اکالی پھولا سنگھ اور گردوارہ نہنگ سنگھ

نوشہرہ کے شمال مشرقی علاقے پیر سباق میں دریائے کابل کے کنارے ایک پرانای یادگار موجود ہے جو ایک ایسے سکھ سردار کی ہے کہ امرتسر میں جس کا ڈنکا بجتا تھا۔

نوشہرہ کے شمال مشرقی علاقے پیر سباق میں دریائے کابل کے کنارے ایک پرانای یادگار موجود ہے جو ایک ایسے سکھ سردار کی ہے کہ امرتسر میں جس کا ڈنکا بجتا تھا۔

یہ اکالی پھولا سنگھ کی سمادھی یا یادگار ہے۔

اکالی پھولا سنگھ نہنگ کی پیدائش یکم جنوری 1761 کو بھارتی پنجاب کے ضلع سنگرور کے گاؤں ’سنہا‘ میں ایشر سنگھ کے ہاں ہوئی۔ بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہوگیا، جس کے بعد ’’مثل شہیداں‘‘ کے چھٹے جتھے دار بابا نارائن سنگھ جی (نینا سنگھ ) نے انہیں پالا۔ بابا جی نے انہیں جنگی اور علمی، دونوں طرح کے فنون کی تربیت دی اور انہیں ’گورو پنتھ خالصہ‘ یعنی خالصہ دربار کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔

 پھولا سنگھ ایک نہنگ سکھ راہ نما تھے جنہوں نے 19ویں صدی کے اوائل میں خالصہ شہیداں مثل کے جنگجو اور بڈھا دل کے سربراہ کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔

 نہنگ، سنت سپاہیوں کا وہ گروہ ہے جو گرو گوبند سنگھ جی نے خالصہ برادری کی خدمت و حفاظت کے لیے بنایا تھا۔ یہ اپنی جنگی مہارت اور بے باکی کے لیے اس حد تک مشہور تھے کہ بہت سے مؤرخین نے انہیں خودکش دستے کے نام سے یاد کیا ہے۔

انہیں نہنگ کیوں کہا جاتا ہے؟

 نہنگ فارسی زبان سے ماخوذ ہے جس کا مطلب مگرمچھ ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سکھ نہنگوں کے حملے اس قدر اچانک اور مہلک ہوتے تھے جیسے مگرمچھ کسی بے خبر جان دار پر کرتا ہے۔

عام طور پر نہنگ شادی نہیں کرتے۔ ان کا واحد مقصد خالصہ کا تحفظ کرنا اور اس کے لیے اپنی جان تک نچھاور کردینا ہوتا ہے۔ ان کی تربیت بھی اسی انداز سے کی جاتی ہے جیسے پھولا سنگھ کی کی گئی تھی۔

پھولا جب 18 برس کے ہوئے تو گوبند گڑھ کے قلعے چلے گئے، جہاں انہیں سکھ فوج کے جنگجو دستوں میں سے ایک کی سربراہی سونپی گئی۔ جب مہاراجا رنجیت سنگھ نے امرتسر کو خالصہ راج کا حصہ بنانے کا ارادہ کیا تو سب سے پہلے شہر کا محاصرہ کیا۔ جب اکالی پھولا سنگھ نے بھنگی مثل (جن کا اس وقت امرتسر پر قبضہ تھا) کی افواج کو اپنے ہی سکھ بھائیوں کا مقابلہ کرنے کی تیاری کرتے دیکھا، تو اپنے کچھ ساتھیوں سمیت خطرہ مول لے کر خود کو مخالف افواج کے درمیان کھڑا کردیا جہاں انہوں نے دونوں گروہوں کو ایک دوسرے کا خون بہانے سے روکا۔ بالآخر امن و مصالحت کا راستہ اختیار کیا گیا اور بھنگی سرداروں نے امرتسر میں اپنے اپنے حصے مہاراجا کے حوالے کر دیے۔

 اکالی پھولا سنگھ 3,000 نہنگوں کے ساتھ مہاراجا کی فوج میں شامل ہوگئے۔ اپنی گراں قدر خدمات کے صلے میں، انہیں 1807 میں اکال تخت کا جتھے دار مقرر کر دیا گیا۔

اس عہدے پر فائز ہوکر انہوں نے مہاراجا رنجیت سنگھ کی بھی بازپرس کی جب وہ ایک مسلم خاتون مائی موراں بیاہ لایا۔ اکال تخت کے جَتھے دار کی حیثیت سے، اکالی پھولا سنگھ نے اعلان کیا کہ مہاراجا رنجیت سنگھ اب سکھ نہیں رہے اور حکم دیا کہ مہاراجا اکال تخت کے سامنے سکھ سنگت (اجتماع) میں پیش ہوں (یہ روایت گرو ہرگوبند نے شروع کی تھی جس پر آج تک عمل کیا جاتا ہے)۔ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ طاقت ور مہاراجا نے اکالی پھولا سنگھ کے حکم نامے کی تعمیل کی اور رنجیت سنگھ نے تسلیم کیا کہ اس سے غلطی ہوئی ہے۔ اکال تخت نے اسے پچاس کوڑے مارنے کا حکم دیا۔ مہاراجا نے حکم مانا لیکن اکال تخت نے جب اس معاملے کو انگت کے سامنے رکھا تو انہوں نے مہاراجا کو معاف کردیا۔

