کے طویل اور آمرانہ دورِ حکومت کا خاتمہ کر دیا۔وہ بھارت کی گہری حلیف تھیں۔اُس پُرتشدد بغاوت نے شیخ حسینہ کو بھارتی دارالحکومت میں جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔بعد ازاں شیخ حسینہ مقدمات میں انسانیت کے خلاف جرائم کی مرتکب قرار پائیں۔ اُن کی حوالگی کے لیے ڈھاکہ کی بار بار کی گئی درخواستوں کو نئی دہلی نے نظر انداز کر دیا جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔ اس سال کے شروع میں بنگلہ دیش میں حسینہ مخالف اتحاد کی قیادت میں ایک نئی حکومت تشکیل پائی جو تناؤ کا شکار تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

لیکن مغربی بنگال کے کریک ڈاؤن نے پڑوسیوں کے درمیان نئے سفارتی تناؤ کو جنم دے دیا ۔ ڈھاکہ نے غیر دستاویزی تارکین وطن کی شہریت کی تصدیق کے لیے قائم کردہ طریقہ کار پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بنگلہ دیش کی مشیرِ خارجہ، شمع عبید نے ڈھاکہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ انہوں نے یہ مسئلہ حل کرنے کی خاطر ’’نئی دہلی کو بارہ تیرہ خطوط" بھیجے ہیں۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ’’ایک باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے جس پر بھارتی حکام کو عمل کرنا چاہیے۔‘‘ بنگلہ دیشی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن دونوں ممالک کے درمیان تعلقات متاثر کر سکتا ہے۔

بارڈر گارڈ بنگلہ دیش نے بھی کہا کہ اس نے 4 جون سے اب تک بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس کی جانب سے لگ بھگ 180 تارکین وطن کو زبردستی بنگلہ دیش دھکیلنے کی کم از کم اٹھارہ کوششیں ناکام بنائی ہیں۔ بعد ازاں دونوں افواج نے مغربی بنگال سے ملک بدری کے معاملے پر تین روزہ مذاکرات کا آغاز کیا۔

بنگلہ دیشی تارکین وطن کو بھارت کی جانب سے’’غیر قانونی طور پر دھکیلنے‘‘ پہ ڈھاکہ ماضی و حال میں بھارتی حکومت پر تنقید کرتا رہا ہے۔ جواب دیتے ہوئے بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے ہی ایک ’’دو طرفہ طریقہ کار‘‘ موجود ہے۔ ’’بھارت میں موجود تمام غیر ملکی شہری اگر وہ یہاں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں بشمول بنگلہ دیش کے تو ہمارے پاس ان سے نمٹنے کے لیے قوانین موجود ہیں اور ان کے ساتھ اسی کے مطابق نمٹا جائے گا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’ ہی ہم یہ کیسز بنگلہ دیشی فریق کو بھیجتے ہیں تاکہ وہ ان لوگوں کی شہریت کی تصدیق کر سکیں۔ اور ایک بار جب اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ہم ملک بدری کے عمل آگے بڑھاتے ہیں۔‘‘جیسوال نے کہا ، نئی دہلی نے ایسی کئی درخواستیں بھیجی ہیں جو بنگلہ دیشی فریق کے پاس ابھی تک زیرِ التوا ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی وزارتِ خارجہ نے شہریت کی تصدیق کے لیے 2800 سے زائد مشتبہ بنگلہ دیشیوں کی تفصیلات ڈھاکہ کے ساتھ شیئر کی ہیں۔

مکمل طور پر غیر اخلاقی

دریں اثنا انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت کے اس اقدام کو ’’مکمل طور پر غیر اخلاقی‘‘ قرار دیا ہے۔عالمی غیر منافع بخش تنظیم،ہیومن رائٹس واچ کی ایشیا ڈائریکٹر، ایلین پیئرسن کا کہنا ہے کہ وہ مغربی بنگال کی موجودہ صورتحال پر ’’شدید فکر مند‘‘ ہیں۔انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا’’حتیٰ کہ درست دستاویزات کے بغیر حراست میں لیے گئے افراد کو بھی قانونی نمائندگی (وکیل) کا حق دیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی بھارتی شہری کو غلطی سے ملک سے باہر نہ نکالا جائے۔‘‘ انہوں نے ان ملک بدریوں کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا۔

