کراچی میں بھتہ خوری کے واقعات میں اضافہ ہوا مگر اسٹریٹ کرائم کم ہوئے ہیں، کراچی پولیس چیف

گزشتہ 6 ماہ میں جرائم کی شرح میں 15فیصد کی کمی واقع ہوئی، شہر کے حوالے سے منفی بات پر دل دکھتا ہے، آزاد خان

فوٹو- فائل

کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا ہے کہ گزشتہ دو ہفتے کے دوران بھتہ خوری کی لہر میں تیزی آئی ہے، بیرون ملک بیٹھے گینگسٹرز بھتے کا نیٹ ورک چلارہے ہیں۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کراچی پولیس چیف نے کہا کہ شہر میں بھتہ خوری میں ملوث 5 گینگسٹرز کے ریڈ وارنٹ بھی جاری ہوچکے ہیں جس کے بعد انہوں نے اپنی سرگرمیاں محدود کردی ہیں اور ہم ان کی مشکلات میں اضافے کے اقدامات کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صمد کاٹھیا واڑی گروپ کے خلاف حال ہی میں مؤثر کریک ڈاؤن کیا ہے، جن ممالک میں بھتہ خور موجود ہیں ان کے نمبرز اور دیگر تفصیلات متعلقہ ممالک کو فراہم کردی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تجاوزات صنعت کاروں کی زندگی، صنعتی علاقوں میں آنے والے غیرملکیوں پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، تجاوزات کے خاتمے کیلئے ایک پلان مرتب کرلیا ہے، تجاوزات کا مسلہ انتظامی ہے جبکہ انفورسمنٹ کا کردار پولیس کا ہے۔

کراچی پولیس چیف نے کہا کہ اینٹی انکروچمنٹ پلان کمشنر، مئیر کراچی کا مشترکہ ہے جس پر پولیس انفورسمنٹ کرے گی، جلد ہی مجوزہ اینٹی انکروچمنٹ کے پلان پر عمل درآمد شروع ہوجائے گا۔

ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ کراچی کی سیکیورٹی پورے ملک کی سیکورٹی ہے، امن و تحفظ ہوگا تو صنعت چلے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال محکمہ پولیس کوئی پروکیورمنٹ نہیں کرسکے گا اور نئی گاڑیاں بھی نہیں لے سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ نہ ہونے کے باوجود پولیس قیام امن اور جرائم کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرے گی۔ اس وقت ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔ تھریڈز اب بھی موجود ہیں لیکن پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے متحرک ہیں۔ اسٹریٹ کرائم پر قابو پانا پولیس کے لیے ایک چیلنج ہے۔ تاہم گزشتہ 6 ماہ میں جرائم کی شرح میں 15فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

آزاد خان نے کہا کہ صنعت کاروں کے ساتھ اجلاس ہمیشہ سودمند ہوتے ہیں۔ کراچی کی اکنامک سیکیورٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ معیشت کمزور ہوتی ہے تو بے روزگاری اور جرائم بڑھتے ہیں۔ جب کراچی شہر کے حوالے سے منفی بات کی جاتی ہے تو دل دکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس شہر کے اچھے حالات دیکھے ہیں اور صنعتکار مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں۔ بڑے جرائم کی نشاندہی کی شرح 80 فیصد ہے جو کیمروں کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔

کراچی پولیس چیف نے کہا کہ ڈاکٹر آکاش قتل کیس ٹیکنالوجی کی مدد سے جلد حل کیا گیا۔ آزاد خان نے کہا کہ کراچی میں آخری بڑا ناخوشگوار واقعہ اکتوبر 2024 میں ہوا۔ 2025 الحمدللہ خیریت سے گزرا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کو خود برا کہنے سے ہمارا اپنا نقصان ہوتا ہے، اس لیے پروجیکشن کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرحمن فدا، زبیر موتی والا جاوید بلوانی، سلیم پاریکھ ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

Load Next Story