آج کس کی جیت ہوگی اور کس کی ہار ؟

پہلے تو بعض کمزور دل لوگوں کا خیال تھا کہ آزاد جموں و کشمیر میں طے شدہ اوراعلان کردہ 27جولائی 2026ء کے انتخابات بروقت نہیں ہوں گے ۔

tanveer.qaisar@express.com.pk

پہلے تو بعض کمزور دل لوگوں کا خیال تھا کہ آزاد جموں و کشمیر میں طے شدہ اوراعلان کردہ 27جولائی 2026ء کے انتخابات بروقت نہیں ہوں گے ۔ اِس خدشے کی بڑی وجہ آزاد کشمیر میں کالعدم ’’جوائنٹ ایکشن عوامی کمیٹی‘‘ کا لایعنی و بے ثمراحتجاج ہے۔اِس خدشے کے باوجودآج 27جولائی کو آزاد کشمیر میں عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔

فرق بس یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے سارے انتخابات پہلے27جولائی ہی کو ہونے تھے، مگر اب یہ انتخابات تین مراحل میں ہونے جا رہے ہیں:27جولائی، 2اگست اور10اگست۔ حیرت کی بات ہے کہ چھوٹے سے آزاد کشمیر میں انتخابات تین مراحل میں کروانا چہ معنی دارد؟ کیا اِس فیصلے کے عقب میں بھی ایکشن کمیٹی کا احتجاج ہیے ؟یہ عجب اتفاق ہے کہ جس روزمیاں نواز شریف اور مریم نواز شریف نے مظفر آباد میں جلسہ کیا اور ووٹروں کے دل لبھانے کے لیے چند بڑے اعلانات کیے، اُسی روز مذکورہ تینوں انتخابی تاریخوں کا اعلان سامنے آیا۔

کشمیری انتخابات میں حسبِ دلخواہ فتح حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے پیپلز پارٹی کے چیئرمین، بلاول بھٹو زرداری، نے آزاد کشمیر(ڈڈیال) میں جلسہ کیا۔ اس جلسے میں( اور بعد ازاں ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہُوئے) موصوف نے نون لیگ اور ایک وفاقی نون لیگی وزیر بارے جو الزاماتی لہجہ اختیار کیا، نون لیگ کی جانب سے اِس کا فوری اور شدید ردِ عمل بھی آیا ہے ۔تین نون لیگی رہنماؤں ( رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق اور عظمیٰ بخاری)نے ترنت اور تلخ جواب دیئے ہیں۔

مظفر آباد اور میر پور میں ہونے والے نون لیگی جلسوں میں محترمہ مریم نواز اور جناب نواز شریف نے بھی ، بین السطور، کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ کے صوبائی وزیر، شرجیل میمن صاحب، نے بھی اپنے حریفوںکی تہمتی زبان کے برابر اُترنے کی مقدور بھر کوشش کی ہے ۔ آزاد کشمیرکے انتخابات میں نون لیگ اور پی پی پی میں جو یُدھ دیکھا جارہا ہے ،بعض جوانب سے کہا جارہا ہے کہ عوام اور کشمیری ووٹروں کے ساتھ نُورا کُشتی کی جارہی ہے۔ انتخابات کے بعد یہ دونوں پارٹیاں، پھر سے، شیرو شکر ہوجائیں گی، جیسا کہ ہم سب نے حالیہ جی بی الیکشن کے بعد دیکھا ہے ۔ اِس لفظی تصادم کو میاں نواز شریف نے میر پور کے جلسے میں یہ کہہ کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے :’’ سیاست و انتخابات میں ایسی نوک جھونک رہنی چاہیے ، مگر اِس میں تلخی کا عنصر نہیں گھلنا چاہیے ۔‘‘مگر تلخی سے مفر نہیں۔ عوام کے ووٹ اِسی ظاہری تلخی سے بٹورے جا سکتے ہیں ۔ پی پی پی کے وابستگان کا شکوہ سامنے آیا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز نے مظفر آباد اور میر پور میں ، ووٹ حاصل کرنے کے لیے، عوام کو جن مراعات دینے کا اعلان کیا ہے، یہ حکومتی اقتدارو اختیار کا بے جا استعمال ہے ۔حکومت تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی بھی ہے اور ہنوذ آزاد کشمیر میں بھی۔ وہ بھی، جواباً، آزاد کشمیر ی عوام کے لیے ویسی ہی سہولتوں(بسیں وغیرہ دینے) کا اعلان کر سکتے تھے جیسی نون لیگ کی جانب سے کی گئی ہیں، مگر پیپلز پارٹی بوجوہ ایسا قدم نہ اُٹھا سکی ۔

آج27جولائی کوآزاد کشمیر میں انتخابات ایسے ماحول میں ہو رہے ہیں جب گذشتہ ایک ہفتے کے دوران بلوچستان میں ہمارے50سے زائد جری عسکری جوان، دہشت گردوں کا جی داری سے مقابلہ کرتے ہُوئے، شہید ہو چکے ہیں۔مگر اِس خونریزی کے باوجود کشمیر میں انتخابات ہو رہے ہیں۔بقول الطاف حسین حالی: دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام/کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے! آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لیے ، کشمیر کے اندر، 33سیٹوں پر اور پاکستان بھر میں پھیلے مہاجر کشمیریوں کی12سیٹوں کے لیے انتخابات کا یُدھ پڑ رہا ہے ۔ 38لاکھ رجسٹرڈ کشمیری ووٹر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ آزاد کشمیر کی 24رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے 852اُمیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔ کامیابی مگر صرف 45اُمیدواروں کا مقدر بنے گی ۔ اچھی بات یہ سامنے آئی ہے کہ انتخابات سے ، دو روز قبل،آزاد کشمیر میں( جزوی طور پر) انٹر نیٹ کی سہولت بحال کر دی گئی ہے۔