رنجیت سنگھ نے تخت کو سونا بھی عطیہ کیا جس سے امرتسر کے مسلمان کاری گروں نے ہرمندر صاحب کے بالائی حصوں پر تانبے کی تہہ کو سونے کا ملمع چڑھایا۔ اسی وجہ سے امرتسر کے ہرمندر صاحب کو اب گولڈن ٹیمپل بھی کہا جاتا ہے۔

اکالی پھولا سنگھ اور ان کے دستوں نے مہاراجا کی جانب سے پنجاب بھر میں لڑی جانے والی مہمات، بشمول قصور اور ملتان کی لڑائیوں میں، اہم کردار ادا کیا۔ ملتان میں نہنگ جنگجو قلعے کی فصیل توڑنے کے لیے استعمال ہونے والی توپ کے ایک حصے کو سہارا دینے کی خاطر یکے بعد دیگرے جھکے اور جان دے دی۔ 1822 تک، ’سرکارِ خالصہ‘ کی تمام رجمنٹس کو یورپی افواج کی طرز پر جدید خطوط پر استوار کرلیا گیا تھا۔ اکالی پھولا سنگھ کو نئے ہتھیار فراہم کیے گئے اور انہیں سابق فرانسیسی جنرل وینچورا (جو نپولین کی جنگوں کے تجربہ کار سپہ سالار تھا) نے جنگی حکمتِ عملی کی جدید تربیت دی۔

 سال 1815 میں رنجیت سنگھ نے اپنی فتوحات کا رخ شمال مغربی سرحدی علاقوں (موجودہ خیبر پختونخواہ) کی جانب موڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کئی ریاستوں پر فوج کشی کرکے قبضہ کیا اور انہیں ’خالصہ سلطنت‘ کا باج گزار بنا لیا۔ صدیوں تک شمال مغرب کے قبائل پہاڑی علاقوں سے نکل کر پنجاب اور ہندوستان کو لوٹتے رہے تھے، لیکن یہ پہلا موقع تھا جب پنجاب سے کسی نے حملہ آوروں سے جنگ کی۔ جب 1823 میں پشاور کے گورنر نے مہاراجا رنجیت سنگھ کو طے شدہ خراج ادا نہ کیا تو اکالی پھولا سنگھ، جنرل ہری سنگھ نلوہ، فتح سنگھ اٹاری والا اور شہزادہ شیر سنگھ کی قیادت میں ’سرکارِ خالصہ‘ کی افواج پشاور کی جانب بڑھیں۔

 1823 عیسوی میں افغان فوجوں، یوسف زئی، خٹک اور آفریدی پشتون قبائل کیخلاف نوشہرہ کی لڑائی لڑی گئی۔ 1823 کے اوائل میں شہزادہ شیر سنگھ اور ہری سنگھ نلوہ نے پیش قدمی کرنے والے دستوں کی قیادت کی۔ انہوں نے دریائے اٹک پر ایک عارضی تیرتا ہوا پل تعمیر کیا اور جہانگیرہ کے قلعے پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد رنجیت سنگھ نے پھولا سنگھ کے ہم راہ خالصہ فوج کے باقی ماندہ دستوں کی قیادت کرتے ہوئے دریائے اٹک کے مشرقی کنارے تک پیش قدمی کی۔ اس وقت تک پشتون قبائل عارضی پل تباہ کرکے شیر سنگھ و ہری سنگھ کا جہانگیرہ کے قلعے میں محاصرہ کرچکے تھے۔ رنجیت سنگھ نے فوری طور پر دوبارہ دریا عبور کیا اور اپنی افواج کی مدد سے خٹک اور یوسف زئی قبائل کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔

یہ قبائل جہانگیرہ اور پشاور کے درمیان واقع میدانوں میں ’پیر سباق‘ نامی بلند جگہ پر مورچہ بند ہونے میں کام یاب ہوگئے جو نوشہرہ کے قریب ہے۔

سرکارِ خالصہ نے پیر سباق کی پہاڑی پر حملہ کیا۔ افغانوں کے مقابلے میں خالصہ فوج کی تعداد بہت کم تھی لیکن دونوں جانب سے بھرپور لڑائی لڑی گئی۔

اکالی پھولا سنگھ اور ان کے نہنگ دستے حتمی وار کرنے کے لیے آگے بڑھے اور انہوں نے خٹک اور یوسف زئی قبائل کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کئی افغانیوں کو مار ڈالا۔ قبائلی دستوں نے سخت مزاحمت کی لیکن سرکارِ خالصہ کے گورکھا اور مسلمان نجیب دستوں نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا۔

