بچے جنک فوڈ کے عادی ہو رہے ہیں؟ انہیں صحت مند غذا کی طرف کیسے راغب کریں

جنک فوڈ کا زیادہ استعمال موٹاپا، غذائی کمی، کمزور قوتِ مدافعت اور دیگر صحت کے مسائل کا باعث ہے

آج کے دور میں فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات اور پیک شدہ اسنیکس بچوں کی روزمرہ خوراک کا حصہ بنتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں موٹاپا، غذائی کمی، کمزور قوتِ مدافعت اور دیگر صحت کے مسائل میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ بچوں کو جنک فوڈ سے مکمل طور پر روکنے کے بجائے انہیں آہستہ آہستہ صحت مند غذاؤں کی طرف راغب کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی شروعات والدین کو خود سے کرنی چاہیے۔ بچے اپنے والدین کی عادات کو جلد اپناتے ہیں، اس لیے اگر گھر میں بڑے افراد متوازن غذا کھائیں، تازہ پھل، سبزیاں اور گھریلو کھانے کو ترجیح دیں اور بار بار فاسٹ فوڈ کھانے سے گریز کریں تو بچے بھی اسی طرزِ زندگی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

غذائیت کے ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کو صرف منع کرنے کے بجائے انہیں یہ سمجھایا جائے کہ صحت بخش خوراک ان کی نشوونما، جسمانی طاقت، پڑھائی میں توجہ اور کھیل کود کی صلاحیت کے لیے کیوں ضروری ہے۔ انہیں خریداری کے دوران ساتھ لے جانا، پھل اور سبزیاں منتخب کرنے دینا یا کھانا تیار کرنے میں شامل کرنا بھی ان کی دلچسپی بڑھانے کا مؤثر طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔

گھر میں ہمیشہ غذائیت سے بھرپور اسنیکس دستیاب رکھنا بھی ایک اہم قدم ہے۔ اگر بچے کو بھوک لگے تو اس کی پہنچ میں تازہ پھل، دہی، دودھ، میوے، سلاد، ابلا ہوا مکئی یا صحت بخش سینڈوچ موجود ہوں، تاکہ وہ چپس، بسکٹ یا کولڈ ڈرنکس کی طرف کم مائل ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند متبادل آسانی سے دستیاب ہوں تو بچوں کی خوراک میں مثبت تبدیلی لانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ جنک فوڈ کو مکمل طور پر ممنوع قرار دینے کے بجائے اس کا استعمال محدود رکھا جائے۔ اگر گھر میں ہر وقت فاسٹ فوڈ، چاکلیٹس اور میٹھے مشروبات موجود ہوں گے تو بچوں کے لیے ان سے دور رہنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ایسے کھانے صرف کبھی کبھار اور محدود مقدار میں دیے جائیں، جبکہ روزمرہ خوراک میں گھریلو اور متوازن غذائیں شامل ہوں۔

صحت مند زندگی کے لیے جسمانی سرگرمی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی متوازن غذا۔ ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کا اسکرین ٹائم محدود کریں اور انہیں روزانہ کھیل کود، سائیکل چلانے، چہل قدمی یا دیگر جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیں۔ اس سے نہ صرف ان کی جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ غیر ضروری کھانے کی عادت بھی کم ہونے لگتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر والدین صبر، مستقل مزاجی اور مثبت رویے کے ساتھ بچوں کی خوراک میں تبدیلی لائیں تو آہستہ آہستہ وہ صحت مند کھانوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں، جس کے اثرات ان کی مجموعی صحت اور مستقبل دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

Load Next Story