 ملک بدری سے مذہبی تناؤ میں اضافہ

بنیادی طور پر مسلم بنگلہ دیشی تارکین وطن کی ملک بدری سے مغربی بنگال میں مذہبی تناؤ بھی بڑھ رہا ہے۔یہ ریاست میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے پیدا ہوا اور جہاں کی 27 فیصد آبادی مسلمان ہے۔بی جے پی دہائیوں سے بنگلہ دیشی تارکین وطن کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ مودی کے قریب ترین ساتھی اور وفاقی وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے آسام میں ایک انتخابی ریلی کے دوران انہیں ’’دیمک‘‘ قرار دیا تھا۔ آسام ایک اور بی جے پی کی حکومت والی سرحدی ریاست ہے جہاں لاکھوں بنگالی نژاد مسلمان آباد اوراسی طرح کے کریک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں۔

اگرچہ بھارت تبت کے ہزاروں بدھسٹ پناہ گزینوں اور سری لنکا کے تامل پناہ گزینوں کا مسکن ہے لیکن بی جے پی نے مستقل طور پر صرف مسلم تارکین وطن یعنی بنگلہ دیشیوں اور روہنگیا کو ان کے مذہب کی وجہ سے نشانہ بنایا ۔ 2017 ء میں میانمار کی فوج کی نسل کشی مہم کے بعد 7 لاکھ سے زیادہ مسلم روہنگیا پناہ گزین وہاں سے فرار ہوئے۔ان کی بھاری اکثریت نے جنوبی بنگلہ دیش کے ضلع کاکس بازار میں پناہ لی جبکہ چھوٹی سی تعداد نئی دہلی سمیت کئی بھارتی شہروں میں بس گئی۔

بی جے پی کی جانب سے بنگلہ دیشی اور روہنگیا تارکین وطن کو نشانہ بنانا پارٹی کی اُس وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت کے بیس تا پچیس کروڑ مسلمانوں کو حاشیے پر دھکیلنا اور انہیں ہراساں کرنا ہے تاکہ آئینی طور پر سیکولر ملک کو ایک خالص ہندو ریاست میں تبدیل کیا جا سکے۔انسانی حقوق کی بھارتی کارکن، تیستا سیتلواد کہتی ہیں’’ بھارتی حکام ایک مخصوص برادری کے خلاف پہلے سے طے شدہ ایجنڈے اور بیانیے پر عمل کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ غیر دستاویزی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے خود اپنی ہی ہدایات (گائیڈ لائنز) پر عمل نہیں کر رہی ۔ ’’افسوس کی بات یہ کہ پولیس اہلکار لوگوں کو بلاامتیاز اٹھا ، ا حراستی مراکز میں ڈال رہے اور انہیں اِس طرح واپس دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے وہ کوئی سامان یا شے ہوں۔ ہمیں ڈر ہے لوگوں کو ہولڈنگ سینٹرز میں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا جائے گا۔‘‘

دریں اثنا حکیم پور میں جیسے ہی شام ڈھلتی ہے اور سورج ناریل کے اونچے درختوں کے پیچھے غائب ہونے لگتا ہے، رئیس الاسلام اپنے دونوں بیٹوں کے پاس کھڑے آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔کہتے ہیں ’’ہم نے بھارت میں پناہ صرف اپنے بچوں کو ایک اچھی زندگی دینے کے لیے لی تھی۔ ہمارا کوئی اور بُرا مقصد نہیں تھا۔ لیکن لوگوں کے ایک طبقے کی جانب سے مسلسل پیچھا اور ذلیل کیے جانے نے ہمیں ایک ایسے ملک سے تلخ یادوں کے ساتھ واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا جو سب کے لیے عدم تشدد اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔‘‘

Load Next Story