یہاں قبائل کی بہادری کا ذکر نا کرنا بھی نا انصافی ہوگی۔ جانفشانی سے لڑتے ہوئے ایک پٹھان سپاہی نے تاک کر اکالی پُھولا سنگھ پر قریب سے اس شدت کا وار کیا کہ سکھ جرنیل اس کی تاب ناں لاتے ہوئے موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

دوسری طرف محمد عظیم خان بھی پسپا ہو کر پشاور اور وہاں سے افغانستان چلا گیا۔ نوشہرہ کی جنگ میں پھولا سنگھ کی موت کی صورت خالصہ سرکار کو نہایت بھاری قیمت چکانی پڑی لیکن یہ جنگ ان کی جیت پہ ختم ہوئی۔

یہیں پیر سباق کے مقام پر ہی اکالی پھولا سنگھ کی سمادھی تعمیر کی گئی جس کے ساتھ اراضی کا ایک بڑا رقبہ منسلک تھا۔ یہ سکھوں، ہندوؤں اور پٹھانوں کے لیے زیارت کا ایک مقبول مقام تھا، خاص طور پر بیساکھی اور دسہرہ کے تہواروں کے دوران۔ یہاں قریب ہی گردوارہ نہنگ سنگھ بھی تعمیر کیا گیا۔ ہندوستان کی تقسیم تک نہنگ وہاں لنگر کی خدمت انجام دیتے رہے۔

پھولا سنگھ کی داستان کو ’’ڈھولا‘‘ کے ذریعے امر کردیا گیا جو پنجابی کی ایک ایسی زبانی رزمیہ داستان ہے جسے بیسویں صدی کے اواخر تک خطے کے جاٹ مغربی اترپردیش اور مشرقی راجستھان کے دیہات میں گایا کرتے تھے۔

اکالی پھولا سنگھ کی یادگار آج بھی دریائے کابل کے کنارے پیر سباق میں گردوارہ نہنگ سنگھ کے ساتھ موجود ہے۔

گردوارہ نہنگ سنگھ صاحب

دریائے کابل کے کنارے واقع گردوارہ نہنگ سنگھ نوشہرہ کینٹ کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ تاریخی مقام سکھ سلطنت اور خالصہ فوج کے مشہور جرنیل اکالی پھولا سنگھ سے منسوب ہے، جس نے 1823 کی نوشہرہ جنگ میں اپنی جان دی اور یہیں دفن ہوئے۔

یہ گردوارہ اور اس سے ملحقہ سمادھی ان سکھ جنگجوؤں کی یادگار ہیں جو مہاراجا رنجیت سنگھ کے دور میں دریائے کابل کے قریب ہونے والی لڑائیوں میں شریک تھے۔

سمادھی کے قریب پہلی عمارت نہنگ سنگھ کی رہائش گاہ ہے، درمیانی عمارت گوردوارہ نہنگ سنگھ ہے جبکہ دائیں جانب تیسری عمارت جنگی گھوڑوں کا اصطبل ہے۔ اسی وجہ سے اسے خیبر پختواہ میں نہنگ سنگھوں کی پہلی منظم اور سب سے بڑی چھاؤنی کہا جاتا ہے۔ یہ چھاؤنی خالصہ راج سے قبل اکالی پھولا سنگھ نہنگ نے قائم کی تھی۔

یہ سارا کمپلیکس اب ایک فیکٹری کی حدود میں واقع ہے، جہاں منتظمین کی اجازت لے کر جایا جاسکتا ہے۔ میں اپنے دوستوں شعیب، حذیفہ اور احسان صاحب کی معیت میں جب وہاں پہنچا تو مرکزی عمارت میں لمبی گھاس اگی تھی اور دیواریں شکستہ تھیں۔ ایک طرف گردوارہ صاحب کا مرکزی ہال تھا جہاں چار بڑے ستون دکھائی دیے جن کے بیچ گرو گرنتھ صاحب رکھی جاتی ہوگی۔ اس کے مشرق میں لنگر خانہ ہال تھا۔ یہاں ایک طرف ایک چبوترہ بنا نظر آیا جس پر شاید جھنڈا لگایا جاتا ہو۔ لنگر خانے کی یہ عمارت ایک وقت میں اسکول رہ چکا ہے جو 2010 کے سیلاب میں تباہ و برباد ہوگیا اور پھر کبھی آباد نہ ہوسکا۔

گردوارہ کمپلیکس کی یہ عمارت بھی کافی شکستہ ہے، اگر اس کی بحالی نہ کی گئی تو عنقریب یہ ختم ہوجائے گی۔ خیبرپختونخواہ کی حکومت اگر سکھ ٹوراِزم میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہے تو اسے بحال کرکے اچھا زرِمبادلہ کما سکتی ہے۔

حوالہ جات

٭  عمدۃ التواریخ، سوہن لال سوری

٭  ہسٹری آف سکھ، خشونت سنگھ

Load Next Story