کیا آپ بھی بھولنے کی عادت کا شکار ہیں؟ یہ غذائیں یادداشت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں

دماغ کو صحت مند رکھنے کےلیے اومیگا تھری، اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن ای اور دیگر غذائی اجزا اہم کردار ادا کرتے ہیں

کم زور یادداشت کو بہتر بنانے کی تدبیر کریں۔ فوٹو: فائل

یادداشت کمزور ہونا یا روزمرہ کی باتیں بھول جانا صرف بڑھتی عمر کا مسئلہ نہیں، بلکہ خوراک بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق انسانی دماغ جسم کی مجموعی توانائی کا تقریباً 20 فیصد استعمال کرتا ہے، اس لیے اس کی بہتر کارکردگی کے لیے متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک بے حد ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ کو صحت مند رکھنے کے لیے اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن ای اور دیگر غذائی اجزا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ اجزا دماغی خلیات کی حفاظت، ان کی مرمت، خون کی بہتر روانی اور عمر بڑھنے کے ساتھ ہونے والی دماغی کمزوری کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مناسب غذا کو یادداشت بہتر رکھنے کی بنیادی شرط قرار دیا جاتا ہے۔

چکنائی والی مچھلی، جیسے سالمن، سارڈین اور میکریل، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کا بہترین ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اومیگا تھری دماغی خلیات کی بیرونی جھلی کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے، جس سے اعصابی خلیات کے درمیان رابطہ بہتر ہوتا ہے۔ بعض تحقیقی مطالعات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جن افراد کے جسم میں اومیگا تھری کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، ان کے دماغ میں خون کی روانی اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نسبتاً بہتر دیکھی گئی۔

ڈارک چاکلیٹ بھی دماغ کے لیے مفید غذاؤں میں شامل کی جاتی ہے۔ اس میں موجود کوکو فلیونائڈز طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں، جو دماغی خلیات کو آکسیڈیٹو تناؤ سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اجزا یادداشت، سیکھنے کے عمل اور دماغی کارکردگی سے متعلق حصوں میں خون کی روانی بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بیریز، خصوصاً بلیو بیریز، اسٹرابیری اور بلیک بیریز، بھی اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں۔ غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں موجود قدرتی مرکبات دماغ میں سوزش کم کرنے اور خلیات کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، جس سے طویل مدت میں یادداشت اور ذہنی صلاحیت برقرار رکھنے میں فائدہ ہو سکتا ہے۔

میوے اور بیج بھی دماغی صحت کے لیے نہایت مفید سمجھے جاتے ہیں۔ اخروٹ، بادام، السی اور سورج مکھی کے بیج اومیگا تھری، صحت بخش چکنائی اور وٹامن ای سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وٹامن ای دماغی خلیات کو فری ریڈیکلز کے نقصان سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے بڑھتی عمر کے ساتھ یادداشت میں آنے والی کمی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔

غذائی ماہرین مکمل اناج، جیسے براؤن رائس، جو، گندم، ہول ویٹ روٹی اور ہول گرین پاستا کو بھی دماغ کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہیں۔ یہ غذائیں توانائی بتدریج فراہم کرتی ہیں، جس سے دماغ کو مسلسل ایندھن ملتا رہتا ہے اور توجہ برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان میں موجود وٹامن ای بھی دماغی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔

کافی پینے والوں کے لیے بھی اچھی خبر ہے۔ ماہرین کے مطابق معتدل مقدار میں بلیک کافی پینے سے کیفین دماغ میں نیند پیدا کرنے والے کیمیائی مادے ایڈینوسین کی سرگرمی کو کم کرتی ہے، جس سے چوکنا پن اور توجہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ بعض تحقیقی جائزوں میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ مناسب مقدار میں کیفین دماغ کی معلومات پر عمل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتی ہے، تاہم اس کا زیادہ استعمال بے خوابی اور دیگر مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی ایک غذا یادداشت بڑھانے کا معجزاتی علاج نہیں، بلکہ متوازن خوراک، مناسب نیند، باقاعدہ ورزش، ذہنی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی مل کر دماغ کو طویل عرصے تک فعال اور یادداشت کو بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Load Next Story