متنازع بیانات
m_saeedarain@hotmail.com
یہ اب تک واضح نہیں کہ فروری 2024 کے الیکشن سے ہونے والی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومت سازی کے باہمی فیصلے میں ڈھائی ڈھائی سال اقتدار میں رہنے کا طے کیا گیا تھا یا نہیں ۔ ویسے ایسا ممکن بھی نہیں کہ (ن) لیگ کے وزیر اعظم ڈھائی سال بعد حکومت اور پی پی کے صدر مملکت اپنی صدارت چھوڑ دیں گے۔ اگر ایسا کوئی معاہدہ ہوتا تو دونوں طرف سے وضاحت آچکی ہوتی۔ ویسے بھی ایسا یہ خلاف عقل بات ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت پہلے ڈھائی سالوں میں معیشت ٹھیک کرنے میں لگی رہے اور جب معیشت بہتر ہوجائے تو اچھی معیشت کے بعد اقتدار پیپلز پارٹی کے حوالے کر دے ۔
اس طرح وہی مثال صادق آتی کہ دکھ جھیلے بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں۔ (ن) لیگی حکومت مہنگائی بڑھا کر عوام میں ہدف تنقید بنی ہے جب کہ ملک کے چار اہم آئینی عہدے اور تین صوبائی حکومتیں لے کر حکومتی حلیف پیپلز پارٹی دعویٰ کرے کہ وہ حکومت میں نہیں ہے اور اپنی اتحادی حکومت کے خلاف بیان بازی بھی جاری رکھے اور 5 سال حکومتی مزے لینے کے بعد حسب سابق الیکشن میں ساری برائیوں کی ذمے دار مسلم لیگ (ن) کو قرار دے کر (ن) لیگ کی مخالفت میں انتخابی مہم چلائے اور (ن) لیگی قیادت پر ملک تباہ کرنے کے الزامات لگا کر نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کو مطعون کرکے خود بری الذمہ بننے کی کوشش کرے۔ یہ سو فی صد ممکن ہے کیونکہ بلاول بھٹو کی پالیسی 2024 کے الیکشن میں یہی تھی اور وہ کوئی لحاظ کیے بغیر 16 ماہ کے اقتدار میں رہ کر ایسا کر چکے ہیں اور اب بھی یہی ہونا ہے۔
(ن) لیگی حکومت نے عوام کی تنقید برداشت کی ہے ، اگر ملکی معیشت بہتر ہوئی تو ممکن ہے کہ (ن) لیگی حکومت عوام میں اپنی مقبولیت بہتر کرنے میں کامیاب ہوجائے۔ پی پی چیئرمین بلاول بھٹو جنھیں صدر زرداری کسی نہ کسی طرح وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں جس کے لیے وہ بالاتروں کی مخالفت کبھی نہیں کریں گے اور آیندہ الیکشن میں اگر پی پی مطلوبہ نشستیں حاصل نہ بھی کر سکی تو آیندہ حکومت سازی میں مسلم لیگ (ن) کی بجائے پی ٹی آئی سے انتخابی معاہدہ یا اقتدار کے لیے اتحاد کو ترجیح دیں گے اور اسی لیے پی ٹی آئی کے خلاف پیپلز پارٹی نے نرم رویہ اختیار کر رکھا ہے جس کا ایک ثبوت کے پی میں پی پی کے گورنر کا مفاہمانہ کردار ہے جب کہ اس سے قبل صدر زرداری اپنی حکومت میں پنجاب میں گورنر راج لگا کر مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت اور 2017 میں بلوچستان میں بھی (ن) لیگی حکومت ختم کرا چکے ہیں۔
صدر زرداری مسلم لیگ (ن) سے مل کر دوبارہ صدر منتخب ہوئے تھے اور (ن) لیگی حکومت بھی اسی مفاہمت میں بنی تھی جس کے پاس اکثریت نہیں تھی مگر اب اس کے پاس دو تہائی نہیں، حکومت برقرار رکھنے کی اکثریت ہے جس کو پیپلز پارٹی ختم نہیں کرا سکتی اور نہ (ن) لیگ صدر زرداری کو ہٹانے کی پوزیشن میں ہے ۔ پی پی رہنما پنجاب کی (ن) لیگی حکومت سے بھی سخت ناراض ہیں ۔حالیہ بارشوں کو بنیاد بنا کر پی پی رہنما ندیم افضل چن نے پنجاب کی حکومت پر غیر حقیقی تنقید کی ہے۔
پیپلز پارٹی نے (ن) لیگ کو دباؤ میں لا کر پہلے بلوچستان کی اور اب جی بی کی حکومت حاصل کی اور اب پی پی کے چیئرمین آزاد کشمیر کا اپنا اقتدار برقرار رکھنا چاہتے ہیں جہاں جی بی کے برعکس نواز شریف اور مریم نواز خود انتخابی مہم چلا رہے ہیں جس سے بلاول زرداری نہ خوش ہیں اور انھوں نے نواز شریف کو رائیونڈ کا سیاستدان قرار دیا ہے۔ پی پی رہنما (ن) لیگ پر تنقید کر رہے ہیںمگر انھیں خواجہ آصف کے بیانات پر اعتراض ہے جو اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان سب اچھا نہیں ہے اور پیپلز پارٹی میں مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں پر تنقید بڑھ رہی ہے مگر صدر زرداری خاموشی سے یہ متنازعہ بیانات کا اثر دیکھنا چاہتے ہوں گے۔