اِس کے لیے بلاول بھٹو زرداری نے فیصلہ سازوں پر دباؤ بھی ڈالا تھا اور درخواست بھی کی تھی ۔نجانے دباؤ نے کام دکھایا ہے یا درخواست نے ۔ یہ بات مگر قابلِ ذکر ہے کہ آزاد کشمیر انتخابات جیتنے کے لیے نون لیگ نے عدداً زیادہ جلسے کیے ہیں ۔ نون لیگ نے18جولائی کو پنجاب کی صوبائی وزیر ( اور مریم نواز شریف کی معتمدِ خاص) مریم اورنگزیب کو بھی میدن میںاُتارا : گوجر خان کے جلسے میں۔ مگر مریم اورنگزیب کا گوجر خان میں خطاب پھیکا ساتھا ۔ سب لوگ استفسار کرتے بھی پائے گئے کہ نون لیگ نے آزاد کشمیر کے کسی شہر میں مریم اورنگزیب کا جلسہ رکھنے کی بجائے آخر گوجر خان کا انتخاب کیوں کیا؟

آج27جولائی2026ء کو آزاد کشمیر کے انتخابات تو ہو رہے ہیں ، مگر یہ انتخابات کالعدم ’’ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ‘‘(JAAC) کی شکست بھی ہے ۔ ایکشن کمیٹی کا خیال تھا کہ اِن انتخابات کو روک کر دُنیا اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر اپنی ’’دھاک‘‘ بٹھا لیں گے ۔ بسیار کوششوں ( نصف درجن افراد کی جانوں کے زیاں) کے بوجود JAACکا مبینہ ایجنڈا ناکامی و نامرادی ہی کا منہ دیکھ سکا ہے ۔آج کےJAK انتخابات برطانیہ میں بیٹھے اُن نام نہاد کشمیریوں کی شکست بھی ہے جو کسی کے اشارے پرJAACکی حمائت اور مبینہ طور پر مالی امداد بھی کرتے رہے ۔اِن لوگوں نے لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے سامنے پاکستان مخالف مظاہرے بھی کیے ۔ اِسے بد بختی ہی کہا جائے گا۔ اب یہ لوگ کس منہ سے پاکستانی پاسپورٹ پر پاکستان اور آزاد کشمیر میں آ جا سکیں گے؟ اُمید کی جاتی ہے کہ آج کے انتخابات کے بعد کالعدم ایکشن کمیٹی والے متعلقہ شخصیات اور اداروں سے مکالمے کی میز پر بیٹھیں گے ۔

آج کے انتخابات میں جیت سے ہمکنار ہونے کے لیے اگرچہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ایف) قیادت نے اتحاد کر لیا تھا، مگر اب اِس اتحاد کی کامیابی ڈانوا ڈول سی لگ رہی ہے ۔ اِس اتحاد کے ایک فریق، حضرت مولانا فضل الرحمن، نے اگلے روز قصور کے ایک عوامی جلسے میںبعض حساس پاکستانی اداروں اور شخصیات بارے جو دل آزار لہجہ اختیار کیا ، اِس کے خلاف ملک بھر میں شدید ردِ عمل آیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کی قیادت بھی مولانا موصوف کے بیانات کا دفاع نہیں کر سکی ۔

کہا جارہا ہے کہ مولانا صاحب موصوف کے متنازع بیانات کے کارن پی پی پی کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ، غالباً، کسی بڑے خسارے کو سہنا پڑسکتا ہے ۔ لیکن اِس کا یہ ہرگز مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ اِس منظر نے نون لیگ کے لیے ، آزاد کشمیرکے انتخابات میں، راستہ ہموار کر دیا ہے ۔ نون لیگ بھی ، لاریب، آزاد کشمیر میں ’’ہاٹ واٹرز‘‘ میں ہے ۔ نون لیگ اور پی پی پی، دونوں کے لیے، انتخابی میدان مارنا آسان کھیر نہیں ہے ۔خاص طور پر جب دونوں پارٹیاں آزاد کشمیر کے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے کوئی معاشی فارمولہ پیش کرنے سے قاصر رہی ہیں ۔

سب اِس بات پر بھی متفق ہیں کہ آج آزاد کشمیر میں انتخابات کا میدان ، دانستہ، چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف نے عقلمندی کا ثبوت نہیں دیا ۔ اگرچہ پی ٹی آئی کو ، واضح طور پر، آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی بڑے مسائل کا سامنا ہے ، مگر اِن سب مبینہ مسائل و مصائب کے باوصف پی ٹی آئی کو انتخابی میدان سے بھاگنا نہیں چاہیے تھا۔ پی ٹی آئی کے اِس ’’فرار‘‘ نے اُس کے اِس دعوے کو بھی بٹّہ لگایا ہے کہ ’’وہ پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول ترین پارٹی ہے ۔‘‘اِس مبینہ مقبول ترین پارٹی نے مگر پست ہمتی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اِسی پست ہمتی نے پی ٹی آئی کی انتخابی بیڑی GB کے انتخابات میں بھی، حال ہی میں، بُری طرح ڈبو دی تھی ۔پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں علامہ ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈرز بنا کر بھی اپنے پارٹی ارکان پر عدم اعتماد کا ثبوت دیا تھا ۔ اور یہ غلطی تھی۔ اب AJKانتخابات کا بائیکاٹ کر کے ایک اور غلطی دہرائی گئی ہے!پی ٹی آئی کے اِس مقاطعہ نے انڈین میڈیا کو پاکستان کے خلاف شرانگیزی کا موقع فراہم کیا ہے۔ اِس پر ہم سب انا للہ ہی پڑھ سکتے ہیں ۔

Load Next Story