کراچی: جناح اسپتال کی او پی ڈی میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی کیلیے اے آئی چیٹ بوٹ متعارف
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کے سائبر نائف ڈپارٹمنٹ کی او پی ڈی میں مریضوں کو جدید اور تیز رفتار طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید اے آئی چیٹ بوٹ متعارف کرا دیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد اوپی ڈی میں مریضوں کے طویل انتظار کا خاتمہ، ابتدائی معائنے کے عمل کو مؤثر بنانا اور ڈاکٹروں تک مریض کی مکمل معلومات بروقت پہنچانا ہے۔
ماہر ریڈی ایشن آنکولوجسٹ ڈاکٹر فاطمہ نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ اس نئے نظام کے تحت اوپی ڈی میں آنے والے مریضوں کو پہلے کی طرح گھنٹوں قطاروں میں انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
مریض استقبالیہ (ریسپشن) سے رجوع کرنے کے بعد براہِ راست اے آئی چیٹ بوٹ کے پاس جائیں گے جہاں چیٹ بوٹ ان سے ان کی مادری زبان میں گفتگو کرے گا اور مرحلہ وار ان کا نام، عمر، بیماری کی نوعیت، علامات، طبی شکایات اور صحت سے متعلق دیگر اہم معلومات حاصل کرے گا۔اے آئی چیٹ بوٹ مریض سے اس وقت تک سوالات کرتا رہے گا جب تک وہ مریض کی بیماری، علامات اور شکایات کو مکمل طور پر سمجھ نہ لے۔
اس دوران مریض کسی بھی سوال کو جتنی بار چاہے دہرا سکتا ہے، کیونکہ اکثر مریض وقت کی کمی، جھجک یا دیگر وجوہات کی بنا پر ڈاکٹر سے بار بار سوال پوچھنے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ چیٹ بوٹ انہیں اطمینان کے ساتھ اپنی بات مکمل کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
گفتگو مکمل ہونے کے بعد چیٹ بوٹ مریض کی ایک جامع ڈیجیٹل رپورٹ تیار کرے گا، جس میں مریض کی تمام طبی معلومات، علامات اور ابتدائی تشخیص شامل ہوگی۔ یہ رپورٹ خودکار طریقے سے متعلقہ شعبے کے مستند پروفیسر یا ماہر ڈاکٹر کو ارسال کر دی جائے گی، تاکہ ڈاکٹر مریض کی کیفیت سے پہلے ہی آگاہ ہو اور معائنے کے دوران بہتر اور مؤثر علاج فراہم کیا جا سکے۔
ابتدائی مرحلے میں چار خصوصی اے آئی رومز قائم کیے گئے ہیں، جہاں روزانہ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک اوپی ڈی کے مریضوں کو یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ جبکہ اس منصوبے کو مستقبل میں 24 گھنٹے فعال کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے تاکہ مریض کسی بھی وقت اس جدید سہولت سے استفادہ کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ نظام نہ صرف اوپی ڈی میں مریضوں کا انتظار کم کرے گا بلکہ طبی عملے پر دباؤ میں بھی نمایاں کمی لائے گا، جبکہ مریضوں کو زیادہ منظم، تیز رفتار اور معیاری طبی خدمات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ تاہم جناح اسپتال کا یہ اقدام پاکستان کے سرکاری اسپتالوں میں ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